بریکنگ نیوز

شی جنپگ اور پیوٹن ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کی اہم ترین پیش رفت

135461643_14667239718241n.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ رواں ہفتے سے جاری شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس چینی صدر شی جنپگ اور روسی صدر ویلادی میر پیوٹن کی ملاقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات اور طرفین میں سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور یوریشئین اکنامک یونین سے متعلق منصوبوں کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔ روسی صدر ویلا دی میر پیوٹن جون 9-10کو ہونیوالی شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنیوالے سے تین روزہ چینی دورے پر موجود ہیں جہاں وہ SCOکے 18ویں اجلاس میں شرکت کریں گے اس حوالے سے چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہوا چوئینگ نے کہا کہ روسی صدر ویلادی میر پئیوٹن کو چوتھی مرتبہ روسی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد چین کا یہ پہلا دورہ ہے اور رواں سال چینی ہم منصب شی جنپگ کیساتھ انکی پہلی باضابطہ ملاقات ہے، روسی نیوز ایجنسی TASSکیمطابق روسی صدر اور چینی صدر کے مابین گزشتہ چند سالوں سے مربوط رابطے میں ہیں، واضح رہے کہ گزشتہ سال 2017میں دونوں سربراہانِ مملکت کے مابین پانچ ملاقاتیں رہیں جبکہ حالیہ چند برسوں میں دونوں صدور مختلف مواقعوں پر پچیس مرتبہ مل چکے ہیں۔چین اور روس کے مابین قریبی تعلقات اور دونوں ممالک کے مابین اسٹرٹیجک تعلقات کی مضبوطی اور مستحکم دو طرفہ تعلقات کی نوید ہیں۔ سربراہانِ مملکت کے مابین سفارتی تعلقات جدید سفارتی اسلوب کی ایک نئی طرز ہے اور روسی صدر ویلادی میر پویٹن اور انکے چینی ہم منصب شئی جنپگ کے مابین نجی تعلقات اس امر کی ضماضی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک باہمی اعتماد سازی کی جانب گامزن ہیں، اس حوالے سے ڈائریکٹر آف یوریشئین سٹڈیز سنٹر برائے لی ژنگ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے صدور کے مابین باہمی تعلقات دونوں ممالک کی ایک دوسرے سے قرابت داری کی مظہر ہے۔ اسی ضمن میں چائینیز ایکیڈیمی آف سوشل سائینسز میں رشئین اسٹڈییز کے ڈپٹی ڈائیریکٹرجیانگ ائی کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے سر براہانِ مملکت کے مابین مسلسل ملاقاتوں کا سلسلہ اس حوالے سے اہم ترین پیش رفت ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کے استحکام کی جانب گامزن ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر دونوں سربراہان کے مابین نجی ملاقات بھی طے ہے اور دونوں سربراہان مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے اور باہمی ملاقات کے موقع پر دو طرفہ معاہدات،باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات سے متعلق علاقائی اور عالمی مسائل کے حوالے سے بھی گفتگو کریں گے، اس ملاقات کے موقع پر طرفین اہم سیاسی دستاویزات اور باہمی تعاون کے مختلف معاہدات پر بھی دستخط کریں گے روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چین روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے مابین گزشتہ سال باہمی تجارت کا حجم 87بلین ڈالر رہا ہے، چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق رواں سال 2018کی پہلی سہ ماہی میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے اور چینی وزارتِ کامرس کے مطابق رواں سال دونوں ممالک میں تجارتی حجم 100بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت باہمی اعتماد سازی کو دونوں ممالک کے مابین تجارتی روابط اور تعاون کیساتھ لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے معاہدہ 17مئی کو آستانہ میں ہوا جس سے یوریشئین یونین اور سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے مابین تجارتی فروغ اور اقتصادی امور کے حوالے سے بہت اہم پیش رفت طے پائی اور یہ معاہدہ چین کے تجویز کردہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا بھی حصہ ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور اقتصادی معاہدات دونوں ممالک کے مابین بہت اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک سانرجی سیکٹرز کے علاوہ دونوں ممالک ریاستی سطع کے ٹرانسپورٹیشن اور انفرا سٹرکچر معاہدات میں ایک دوسرے کے شریک ہیں۔ واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا 18واں اجلاس مشرقی چین کے ساحلی علاقے چنگڈاؤ میں منعقد ہو رہا ہے اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان اور بھارت اس اجلاس میں بطور ممبر ممالک کے شریک ہو رہے ہئیں کیونکہ گزشتہ کانفرنس جو گزشتہ سال قازقستان کے شہر آستانہ میں منعقد ہوئی تھی پاکستان اور بھارت کو اس میں کارکنان کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں مستقل آٹھ ممبر ز میں چین روس، انڈیا،پاکستان، قازقستان، کر غستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے گلوبلائزیشن کے حلاف محرکہ آرائی اور برطانیہ کی جانب سے یورپ میں بریکسٹ سے علحیدگی عالمی افق پر ان اثرات کے حوالے سے بہت اہمترین پیش رفت ہے اور ان عوامل میں شنگھائی سپرٹ بہت اہمیت کی حامل ہے جو تیزی سے ساپنے اثرو روسوخ میں اضافہ کر رہا ہے اور شنگھائی سپرٹ کو علاقائی سطع پر دیگر ممبر ممالک میں تیزی سے فروغ حاصل ہو رہا ہے، واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی پیش رفت اور استحکام کے حوالے سے چین اور روس اس تنظیم کے انجن کی حیثیت رکھتئے ہیں اور دونوں ممالک کے مابین تعاون علاقائی سا لمیت سمیت عالمی امن اور خوشحالی کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کریگی۔ کیونکہ سنگھائی سپرٹ کے بنیادی عوامل باہمی اعتماد، باہمی مساوات اور برابری،باہمی احترام، مشاورت اور باہمی مفادات کے اصولوں کی بنیاد پر طے کی گئی ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ