بریکنگ نیوز

ایک دن جیو کے ساتھ

Aik-Din-Geo-Ke-Saath.jpg

درگاہ پاکستان

تحریر عبدالرحمن

ایک دن جیو کے ساتھ بڑا اعلی پروگرام تھا لیکن جیسے تمام اچھی چیزیں جلدی ختم ہو جاتی ہیں ویسے ہی اس کے بھی دن پورے ہوگئے۔ میں نے سہیل وڑائچ صاحب کے اس سیدھے سادھے پروگرام سے بہت کچھ سیکھا۔ خاص طور پر جس شوق اور تفصیل سے بڑے لوگ اپنی صحت کا خیال رکھنے کے نسخوں پر بات کرتے تھے۔ یقینا ان سے میں کیا پوری قوم ہی مستفید ہوتی رہی۔ اشرافیہ جب کھانے پینے کی ترجیحات اور پسند کا بتاتے ہوئے اپنے صحت مند ہونے کے راز سے پردہ آٹھاتے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بلا ناغہ قوم کے غموں کے انبار کھانے کے باوجود کیسے اتنے تندرست و توان اور چلملاتی دھوپ اور گردوغبار میں بھی گورے چٹے ہیں۔ نہار منہ انار کا جوس، بٹیروں کی یخنی سے رات کے کھانے کا آغاز اور اونٹنی کا دودھ پی کر خواب گاہ میں جانا۔ بلا شبہ ایسی قوم جو ایک وقت کی روٹی کو ترستی ہے اس کی قیادت کو جو صبح شام خلفائے راشدین کی سادگی کی مثالیں دیتی ہے، ان کی غذا ایسی ہی سادہ ہونی چاہیے۔
ایک سروے کے اعدادو شمار جسے یار لوگ سازشی اور افواہی قرار دے دیں گے، اس کے مطابق پاکستان کی موجودہ نسل کا 40 فیصد غذا کی شدید کمی کا شکار ہے۔ اس تحقیق کے نتائج اپنی جگہ خوفناک تو ہیں ہی لیکن فکر کی بات یہ ہے کہ صاحب لوگوں نے اسے دشمن کی چال کہہ کر رد کر دینا ہے۔ ان اعدادو شمار کو پیش کرنے والے سے میں نے ایک سوال نما دلیل پیش کی تو وہ میرا منہ تکتا رہ گیا۔ میں نے اس سے کہا کہ کیا ہوا؟ لمبا روزہ ہی سہی جب حالات بہتر ہوں گے تو خوب کھا پی لیں گے اور کمزوری ختم ہو جائے گی۔ اس نے پڑھی لکھی نظروں سے مجھے جاہل کہتے ہوئے کہا کہ وہ بچے جو خوراک کی کمی کا شکار ہوتے ہیں وہ دماغی طور پر پروان نہیں چڑھتے اور خاص طور پر ریاضی میں بہت کمزور ہو تے ہیں۔ میں نے چھٹ ہاتھ سامنے کیا اور کہا ادھر مارو۔ ہمارا تو مسئلہ ہی حل ہو گیا۔ اچھا ہے گنتی نہ آنے کی وجہ سے متعدد بار ٹھگے جانے کے باوجود یہ نسل بھی حساب نہیں رکھ سکے گے اور یوں اپنے بڑوں کی طرح آرام سے گزر جائیں گے۔
سہیل صاحب جب حکومتی سیاستدانوں سے ملتے تو ان کا یہ دعوی کہ پاکستان کیوں کہ ستائیسویں رمضان کو بنا تھا اس لیے انشاءاللہ سدا قائم دائم رہے گا اور اس کے خلاف اندرونی بیرونی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔ سن کے بڑی تسلی ہوتی کہ ہمارا مستقبل بڑے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ جو دنیا بھر کے ماہرین کا جھوٹا ثابت کرنے پے تلے ہوئے ہیں کہ ترقی کے لیے محنت کی نہیں تعویذ گنڈے کی ضرورت ہے۔عقیدت کے جذبے سے سرشار دل چاہتا کہ تھوڑی دیر کے لیے عربی بن جاوں اور چاہتے نہ چاہتے ٹی وی سکرین سے ہی ان کا منہ چوم لوں۔ پھر سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان ایسے با برکت دن بنا تو اس کے ایسی درگاہ ہونے میں حرج ہی کیا ہے۔ جہاں ہر عقیدے اور رنگ و نسل کے ملنگوں کے ساتھ بلاول، حمزے، حسن اور حسین سب ڈھول کی تھاپ پر مستی میں ناچیں۔ لیکن ظالموں نے اسے وہ درگاہ بنا دیا ہے جس کے گدی نشین تو ایسی نورانی مخلوق ہے جو کبھی کبھار زمین پے اترتی ہے اس کے تو متولیوں اور مجاوروں کی بھی بڑی انوکھی شان ہے۔ بس مرید رہ گئے جو اپنے ہی نظرانوں سے چلنے والے لنگر کے انتظار میں بھی رل رہے ہیں۔
گدی نشینوں کو تو جاتے ہوئے تاج برطانیہ نے ایسا نوازہ کہ ان کے متولیوں اور مجاوروں کی توندیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان پر اللہ کی نعمتوں کی بارش تھمتی ہی نہیں۔ ہاں یہ جو ہجوم درگاہوں کے ارد گرد بستا ہے ان کے چپکے ہوئے گال اور آسانی سے گنی جاتی پسلیوں کو دیکھ کے ایسے لگتا ہے جیسے ان کی قسمت میں سدا بہار خشک سالی آئی ہے۔ سہیل صاحب نے جتنی خانگاہیں دکھائیں ان پر موجیں ہی موجیں دیکھ کے سمجھا کہ نئی نسل کے پیروں نے شاید حالات بدل دیے ہیں۔ یہ دیکھنے کے لیے بڑے عرصے بعد اپنے گاوں کے نزدیک اللہ کے ایک برگزیدہ بزرگ کی بڑی خوب صورت درگاہ پے جا پہنچا۔ لیکن فورا احساس ہوا جیسے وہاں تو وقت رکا ہی رہ گیا ہو۔ اس کی خستہ حالی سے اندازہ ہوا کہ گدی نشینوں نے کوئی اور بھی غم پال رکھا ہے۔ عین دروازے کے ساتھ خستہ حال دیوار ساری کہانی سنا رہی تھی کہ چڑہاوے کہیں اور جا رہے ہیں۔ اتنے سالوں میں وہاں کچھ بھی نہیں بدلا، نہ متولیوں اور مجاوروں کا رویہ اور نہ ہی ان کی توندیں۔ وہی سیاہ کالے برتن اور بد بو دار رسوئی، مجھے وہ چمچہ بھی نظر آ گیا جو شاید 40 سالوں سے جب میں نے پہلی بار دیکھا ویسا ہی ان دھلا لٹکا ہوا تھا۔ میرے ساتھ کچھ مہمان بھی تھے۔ شرمندگی سے بچنے کے لیے ان کو بتایا کہ ہمارے علاقے کے لوگ روایات پے کوئی سودے بازی نہیں کرتے۔ بچپن میں بھی مجاوروں سے لنگر نہیں بچتا تھا اور آج 40 سال بعد بھی ان کی توندیں دیکھ کر یقین ہوگیا ہے کہ انہوں نے روایات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اب سمجھ آئی کہ تخت نشین اشرافیہ کیوں پاکستان کے ستائیسویں رمضان کو وجود میں آنے کی وجہ سے اسے درگاہ کا درجہ دینے کو تلے ہوئے ہیں؟ اس میںسب کا بھلا ہے؛ مرشد اناروں کا جوس پیتے رہیں، مجاور اور متولی بلا روک ٹوک لنگر کھائیں اور مریدین شوق سےڈھول کی تھاپ پے دھول چاٹیں اور ان کی شان میں قصیدے پڑھیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ