بریکنگ نیوز

میرا سکول

23243d22-2b78-493b-8050-75c30d2700cb.jpg

تحریر شکیل ملک

میرا سکول شہر میں تھا لیکن اس میں شہر کے بچے اکا دکا پڑھتے تھے۔ طلبا کی کثیر تعداد اردگرد کے دیہات سے آتی تھی۔ ذیادہ تر طلبا سکول اس لئے آتے تھے کہ انہیں بھینسوں کا گوبر نہ اٹھانا پڑے۔ ہل نہ جوتنا پڑے۔ فصل نہ کاٹنی پڑے۔ بکریاں نہ چرانا پڑیں۔ ہمارے سکول میں اساتذہ کے لئے کبھی دیسی انڈوں، دیسی مرغیوں اور دیسی گھی کی کمی نہیں ہوئ۔ زبیر جو کاپی کو کانپی کے نام سے موسوم کرتا تھا کبھی کبھی درجن بھر انڈے لاتا اور ماسٹر فضل صاحب کو پیش کر دیتا۔ ان انڈوں نے اس کی ڈنڈوں سے جان چھڑوا دی تھی۔ زبیر کانپی میتھیمیٹکس کے پیریڈ میں اس دقیق مضمون کے نام سے ہی کانپنا شروع کر دیتا۔ اس کا خیال تھا کہ ریاضی پڑھانا طلبا کے کچے ذہنوں کو کنفیوز اور برباد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بچوں کو سازشوں پہ اکساتا ہے۔ یہ واحد مضمون ہے جس کی عملی زندگی میں صرف دوکاندار ں کو ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے لئے بھی مارکیٹ میں کیلکولیٹر آگئے ہیں۔ ذراعت پیشہ افراد کو صرف اس حد تک ریاضی کی ضرورت پڑتی ہے کہ جب وہ اجناس لیکر آڑھتی کے پاس جاتے ہیں تو وہ ایسا حساب لگاتا ہے جس کا ذکر کتابوں میں نہیں ملتا۔ اس لئے زبیر کانپی نے ریاضی پہ ہرگز توجہ نہیں دی۔ جب میٹرک میں اس کی ریاضی میں ہی کمپارٹمنٹ آگئ تو اس نے دوبارہ امتحان دینے کا ارادہ یکسر ترک کر کے شہر کے آغاز میں اجناس کی دوکان کھول لی۔ آج کل وہ کم ازکم نو ڈیجٹ والے کیلکولیٹر پہ حساب کتاب لگا رہا ہوتا ہے۔ حال ہی میں اس کی آڑھت کی دوکان پہ ہماری ملاقات ہوئ۔ ہم نے پوچھا اب حساب کتاب کا کیا کرتے ہو تو انہوں نے فرمایا کہ سب کچھ کانپی پہ لکھ لیتا ہوں۔
سکول ایک ایسی عمارت میں تھا جس میں کسی زمانے میں گھوڑے باندھے جاتے تھے۔ تاہم اب بھی سکول کے ہمسائے میں گدھے موجود تھے۔ چھوٹے چھوٹے گھروں کے باہر درجنوں گدھے باندھے نظر آتے جن کے مالکان سارا دن ان پہ ریت بجری ڈھوتے۔اظہر جٹ صاحب جب کسی طالب علم سے ذیادہ ناراض ہوتے تو یا اسے ان گدھوں سے تشبیہ دیتے یا ان میں سے کسی ایک پہ بٹھانے اور گھمانے کا عندیہ دیتے۔ سکول کا لان کچا تھا۔ کمروں کی چھتیں شہتیر کی تھیں۔ جب ہم ساتویں میں تھے تب چند کمرے گرنے کے قابل ہو چکے تھے۔ ہمارے اسلامیات کے استاد محترم جناب اظہر جٹ صاحب نے مستری کے فرائض سنبھالے اور ہماری کلاس نے مزدوری کا منصب اپنایا۔ ایک سابقہ طالبعلم نے اپنے اینٹوں کے بھٹے سے مطلوبہ تعداد میں اینٹیں اور چوکے بھیج دئے۔ ہم نے لان میں جٹ صاحب کی نگرانی میں اینٹوں کا فرش بچھایا۔ اسی طرح جٹ صاحب نے ضرورت کے مطابق چھت تبدیل کر دئے۔ سکول مرمتوں کے بعد نیا لگنے لگا۔ بعد ازاں ہم سوچتے تھے کہ اگر جٹ صاحب نہ ہوتے تو سکول کب کا گر گیا ہوتا۔
ہمارے سینئر طلبا میں کچھ ایسے طالبعلم تھے جو سکول آتے تو تھے لیکن ذہنی طور پہ کبھی بھی موجود نہیں رہے۔ ایسے طلبا کا سرغنہ خان افضل خان تھا۔ ہمیں یاد نہیں ہے کہ خان افضل نے کبھی سبق سنا دیا ہو یا کتاب سے دیکھ کر ہی کچھ پڑھ دیا ہو۔ خان افضل صبح سویرے اپنی بھینسوں کا دودھ دوھتا اور پھر سائیکل کے دونوں طرف ڈبے لٹکا کر گھر گھر دودھ دیتا۔ ہم نے ایک بار اس سے دودھ لیا تو پسند نہیں آیا۔ ہم نے پوچھا کیا دودھ میں پانی ڈالتے ہو۔ خان افضل نے قسم اٹھاتے ہوئے بتایا کہ وہ ہر گز دودھ میں پانی نہیں ڈالتا۔ ہاں پانی میں دودھ ڈال لیتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اوّل لذکر شریعت میں بھی منع ہے اور ملکی قانون میں بھی اس کی ممانعت ہے لیکن موخر الذکر کے بارے میں دونوں خاموش ہیں۔ خان افضل اسی سائیکل پہ سکول آتا۔ اس کے کپڑوں سے بھینسوں کے گوبر کی بو آتی تھی۔ خان افضل جماعت نہم کی گھاٹی عبور نہ کر سکا۔ اطلاعات ہیں کہ آجکل اس کا تقریباً سو بھینسوں کا باڑہ ہے لہذا اس کے گھر دودھ کے نہریں بہتی ہیں۔ سو بھینسوں کے دودھ کو جب پانی میں ڈالتا ہے تو بڑے ڈرم بن جاتے ہیں۔
سلامت اور کرامت دو بھائ تھے۔ یہ چیچہ وطنی کے رہنے والے تھے۔ ان دونوں بھائیوں میں ویسے تو تمام قدریں مشترک تھیں لیکن ایک ضد موجود تھی۔ سلامت جتنا عقلمند اور ذہین تھا کرامت اتنا ہی بے وقوف اور غبی تھا۔ سلامت اگر کلاس میں 05 نمبر پہ آتا تھا تو کرامت زیرو کو دائیں جانب لگا کر نتیجہ دیتا تھا۔ سلامت چھوٹا تھا بڑی باتیں کرتا تھا۔ کرامت بڑا تھا چھوٹی باتیں کرتا۔ یہ دو بھائ ہر جگہہ اکٹھے پائے جاتے۔ سکول کی کبڈی کی ٹیم بنی جس کے نگران اظہر جٹ صاحب تھے۔ سکول میں کوئ گراؤنڈ نہیں تھا تاہم کچھ فاصلے پہ چند کھیت ایسے تھے جن پہ مالکان نے ہل چلانا بند کر دیا تھا۔ ہمارے گھر کے قریب ہونے کی وجہ سے وہی ہمارا کھیل کا میدان تھا اور وہیں ہم پتنگیں اڑایا کرتے۔ سلامت کرامت بھی ٹیم میں شامل تھے۔ جٹ صاحب کی نظر نہ جانے کیسے ہم پہ پڑ گئ کہ انہوں نے ہمیں بھی کبڈی کی ٹیم میں شامل کر لیا۔ ہمارے ایک سینئر قدوس شاہ تھے جنہیں ٹیم کا کپتان بنا دیا گیا۔ شاہ جی اتنے پھرتیلے تھے کہ دوڑ کر فضا میں دو قلابازیاں لگاتے اور زمین پہ کھڑے ہوجاتے۔ اسی کرتب کی وجہ سے وہ سارے سکول کے ہیرو تھے۔ شاہ جی ہماری پرائمری کی ہیڈ مسٹریس کے بھائ بھی تھے۔ چند دن کی پریکٹس کے بعد ہم سب خود کو پنڈی کی ناقابل تسخیر کبڈی ٹیم سمجھنا شروع ہوگئے۔ راولپنڈی لیاقت باغ میں اسلامیہ سکول میں مقابلے شروع ہوئے۔ ہماری ٹیم بھی پہنچی۔ باقی ٹیموں کو دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم خود کو بغیر کسی تقابل کے ناقابل تسخیر ٹیم سمجھتے رہے۔ دراصل ہماری قومی عادت ہی یہی ہے کہ چیزوں کو تقابلی تناظر کے بغیر ہی دیکھتے ہیں اور فیصلہ کر لیتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہمیں یقین تھا کہ شاہ جی آج کچھ کر گزریں گے۔ ہماری ٹیم کی باری آگئ۔ سب سے پہلے شاہ جی چلے گئے ہم خوش ہوئے کہ ابتدا میں ہی پوائنٹ لیں گے۔ شاہ جی جس اچھلنے کے انداز میں کوڈی کوڈی کرتے گئے اسی انداز میں پکڑے گئے۔ مخالف ٹیم کے ایک کھلاڑی نے اچھل کر ان کی ٹانگوں میں قینچی لگائ جس سے شاہ جی گرے اور اس نے انہیں دبوچ لیا۔ واپس آکر شاہ جی نے سلامت کو بھیجا۔ اب جو کام سلامت کرتا تھا وہی کام کرامت کرتا۔ کرامت بھی پیچھے بھاگتا گیا اور مخالف ٹیم میں داخل ہوگیا۔ اس ٹیم نے دونوں کو چاروں شانے چت گرا لیا۔ تماشائ نہ صرف تالیاں بجا رہے تھے بلکہ گلے پھاڑ پھاڑ کر ہم پہ ہوٹنگ کر رہے تھے۔ شاہ جی نے کرامت کو سخت ڈانٹا کہ وہ سلامت کے پیچھے کیوں گیا یہ تو ویسے فاؤل تھا۔ اس نے کہا میں بھائ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ اس کے بعد شاہ جی نے ہمیں جانے کا اشارہ کیا۔ اچانک ہمارے قدم من من کے ہوگئے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔ ہم ایک دھان پان انسان تھے۔ کبڈی کے لئے ہرگز موزوں نہ تھے۔ نہ جانے بٹ صاحب کو کیا سوجھی تھی کہ ہمیں کبڈی کی ٹیم میں شامل کر دیا۔ اسی خیال میں ہمیں پتہ نہیں چلا کہ دشمن کے نرغے میں آگئے۔ کسی نے ہماری ٹانگوں میں جو قینچی ماری اور ہم اوندھے منہ زمین پہ گرے۔ اس پہ ہمیں صرف ہوٹنگ کا شور سنائ دیا۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر اپنی ٹیم میں پہنچے۔ اس کے بعد باقی کھلاڑی ہمارے نقش قدم پہ چلتے ہوئے سات منٹ میں سارے آؤٹ ہوگئے۔ یہ سارا مقابلہ کوئ دس منٹ کا تھا۔ جب ٹورنامنٹ ختم ہوا اور ساری ٹیم واپس روانہ ہوئ تو جٹ صاحب سب سے ہاتھ ملاتے ہوئے شاباش دی کہ ڈٹ کر مقابلہ کیا حالانکہ مخالف ٹیم بہت مضبوط اور تجربہ کار تھی۔ اس کے بعد کبھی ہمارے سکول کی ٹیم نے کسی کھیل کے مقابلے میں حصہ نہیں لیا۔ ہم نے بعد ازاں مقابلہ حسن قرآت میں حصہ لینا شروع کر دیا کیونکہ سکول میں قرآن پاک پڑھانے والے مولانا اللہ بخش مرحوم کا خیال تھا “ او بے سرے! تم قرآت اچھی کر لیتے ہو”۔ مولوی صاحب ہر ایک کو بے سرا کہتے تھے اس لئے ہمیں سمجھ نہیں آئ کہ انکے جملےکا پہلا حصہ ٹھیک ہے یا اگلا حصہ درست ہے۔ تاہم ہم نے دوسرے حصے کو لیا۔ لیکن ایسے مقابلوں میں بھی ہمارا سکول سب سے آخر میں آتا تھا۔
ہماری کلاس میں بگا بھی زیر تعلیم تھا۔ اس کے چہرے پہ پیدائشی سرخ داغ تھے۔ اردو کے استاد راجہ جی اپنی نستعلیقیت اور نرگسیت کی وجہ سے اس سے نالاں رہتے۔ ان کے کلاس میں آنے پہ اگر وہ سامنے موجود ہوتا یا آگے بیٹھا ہوتا تو ان کا موڈ سخت آف ہو جاتا۔ وہ کہتے “ منحوس تم کہاں میرے سامنے آگئے ہو۔ کلاس کا مزا ہی کرکرا کر دیا ہے۔ میں بہت خوش اور رومانوی موڈ میں تھا لیکن تمہیں دیکھ کر میرا موڈ تباہ ہو گیارہ۔” وہ کہتا سر میں پیچھے چلا جاتا ہوں۔ “ اوئے منحوس اب تیرا پیچھے جانے کا کیا فائدہ۔ تو نے میرے ساتھ جو کرنا تھا کر دیا۔ اب میں نے خاک پڑھانا ہے؟ سب کچھ ذہن سے نکل گیا ہے اور تیری شکل نقش ہوگئ ہے۔” اس کے بعد راجہ جی کا مسلسل موڈ آف رہتا۔ اس دن وہ واقعی کچھ نہ پڑھاتے۔ کلاس کو کہہ دیتے کہ ہوم ورک کر لیں۔ بگے نے یوں ہمارے کئ پیریڈ اپنے دیدار سے ضائع کروائے۔ کلاس کو بھی گر مل گیا تھا کہ جب پڑھنے کا موڈ نہ ہو بگے کو سامنے بٹھا دیتے۔ بس اس کے بعد راجہ چھت سے لگے ہوتے اور جو منہ میں آتا کہتے چلے جاتے۔ ہمارے لئے انکی یہ باتیں حظ کا باعث تھیں۔
ہم نے چھٹی جماعت میں انگریزی شروع کی تھی۔ چار لکیری کاپی پہ استاد محترم سکھاتے تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ انگریزی کے آر کو دو طرح کیوں لکھا جاسکتا ہے۔ پھر یہ کیا وجہ ہے کہ بعض حروف درمیان والی دو لکیروں میں لکھے جاتے ہیں اور بعض اوپر والی تین لیکروں میں لکھے جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی سمجھ نہ آتی کہ کیو اور جی وغیرہ نچلی تین لکیروں میں کیوں لکھے جاتے ہیں۔ بالآخر استاد محترم نے سمجھایا کہ انگریزی کے حروف ایک تین منزلہ مکان میں رہتے ہیں۔ جو کمزور ہیں ان کے پاس صرف درمیانی منزل کا قبضہ ہے۔ جو ان سے کچھ بہتر ہیں وہ اوپر کی دو منزلوں پہ ہیں۔ جو سب سے طاقتور ہیں اور ایسے لوگ بھی کم ہوتے ہیں اسی طرح حروف بھی کم ہیں ان کے پاس نچلی دو منزلوں کا قبضہ ہے۔ اس بات کی ہمیں سمجھ آگئ اور یوں ہماری انگریزی بھی ٹھیک ہوگئ۔ ساتویں جماعت تک ہم حروف کو مکمل جوڑنا سیکھ چکے تھے۔ جب نویں جماعت میں پہنچے تو سائینس نے ہمارا استقبال کیا۔ واجد مرحوم سائینس کے استاد تھے۔ ہمیں اس سے پہلے ان سے پالا نہ پڑا تھا۔ انہوں نے پہلے دن ہی ہمیں کہا کہ ہم نالائق ہیں اور پیچھے جاکر بیٹھیں۔ آگے صرف ذہین بچے بیٹھیں گے۔ انہوں نے اکرم اور ظہیر کو آگے بٹھا لیا اور ہمیں سب سے پچھلی سیٹ پہ بھیج دیا۔ یقیناً جب استاد ایسے طے کر لیتا ہے تو اسے بلکل سمجھ نہیں آتی کہ اس بات کا اثر طلبا پہ کیسا ہوا ہے۔ ہمیں اس کی وجہ سمجھ نہ آئ کہ انہوں نے ہمیں بغیر ٹیسٹ کئے کیسے نالائق قرار دے دیا۔ تاہم ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ہم نے سائینس پڑھنی ہی نہیں۔ اب تک صرف مسلمان سائینسدانوں کے کار ہائے نمایاں پڑھ پائے تھے۔ اس سے آگے کی سائینس کیا تھی اس سے ہم ساری زندگی نابلد رہے۔ ہم ایک عرصے تک جابر بن حیان کو دنیا کا سب سے بڑا سائنسدان سمجھتے رہے۔ اسی طرح ہمارا خیال تھا کہ ڈارون کی تھیوری دراصل ابن بختیشوح نے پیش کی تھی۔
سائینس چھوڑنے کے بعد ہم واجد مرحوم کی جلی کٹی باتوں سے آزاد ہوگئے۔ جنرل سائینس کے چند غیر سائینسی اسباق ہم نے ازبر کر لئے۔ جنرل میتھیمیٹکس میں نہ ہمیں جیومیٹری سمجھ آئئ اور نہ ہی الجبرا۔ جیومیٹری میں یہ کنفیوژن رہی کہ پر کار کو ایک خاص جگہ پہ کیوں رکھتے ہیں۔ قائمہ، حادہ، منفرجہ اور مستقیم زاوئے ہمارے زاویہ نگاہ سے دور رہے۔ اس زمانے میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ مسلۂ فیثاغورث تھا۔ وتر ماپتے ماپتے وتر کا وقت ہو جاتا اور ہمیں سمجھ نہ آتی۔ بالآخر ہم نے حساب لگایا کہ امتحان میں پانچ سوال نسبت تناسب سے آتے ہیں۔ ہم نے وہ تمام سوالات مع جوابات یاد کر لئے۔ میٹریکولیشن کے امتحان میں پانچ سوال ویسے آگئے اور ہم نے پچاس نمبر حاصل کر لئے۔ ہم پہ محنت انگریزی کے استاد محترم نے کی۔ اس مضمون میں ہم نوے فی صد نمبر لے لیتے تھے۔ میٹریکولیشن کا امتحان ہوا۔ ہم نے اتنے نمبر لے لئے کہ اس سکول میں نہ پہلے کسی نے لئے اور نہ بعد میں کسی کو ملے۔ یوں سکول سے نکلنے کے بعد ہم سکول کے سب سے ہونہار شاگرد قرار پائے۔ استاد محترم واجد مرحوم نے اظہر جٹ صاحب سے سخت گلہ کیا اور ایک عرصے تک ناراض رہے کہ انہوں نے واجد کا ایک ہونہار شاگرد سائینس سے کھینچ لیا تھا۔ کالج پہنچے تو ہمیں سب سے ذیادہ مسرت اس بات پہ تھی کہ میتھیمیٹکس سے جان بخشی ہوئی

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ