بریکنگ نیوز

یہ نظام تعلیم

185149_3301648_updates.jpg

تحریر راشد اعوان
‎یہ نظامِ تعلیم ؟؟؟

‎۷۱ برس گزر چکے اور ہم ابھی تک فقط نعروں اور جھوٹی امیدوں کے سہارے جیئے جا رہے ہیں۔۔ سیاست کے افق پر ابھرنے والا ہر نیا ستارہ ہماری معاشرے کے کسی نا کسی طبقے کیلئے مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔ ہم زیادہ کو کم اور کم کو زیادہ سمجھنے والی قوم بن چکے ہیں۔ مراد اس سے یہ نہیں کہ اب تک ہم نے کچھ نہیں پایا۔ ہم ایک نیوکلئیر طاقت ہیں اور ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوان یا جوان ہے۔ بلاشبہ یہ ایک بہت تسلی کی بات ہے۔ لیکن کیا یہی ایک تسلی کی بات ہو سکتی ہے؟؟ کیا ہم اور ہماری آنے والی نسلیں اسی ڈگر پہ چلتی رہیں گی؟ کیا ہم ایک دوسرے کو یونہی نوچتے رہیں گے؟ کیا ہم آزادئ اظہار سے ہمیشہ گھبراتے رہیں گے؟ کیا ہمارے رائے عامہ ہموار کرنے والے ادارے، تجزیہ نگار، اخبار اور اخبار نویس فقط اپنی پسند کے سیاستدانوں اور زعما کو بہترین قرار دے کر اپنی رائے ہم پر مسلط کرتے رہیں گے؟ کیا ہم یعنی عوام خود سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے ہمیشہ محروم رہیں گے؟ کیا ہمارے لئے وہی درست ہے جو ھمارے حکمران درست قرار دے دیں۔ کیا ہماری یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان ڈگریاں اٹھائے نیم خواندگی کی حالت میں سر پٹختے رہیں گے؟ جی ہاں آپ نے درست پڑھا نیم خواندہ۔ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان بھی نیم خواندہ ہی رہتے ہیں کیونکہ ہماری نظر میں تعلیم ڈگری کا حصول ہے اور بس۔۔ہمارے تعلیمی ادارے ڈگریاں بانٹ رہے ہیں بجائے ہمارے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے۔۔

کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟ ہمارا نظام تعلیم ایسا کیوں ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں ایک استاد کو وہ عزت اور احترام ملتا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟ تدریس ہمارے ملک کے نوجوانوں کا اولین انتخاب کیوں نہیں ہے؟اساتذہ اپنا معاشرتی مقام پانے کیلئے ٹیوشنز کے محتاج کیوں رہتے ہیں؟ ہمارے اساتذہ کو میعاری تربیت فراہم کیوں نہیں کی جاتی؟ ہمارے بچوں کے لیئے رٹا سسٹم ہی کیوں بہتر سمجھا جاتا ہے؟ ہمارے بچے ۱۴ سال انگریزی پڑھنے کے باوجود ایک مضمون کجا ایک عرضی بھی انگریزی زبان میں کیوں نہیں لکھ سکتے؟ ہمارے گریجوئیٹس کی ایک بڑی تعداد انگریزی بولنے سے قاصر کیوں ہے؟ ہمارا امتحانی نظام اتنا بوسیدہ اور ناقابلِ اعتبار کیوں ہے کہ ہمارے بچوں کو ایک امتحان پاس کرنے کے بعد دوبارہ داخلہ ٹیسٹ کی بھٹی میں ڈالا جاتا ہے؟ ہمارا نصاب بدلتے زمانوں کے ساتھ ہم آہنگ کیوں نہیں ہے؟ ہمارا نصاب تعلیم انتہا پسندانہ سوچ کو کیوں جنم دیتا ہے؟ ہماری یونیورسٹیوں سے دہشتگرد کیوں برآمد ہوتے رہے؟ ہمارے بچوں کو وہ تعلیم میسر کیوں نہ آسکی جس کی بنا پر ان کی سوچ کے بند باب وا ہو سکتے؟ ہمارے بچوں میں یہ احساس کیوں نہ پیدا ہو سکا کہ ماں باپ اور اساتذہ غلط بھی ہو سکتے ہیں؟ ہمارے تعلیمی نظام نے یہ کوشش کیوں نہیں کی کہ جوانوں کو پیروں کا استاد بنایا جا سکتا ہے؟ ہمارا نظامِ تعلیم آئینِ نو سے کیوں ڈرتا اور طرزِ کہن پہ کیوں اڑتا ہے؟ ہمارے گاؤں کے سکول ابھی بھی ٹاٹ چھت اور لیٹرین کی سہولیات سے محروم کیوں ہیں؟ ہماری بسوں اور ٹرینوں پر اٹھنے والے اخراجات ہمارے تعلیمی بجٹ سے زیادہ کیوں ہیں؟ ہمارے تعلیم کے وزرا سب سے زیادہ قابلیت رکھنے والے افراد کیوں نہیں ہیں۔

وجہ۔۔ ہماری اشرافیہ نہیں چاہتی کہ ہمارے بچوں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ یقیں مانیئے جس دن ہمارے نظامِ تعلیم نے سوچ سے پہرے اٹھا دیئے اسی دن سے ہم کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوں سے نجات پا لیں گے۔۔۔ یقین نہ آئے تو اشرافیہ کیلئے قائم تعلیمی اداروں اور نصابِ تعلیم پر نظر دوڑائیے۔ آپ کو ایک واضح فرق محسوس ہوگا۔۔ آواز اٹھائیے!!! اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر نظامِ تعلیم کی مانگ آپ کا فرض ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ