بریکنگ نیوز

شنگھائی تعاون تنظیم کا بین الاقوامی سطع پر بھر پور خیر مقدم

593a96b704e6a.jpg

اسلام آباد: (خصوصی رپورٹ):۔ دنیا کی سب بڑی آرگنائزیشن شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی آبادی تین ارب نفوس تک ہے جو دنیا کی مجموعی آبادی کا ایک تہائی بنتا ہے اور گزشتہ سال 2017میں شنگھائی تعاون تنظیم میں رکن ممالک میں اضافے کیساتھ اس تنظیم کے رکن ممالک کی GDPکی شرح 16ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا 18واں سالانہ اجلاس رواں سال جون09-10کو مشرقی چین کے ساحلی شہر چنگڈو میں منعقد ہو رہا ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمعی ہوئی ہیں اور دنیا چین کو مستقبل کے حوالے سے اور عالمی سطع پر چین کے کردار کو اس کانفرنس کے حوالے سے بغور دیکھ رہی ہے۔ اس ضمن میں چائینیز میڈیا ایک متحرک کردار ادا کر رہا ہے تاکہ دنیا کوان کانفرنس کے حوالے سے اور اس کانفرنس میں رکن ممالک کے حوالے سے پیش رفت اور متوقع پالیسی میکنزیم سے آگاہ رکھا جا سکے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اس حوالے سے بھی بہت اہمیت کی ھامل ہے کہ یہ آرگنائزیشن اپنے اصول وضوابط اور پالسیی سٹرکچر کے حوالے سے غہر وابسطہ اور غیر متضاد اصولوں کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیگئی جن کا بنیادی مقصد کسی بھی تیسرے فریق کے خلاف نہیں ۔ اگر سرد جنگ زہنیت کے ساتھ اس آرگنائیزشن کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو شنگھائی سپرٹ نئے سیکیوریٹی تصوارات کی ترویج کرتی نظر آتی ہے جن کو نہ صرف رکن ممالک نے سراہا بلکہ دیگر ممالک کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے جو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نہیں ہیں اور رواں سال سے اس آرگنائزیشن میں پاکستان اور انڈیا کی شمولیت سے اس تنظیم میں ہم آہنگی میں مزید اضافہ بھی ہوگا۔اس تناظر میں سیکرٹری جنرل دینگ ہاؤ برائے چائینہ سنٹر برائے شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن اسٹڈیزنے کہا کہ موجودہ عالمی ھالات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اثرو رسوخ میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ یہ تنظیم ایک ایسا پلیٹ فارم رکن ممالک کو مہیا کر رہا ہے جہاں وہ اپنے پیچیدہ مسائل کو گفت وشنید سے آسانی سے حل کر سکیں تاکہ ان کے مابین باہمی اعتماد کو فروغ حاصل ہو اور ایسے حالات میں جب مغربی طاقتوں کے جانب سے اینٹی گلوبلائزیشن اور رجعت پسندی سے متعلق پالیسز کو پیش کیا جا رہا ہے ان حالات اور تناظر میں علاقائی امن اور خوشھالی کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے اثرو ررسوخ میں خاصا اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ جاری شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے چئن عالمی تعاون کے فروغ کے حوالے سے اپنی گزارشات پیش کریگا۔ اور 2018کانفرنس کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چین عالمی مسائل کے حل کے حوالے سے اپنی تجاویز رکن ممالک کے سامنے پیش کریگا۔ جن میں شام کی ابتر صورتحال کے حل کے حوالے سے اور مختلف ممالک کے مابین سرحدوں کی حدود بندی کے حوالے سے جاری مسائل ہیں تاکہ عالمی سطع پر جاری محاز آرائی اور عدم استحکام کو باہمی اعتماد اور باہم معاہدات کے زریعے سے حل کیا جا سکے اور ان ممالک کے مابین مختلف محاز آرائی کو معاہدات کی مدد سے حل کیا جا سکے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ