بریکنگ نیوز

درست مقدمہ غلط دلیل

IMG_20180527_231241.jpg

تحریر ثاقب ملک

ہمارے اہل فکر، دانشواران، کالم نگاروں، لکھاریوں میں یہ جراثیم بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں کہ وہ بظاہر درست بات کے جواز پر غلط دلیل دے رہے ہوتے ہیں. غلط، متعصب، ظلم اور ظالم کی حمایت میں دلائل کے انبار لگانے والے تو بہت سے ہیں اور سامنے ہیں. لیکن یہ اس قسم کی سقم زدہ دانشوری کے مریض خود ہی اپنے مرض سے یا تو لاعلم ہوتے ہیں یا ہمت و جرات کی کمی کی وجہ سے واضح اور درست دلیل پر مبنی سچ بولنے سے پرہیز کرتے ہیں. دو اہم ترین مثالیں پیش کرتا ہوں.

” مقدمہ :جمہوریت”

جمہوریت، جمہور یعنی عوام سے ہے. اسکے بغیر جمہوریت کا کوئی تصور حقیقی جمہوریت نہیں ہوسکتا. لیکن کیونکہ ہمارے دانشوروں کو جمہوری ہیضہ مغرب سے درآمد شدہ فکر کے بچے کھچے گندے انڈوں سے ملا ہے اس لئے انہوں نے صرف جمہوریت کی اندھا دھند حمایت کو ہی اپنا مقصد اولین قرار ٹھہرایا ہے. چونکہ اکثر ایسے دانشور پاکستان میں رائج جمہوریت جو اصلی جمہوریت کی دور کی کزن بھی نہیں لگتی، اس سے مالی اور سماجی طور پر بھرپور استفادہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں، یوں حقیقی جمہوریت کے بجائے اسکے جعلی مظاہر پر تالیاں پیٹ پیٹ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کاوشیں کرتے رہتے ہیں.

مثلاً الیکشن کروانا ہی جمہوریت کی معراج ٹھہری. حالانکہ تقریباً نصف لوگ الیکشن میں حصہ نہیں لیتے. جو لیتے ہیں ان میں سے نصف بھی آزادانہ ووٹ دینے کی آزادی سے محروم ہوتے ہیں. جو باقی بچ گئے ان میں سے ایک تہائی ووٹ لینے والی پارٹیاں اقتدار پر قابض ہوجاتی ہیں. پھر الیکشن میں عام آدمی کھڑا ہی نہیں ہوسکتا. اسکے لئے کوئی قرضہ، کوئی سرکاری ملازمت سے پیڈ چھٹی، کسی تحفظ کا کوئی تصور کہیں موجود نہیں. مگر ہمارے جاہل دانشور تالیاں پیٹنے کو ترجیح دیتے ہیں.

بھلا یہ جمہوریت کہی جانے کے لائق مشق ہے؟

اس جیسی مزید کئی مثالیں ہیں. مختصراً سیاسی پارٹیوں میں عام آدمی کی عدم موجودگی، پارلیمنٹ میں عدم شمولیت، وغیرہ. لیکن یہاں جمہوریت پر سوال کرنا بھی گناہ ہے. انتقال اقتدار کو خدائی تقدس دینے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ زمانے کا جبر زیادہ ہے. ورنہ غیر جمہوری معاشروں روس میں دوران کمیونسٹ دور، پرامن انتقال اقتدار بغیر الیکشن ہوا، یہی کچھ پیچھلے ستر برس سے چین میں ہورہا ہے. مگر مجال ہے پورا سچ بولا جائے. یہ فکری بغض و قبض کے شکار ذہن بھول جاتے ہیں کہ مصر اور لیبیا میں الیکشن بھی ہوئے اور ریفرنڈم بھی مگر عوام نے انتقال اقتدار کہیں نہیں دیکھا، وہی چہرے چالیس پچاس برس قابض رہے.

کیا ہمارے وطن میں ہمیشہ سے یہی نہیں ہوتا آیا؟ صرف اشرافیہ کا قبضہ اور پچھلے تیس برس سے تو چہرے بھی نہیں بدل رہے. صرف فوجی ڈکٹیٹرز کے چہرے بدلے مگر حقیقت میں وہ سب ایک ہی چہرے کے نمائندے تھے اور ہیں.

پھر الیکشن کے تسلسل کو جمہوریت کی نماز بنا دیا. یہ ادھورا سچ ہے. فیئر اینڈ فری الیکشن جمہوریت کی بنیاد ہے جو اس ملک میں کبھی ہوا ہی نہیں. اسکے لئے کتنے اقدامات ہوئے یہ باتیں عوام کو معلوم ہیں. اگر معلوم نہیں تو ان جہلاء کو نہیں معلوم.

” مقدمہ : پاک فوج پر تنقید”

بے شک فوج پاکستان کی بقا کے لئے لازم ہے. اسکے خلاف نفرت پھیلانا کسی بھی اہم ترین ادارے کی طرح اور ملک میں فتنہ پھیلانے کے مترادف ہونا چاہئے. لیکن بے بیچارے گھبرائے ہوئے یہ لوگ جو، اسٹیٹس کو کے راتب پر پلتے ہیں یا اپنی سادگی اور محبت میں پاک فوج کے جرائم کو بھی کور دینے والا یہ نان اینٹیلیجنسیا طبقہ پاکستان فوج کو کسی مقدس کتاب کی طرح دل و دماغ میں بسائے رکھتا ہے.

ان لوگوں کو علم ہی نہیں یا سمجھ نہیں یا یہ مکمل سچ بولنے کی اہلیت سے محروم ہیں کہ ریاست اور وطن میں فرق ہوتا ہے. وطن ہمارا پاکستان ہے. فوج اسکی حفاظت کرنے والا ادارہ ہے جس کے بغیر ملک برقرار نہیں رہ سکتا مگر اسی فوج کی ایلیٹ ہماری ریاست کا مضبوط ترین حصہ بھی ہے اور تنقید اسی پر زیادہ ہوتی ہے.

ریاست حکومت ہوتی ہے اور پاک فوج کی اشرافیہ اسکا لازمی جزو ہے. اس پر تنقید کو تروڑ مروڑ کر شہید ہونے والے جوانوں اور افسران پر تھوپ دینا صریحاً بدنیتی اور حقائق مسخ کرنا ہے. انتہائی قلیل تعداد شاید ایسا کرتی ہو. لیکن اسکو “کل” بنا کر پیش کرنا دراصل جبر کو اسپورٹ کرنا ہے اور اشرافیہ کے جاہلانہ اور ظالمانہ فیصلوں کی ننگی حمایت ہے. ساتھ جائز تنقید کرنے والوں کو بھی غیرملکی فنڈنگ کے ساتھ بریکٹ کر دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ طبقہ طاقت ور سے خائف ہے یا اس ادارے کی محبت میں جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے.

محبت جہالت کی دلیل نہیں بن سکتی. بت پرست بھی خدا کی محبت میں بت تراشتےتھے.

یہ کہنا کہ یہ نازک وقت ہے تنقید نہ کی جائے یہ جملہ ہی اشرافیہ کی ناکامی کی دلیل ہے. آخر یہ نازک وقت کیوں ہے؟ اور یہ ہمیشہ سے کیوں ہے؟ کیا اشرافیہ اسکی ذمہ دار نہیں؟ کیا پاک فوج کی اشرافیہ اسکی کی کم از کم جزوی ذمہ دار نہیں؟

پھر تنقید کیوں نہ کی جائے؟

یہ کہنا کہ پاک فوج اندرونی و بیرونی خطرات کا شکار ہے اور اسکے کئی محاذ ہیں اس لئے تنقید والے منہ بند کر لیں. تو جناب فوج کا کام تو سرحدوں کی حفاظت ہے آور اسکا یہی محاذ ہونا چاہئے تھا. آگر ایسا نہیں ہے تو یہ حدود کراس ہونے کا محاسبہ تو ہوگا. پھر واویلا کیوں؟

کیا صرف تنقید سے، جائز یا ناجائز پاک فوج جیسے ادارے کو کوئی فرق پڑنا چاہیئے؟ کیا یہ بہانہ نہیں؟ کیا امریکہ کو گالیاں دینے سے امریکہ ٹوٹ گیا؟ سی آئی اے پر ساری دنیاتنقید کرتی ہے کیا وہ تباہ ہوگئی؟ امریکہ کے اندر شدید ترین تنقید ہوتی ہے کیا جوانوں کا مورال فوج کے سیاسی فیصلوں پر تنقید سے برباد ہوجائے گا؟ جوان تو عوام ہیں وہ اشرافیہ نہیں ہیں.

ہم نے جان بوجھ کر اپنے اپنے تعصبات اور مفادات کے لئے جعلی جمہوریت اور اشرافیہ کو شہادت کے پردے میں مقدس بنا کر کھڑا کر دیا ہے.

نفرت اور غیرملکی سرمایہ پر چلنے والی تنقید کو پکڑ کر سامنے لائیں اور لوگوں کے جائز سوالات کا جواب دیں.

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ