بریکنگ نیوز

کالا باغ ڈیم سماعت:اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے میں کردار ادا کرے گی، چیف جسٹس

185617_4700009_updates.jpg

کراچی: چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت پاکستان میں بحث کالا باغ ڈیم کی نہیں کر رہے، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہوگی لیکن 4 بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی، عید کے بعد سپریم کورٹ کا لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا، ماہرین تجاویز دیں بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں جس میں اعتزاز احسن اور دیگر ماہرین کی خدمات لیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے ملک میں ڈیمز کس طرح بنائے جائیں، آپ سفارشات دیں ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قانون بنانے کی صلاحیت ملک میں ختم ہو چکی ہے، لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو سفارش کی جاسکتی ہے، قوم اختیار دے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خود نمائی کرنے والے لوگ نہیں چاہییں، سیمینار کے ذریعے پہلا قدم اٹھائیں گے جس کا آغاز کراچی اور سندھ سے کریں گے۔

کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں، سابق چیئرمین واپڈا

دوران سماعت سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پانی کی قلت کیسے پوری کریں جس پر انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اسی تنازع کے بعد واپڈا کی چیئرمین شپ سے استعفا دیا تھا۔

ظفر محمود نے کمرہ عدالت میں پروجیکٹر کے ذریعے کالا باغ ڈیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کی تبدیلی پر پاکستان میں سیلاب آنا شروع ہوئے، گلیشیر تیزی سے پگھلنا شروع ہو چکے ہیں۔

سابق چیئرمین واپڈ نے کہا کہ بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر قبضہ کرلیا ہے اور انڈس واٹر معاہدے سے بھی خطرات ہو چکے ہیں، جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے جب کہ بھارت کے ڈیمز میں تکنیکی طور پر زیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔

ظفر محمود نے کہا کہ ڈیمز بنانے سے متعلق ہم نے کوتاہی کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتوں کو ان کا ادراک نہیں رہا جس پر ظفر محمود کا کہنا تھا کہ تمام حکومتیں ہی اس مجرمانہ غفلت کی ذمے دار ہیں، بھارت تسلسل کے ساتھ پانی بند کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ اس حوالے سے ہمیں مزید تنگ کرے گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زندگی کے لیے سب سے زیادہ پانی کی اہمیت ہے، یہ بتائیں عدالت اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔

سابق چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جا چکا بحالی میں 200 سال لگیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا تو لوگوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی۔

ظفر محمود نے کہا کہ لوگوں میں پانی کے استعمال اور بچت پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے، صنعتی ماحول سے زیر زمین پانی بھی خراب ہو رہا ہے، صنعتوں سے متعلق کوئی مربوط پالیسی نہیں، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معلوم ہے صنعتیں فضلہ صاف کرنے کے بجائے نالوں میں پھینک رہی ہیں، لاکھوں گیلن گندا پانی سمندر میں جا رہا ہے جس پر ظفر محمود نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ صنعتی فضلے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں۔

چاروں صوبوں کے عوام نے کالا باغ ڈیم کو خطرہ قرار دیا، ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ
سماعت کے دوران مجیب پیرزادہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازع ہو چکا ہے اور چاروں صوبوں کے عوام نے اس ڈیم کو خطرہ قرار دیا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں، ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابو پایا جاسکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کل پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے، پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے، پرویز مشرف آئے اور قانون کا سامنا کرے، کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔

ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پانی کے بحران اور قلت پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کالا باغ ڈیم کا نام جہاں آتا ہے تو تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔

وعدہ کرتا ہوں ایسا کوئی حکم نہیں ہوگا جس سے کوئی فریق متاثر ہو، چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں سپریم کورٹ کوئی ایسا حکم نہیں دے گی جس سے کوئی فریق متاثر ہو، جہاں تنازع ہو اور 4 بھائی متفق نہیں تو متبادل حل نکالیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم آنے والی نسل کو اچھا مستقبل دے کر جائیں گے جس پر ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اچھے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے، ہم جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں توڑنے کے لیے نہیں بیٹھے۔

سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے کئی حل موجود ہیں اور کئی منصوبے ہیں جس میں سمندر کا پانی میٹھا بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کی حکومت تو سندھ میں 10 سال سے ہے مجھے ایک ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں آیا، یہ منصوبے تو کاغذ پر تھے ہم نے نوٹس لیا تو کام شروع ہوا۔

درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے عدالت سے استدعا کی کہ کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنڈم عدالت نہیں وفاقی حکومت کراسکتی ہے، ہمارے لیے آئین سپریم ہے اور آئین کا احترام سب کو کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی متعلق درخواست پر سماعت ملتوی کردی جب کہ آئندہ سماعت پر شمس الملک سے بریفنگ کی جائےگی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ