بریکنگ نیوز

غربت سے امارت کی جانب: جنوب مشرقی چین میں ایک ماہی گیری گائوں کا دورہ

pic-1.png

(خصوصی رپورٹ):۔ ماضی میں ہم سمندر پر تیرتی کشتیوں میں رہتے تھے لیکن آج ہم اطمینان اور امن کیساتھ زمین پررہتے ہیں اور کام بھی کرتے ہیں، یہ وہ الفاظ ہیں جو جنوب مشرقی چین کے صوبے فوجیان میں فوآن شہر ژیپی گائوں کے ایک چوک پر آویزاں تھے جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس گائوں کے مقامی لوگ حالیہ چند برسوں میں کن ڈرامائی تبدیلیوں سے گزرے ہیں ،ماضی میں یہ لوگ کئی نسلوں سے کشتیوں پر زندگی گزارنے پر مجبور تھے اسی وجہ سے ان لوگوں کو سمندری خانہ بدوش بھی کہا جاتا رہاہے، ایک مستقل رہائش نہ ہونے کے باعث اس علاقے کے لوگ نسل در نسل ایک مخدوش کشتی میں زندگی گزار دیتے اور کشتی کو ایک کے بعد ایک نسل استعمال کرتی رہتی، اس گائوں سے تعلق رکھنے والے سی پی سی کے سیکرٹری جنہوں نے اپنا بچپن ایک ایسی ہی کشتی پر گزارا اور کشتی کا دھانہ ہی انکا مجموعی گھر اور ورکشاپ تھا، لئیو نے اس حوالے سے اپنی یادداشتیں بانٹتے ہوئے کہا کہ ہم گھر کے کل آٹھ لوگ تھے اور ہماری کشتی ہمہ وقت لہروں پر ڈھولتی رہتی، اور ہمارے لیے یہ ایک خواب ہی کی صورت تھا کہ ہم کبھی سکون کیساتھ زمیں پر سو سکیں ، اس کے علاوہ چونکہ ہمارے پاس رہنے کو کوئی مستقل ٹھکانہ موجود نہیں تھا جس کے باعث بچوں کی تعلیم کا کوئی زریعہ نہیں تھا اور گھر کے بڑے افراد کے پاس کوئی انشورنس نہیں تھی اور نہ ہی ان حالات میں ہمارے پاس کوئی میڈیکل کی سہولت میئسر تھی اس طرح سے 1960کی دہائی تک لئیو اور ان جیسے بہت سے خاندانوں کے لیے یہ کسی طور ممکن نہیں تھا کہ وہ سمندر سے دور پر سکوں انداز میں خشکی پر رہائش اختیار کر سکیں اور 1990کی دہائی سے صوبائی حکومت کی جانب سے انتھک کوششیں جاری رکھیں گئی اور ماہی گیر ان خاندانوں کی فلاح کے حوالے سے بہت سے منصوبے شروع کیئے گئے تاکہ ان لوگوں کو ایک نئی جگہ پر آباد کیا جا سکے۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے سنجیدگی سے کوششیں جاری رکھی گئی اور ان لوگوں کی آباد کاری کے لیے انہیں مفت زمین فراہم کی گئی اس کے علاوہ دگر ضروریاتِ زندگی، روڈز، رہائشی انفرا سٹرکچر، ٹی وی ، ریڈیو، مواصلات اور دیگر سہولتوں کے حوالے سے اسبسڈی فراہم کی گئی۔اس طرح سے چند سالوں میں ان 349گھرانوں کے ڈیڑھ ہزار کے قریب لوگوں نے نئی جگہوں میں رہائش اختیار کی اور 2013کے اختتام تک ان لوگوں نے اپنی تیرتی زندگی کو خیر آباد کہا اور بقیہ 137گھرانے میں خشکی پر مکمل سکونت اختیار کی۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو جس چیز نے ان لوگوں کو نئی جگہ پر سکونت اختیار کرنے پر مجبور کیا وہ بہتر معیارِ زندگی کی خواہش تھی، اس حوالے سے اس ژیپی گائوں کے باسیوں نے سمندری معیشت سے استعفادہ حاصل کرتے ہوئے ایک جدید کمیونٹی کی بنیاد رکھی جس کی نمایاں خصوصیات میں ایکوا کلچر، سمندری خوراک سے متعلق کاروبار اور سمندری نقل وحمل شامل تھے ، 2017تک ان لوگوں کی سالانہ فی کس آمدنی 18756یوآن تک جا پہنچی تھئی جو 1990 میں محض 850یوآن تک محدود تھی۔ اس حوالے ژیپی گائوں کے ایک مقامی رہائشی لئیو ڈیرن نے کہا کہ جدید الیکٹرک اپلائنسیز کے ساتھ بڑھے گھروں میں رہتے ہوئے ہم لوگ ایک پر تعیش زندگی بسر کر رہے ہیں ، ہم آج اپنی زندگی سے مطمئن ہیں ، مزید حکومت کی جانب سے پیدارواری اضافے کے حوالے سے ٹریننگ اور تربیت کا سلسلہ بہت مثبت ہے اور اپنے گھر کو دکھاتے ہوئے بولا آج ہم ایک مختلف اور بہتر زندگی کی جانب گامزن ہیں ۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ