بریکنگ نیوز

غیروں پے کرم اپنوں پے ستم

akaas-2.jpg

تحریر :عامر شہزاد
معروف صحافی سید طلعت حسین طوطا چشم سیاستدانوں پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سیاستدان پی ٹی آئی کی طرف اس طرح جا رہے ہیں جیسے افطاری کے قریب لوگ پکوڑے والے کی دوکان کی طرف جاتے ہیں۔عوام نے دن بدن بڑھتی سیاسی ساکھ کا نظارہ تحریک استقلال کے عروج کی صورت میں بھی دیکھ رکھا ہے ۔ 1979 میں تحریک استقلال کے چیئر مین ایئرمارشلؤ اصغر خان مرحوم بھی عمران خان کی طرح مقبول لیڈر تھے۔ لوگ جوق در جوق تحریک استقلال میں شامل ہورہے تھے ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ70ء کی دہائی میں سیاست کرپشن سے تقریباً پاک تھی۔تحریک استقلال میں ٹکٹوں کے اجراء پر ایسے فیصلے ہوئے جس سے پارٹی کے دیرینہ کارکن نظر انداز ہوئے اور پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو الیکشن میں ٹکٹ کے ساتھ نمایاں عہدے بھی دیئے گئے۔ پارٹی کے متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے بنیادی کارکن آہستہ آہستہ پارٹی سے دور ہوتے چلے گئے اور چند سال بعد تحریک استقلال کی مقبولیت میں نمایاں کمی آگئی ۔
یہی حال آج تحریک انصاف کا ہے ۔تحریک انصاف میں ٹکٹ کی غیر منصفانہ تقسیم پر نظریاتی امیدواروں اور ورکرز کا عمران خان کو یہی پیغام ہے کہ ’’ غیروں پے کرم اپنوں پے ستم ، اے جان وفایہ ظلم نہ کر‘‘۔یہ زیادتی نہیں تو اور کیا ہے کہ پارٹی کے دیرینہ کارکنوں کی 22 سالہ محنت جب پھل دینے لگے تو پیراشوٹرز اور ایلیکٹ ایبلز کی جھولیاں اور منہ پھل سے بھر دئے جائیں اور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو پارٹی ٹکٹ کے لئے ترسایا جائے ۔شہریار آفریدی ، علی محمد خان اور شوکت یوسفزئی جیسے کئی ڈائی ہارٹ رہنماؤں کے نام پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز کی لسٹ میں نہیں تھا۔ یہ وہی پارٹی رہنما ور کارکن ہیں جنہوں نے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دھرنے کو کامیاب بنایا۔میڈیا اور بنی گالہ پر کارکنوں کے احتجاج پر قیادت نے انہیں ٹکٹ جاری کر تو دیا ،لیکن ان کو اندازہ بھی ہو گیا کہ پارٹی ا ن کو کتنی اہمیت دیتی ہے اور ان کی کیا اوقات ہے۔ اپنوں پے اتنا ستم اور دوسری طرف غیروں پر اتنا کرم کہ ٹکٹ دیتے وقت یہ بھی نہ دیکھا کہ نازیہ راحیل مسلم لیگ نون کی سرگرم رکن اور صوبائی اسمبلی کی امیدورا ہیں۔
مسلم لیگ نون کو دیوار سے لگا کر عام انتخابات کرانے والی قوتوں کا پیغام صاف پڑھا جا سکتا ہے کہ اگلی حکومت تحریک انصاف کی ہے۔ایسے حالات میں اگر تحریک انصاف کوحکومت ملتی ہے تو پارٹی قیادت جن ایلیکٹ ایبلز کے سہارے اقتدار حاصل کرے گی اقتدار کے مزے بھی وہی ’’پیرا شوٹرز‘‘ شوگر ملز اور دولت مند مافیا ہی لوٹیں گے جبکہ دوسری طرف مخلص کارکنوں کے نصیب میں نعرے لگانا ہی رہ جائے گا۔ تحریک استقلال کی قیادت پر تو 1979ء میں ٹکٹوں کے اجراء میں کرپشن کا الزام نہیں لگا تھا لیکن تحریک انصاف میں ٹکٹوں کا اجراء پرباہمی خلفشار کی خبریں آرہی ہیں۔ راولپنڈی سمیت ملک کے کئی علاقوں سے نظر انداز کئے جانے والے ایم پی ایزانے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ پارٹی ٹکٹوں کو نظریاتی امیدواروں کے مقابلے میں کسی دوسرے کے ہاتھوں ’’بکنے‘‘نہیں دیں گے۔اگر ٹکٹوں کے اجراء میں ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف بھی بہت مختصر وقت میں تحریک استقلال بن جائے گی۔
2013کے انتخابات میں عمران خان کا پیغام ’’تبدیلی‘‘ تھا۔ ان کی ساری جدوجہد ان چوروں اور لٹیروں کے خلاف تھی جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے بار بار جیت کر اسمبلیوں کو اپنی جاگیر سمجھ بیٹھے تھے۔ تحریک انصاف کے اس بیانیے پر انہیں 70لاکھ سے زائد ووٹ ملے ، مگر 2018میں پی ٹی آئی کے ووٹرز مخمصے میں ہیں کہ جن دو بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کو کل انہوں نے مسترد کیا تھا انہی امیدواروں کو 2018 میں صرف اس لئے ووٹ دیں کیونکہ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔کل تک آپ کی نظر میں اسمبلیوں کو گھر کی کھیتی سمجھنے والے ہی ملک کی ترقی کی راہ کا پتھر تھے۔آج وہی ایلیکٹ ایبلزآپ کی آنکھ کا تارا بن گئے ہیں ۔کل تک عمران خان ہی کہا کرتے تھے کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے ۔ان ’’پرانوں ‘‘ سے نجات ہی نئے پاکستان کی ابتداء ہو گی۔عمران خان سے کوئی پوچھے کہ جناب، زہر تو زہر ہی ہوتا ہے چاہے اسے شہد کی بوتل میں ہی کیوں نہ ڈال دیا جائے۔ایک لیڈر کو ا تنااندازہ تو ہونا ہی چاہیے کہ ’’ایلیکٹ ایبلز چاہے جس مرضی نظریاتی’عمران خان‘ سے مل جائیں ان کا نظریہ پارٹی منشور نہیں بلکہ صرف اپنا مفاد ہوتا ہے‘‘۔100سے زائد سیٹیں لینے کے خبط میں عمران خان نے اتنے ہی ایلیکٹ ایبلز اکٹھے کر کے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی جماعت کے اندر ووٹ حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔اس لیے وہ ایلیکٹ ایبلز کو ٹکٹ دینے پر مجبور ہیں۔
لگتا ہے انہیں پاکستان میں تبدیلی نہیں بلکہ وزیر اعظم بننے کی جلدی ہے ۔نظریاتی سیاسی روئیوں پر اگر مفاد پرستی حاوی ہو جائے تو تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ جو اپنوں کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتا وہ مطلب پرست غیروں کوساتھ لے کر نیا پاکستان کیسے بنائے گا کیسے تبدیلی لائے گا ؟۔ خان صاحب آپ کو پارٹی کی صرف ایک نظریاتی کارکن یاد دلاتا ہوں۔ فوزیہ قصوری!جوتحریک انصاف کی بانی کارکنوں میں سے تھیں، انہوں نے پارٹی سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے استعفے میں پارٹی سے الگ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’2013 کے بعد پارٹی اپنے راستے سے دورہوتی گئی، پاکستان میں تبدیلی کے خواہشمند لاکھوں لوگوں نے تحریک انصاف سے امیدیں وابستہ کیں مگر آپ نے پارٹی ان لوگوں کے سپرد کردی جن کے خلاف ہم نے جدوجہد شروع کی تھی، پارٹی نے جانیں دینے والے کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا لہذا میرے لیے پارٹی کے حالیہ فیصلوں کا دفاع ممکن نہیں‘‘۔یہ تو ایک مثال ہے ایسی درجنوں مثالیں بنی گالہ میں’’ قصر عمران‘‘ کے باہر احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔عبرت کی یہ مثالیں آپ کو اس لئے نظر نہیں آتیں کیونکہ وہ ایلیکٹ ایبلز نہیں ہیں۔ آپ نے 2018میں حکومت بنانے کی ٹھان لی ہے اورنظریاتی اور جنونی ورکرز کے کندھے تو صرف دھرنے اور جلسے ہی کامیاب کرا سکتے ہیں ۔حکومتی ایوانوں تک کامیابی کے ساتھ پہنچنے کے لئے ایلیکٹ ایبلز کے کندھوں کا سہارا بہت ضروری ہے ۔یہی سوچ کامیابی سے پہلے ناکامی کی طرف جانے کا سبب بنتی ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ