بریکنگ نیوز

نظریاتی ورکرز بمقابلہ لوٹے

185357_3322545_updates.jpg

نظریاتی ورکر۔

تحریر : عمران اللہ مشعل۔

جب بھی الیکشن کے دن قریب آتے ہیں تو نظریاتی ورکرز کی ہر طرف بازگشت سنائ دیتی ہے لیکن الیکشن کے فورا بعد ہم بھول جاتے ہے۔

جیسا کہ ہم سب کو پتہ ہے پاکستان کی سیاسی نظام میں نظریاتی ورکرز کی کوئ جگہ نہیں ہے ماسوائے دو جماعتوں کے ایک ایم کیو ایم دوسری جماعت اسلامی۔

ایم کیو ایم کے اوپر گن پوئنٹ پے ووٹ لینے کا الزام ہے لیکن حقیقت یہ بھی ہے انکے نمائندے سب متوسط طبقے سے تعلق اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور انکو کراچی میں ووٹ بھی ملتا ہے ان کے ہاں ٹکٹوں کی تقسیم میں کوئ اختلافات اور پیسوں کا زکر تک نہیں ہوتا ہے اور میرٹ پے نظریاتی ورکرز کو ٹکٹ ملتی ہے۔

دوسری طرف جماعت اسلامی کا یہی طریقہ کار ہے لیکن انکا ووٹ بنک کم ہے آج تک انہوں نے اس بات سے قطعہ نظر ووٹ ملے نا ملے نظریاتی ورکر کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔

جبکہ دیگر جماعتوں میں یہی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تے ہم سب کو پتہ ہے ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے کتنے اخراجات کرنے پڑتے ہے اور ٹکٹوں کے لیے باقائدہ پارٹی میں انوسمنٹ کرتے ہے۔

بد قسمتی سے ہمارا ملک کا نظام ایسا ہے جہاں ایک غریب نظریاتی ورکر الیکشن جیت نہیں سکتا ہے اور عوام بھی ووٹ نہیں دیتی ہے پہلے عوام کو نظریاتی بنانا ہوگی۔

ہم سب کو پتہ ہے بڑی پارٹیوں میں جتنے لوگ ہے سب کتنے امیر ہے بہت کم ایسے لوگ ہونگے جو سیاست میں ہونے کے باجود اپنا آمدن نہیں بناسکے لیکن اکثریت امیروں کی ہے ورنہ تیس تیس سال سے ایک ہی بندے کو ٹکٹ دینے والوں کو اسی حلقے میں دوسرا نظریاتی ورکر نظر نہیں آیا اور جو تیس سال سے ٹکٹ لے رہا ہے وہ کتنا امیر ہے اور اسی کی بنیاد پے ٹکٹ بھی ملتی ہے یہ بھی ہم سب کو بخوبی معلوم ہے
ہم خود امیروں کو ووٹ دیکر منتخب کرتے ہے اور منافقت سے نظریاتی ورکر کی بات کرتے ہے۔
جی نظریاتی ورکرز کی حوصلہ افزائ ہوئ چاہیے انکی عزت نفس اور احترام میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونک چاہیے جبکہ اگر الیکشن میں عوام کی اکثریت انکی طرف نہیں ہے تو ضروری نہیں ٹکٹ انکو ہی دی جائے جس سے پارٹی ہار جائے ۔

پاکستان کے جنتے بھی سیاست دان ہے ان میں کتنے نظریاتی لوگ ہے چراغ لیکر ڈھونڈنے سے ایک بھی نہیں ملے گا سب وڈیرے جاگیردار اور قبضہ گروپوں سے تعلق رکھتے ہے پارٹی کا وفادار ہونا کسی صورت نظریاتی نہیں ہوتا ہے ایک بندہ تیس سال سے ایک پارٹی میں ہے اور ہر وقت ٹکٹ بھی وہ لیتا ہے وہ کونسا نظریاتی ہوا مفاد اور ٹکٹ کے لیے سیاسی وابستگی کو نظریاتی نہیں کہا جاسکتا ہےنظریاتی وہ ہے جو سیاست کو صحیح معنوں میں سمجھتا ہوں اور ملک و قوم کے لیے دل سے جذبہ اور کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔

اس طرح سارے نظریاتی ہوتے تو ستر سالوں سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے ملک کی تقدیر کب کے بدل جاتی ہے چائنہ ہم سے ایک سال بعد آذاد ہوئ تھی آج وہ دنیا میں ایک ناقابل تسخیر معاشی اور سیاسی طاقت بن گئ ہے انکے لوگ ملک کے ساتھ نظریاتی تھے پارٹی کے ساتھ نہیں اسلیے انہوں نے ترقی کی ہے۔

ہم آج تک ایمانداری اور وفاداری میں فرق نہیں کرسکے ایک بندہ بس میرا وفادار ہو باقی ایمانداری اس میں زیرو وہ سب سے زیادہ مقدم ہوجاتا ہے۔
جب تک عوام مکمل طور پے نظریاتی نہ ہو تو ملک کا نظام اسی طرح چند لوگوں کے پاس رہے گا آج نظریاتی ورکر کی بات کرنے والے پہلے خود نظریاتی بن جائے میرٹ پے ووٹ دیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ