بریکنگ نیوز

ٹکٹوں کی تقسیم, موقع پرستی کی دھول اور کچلے ہوئے اصول

mujahid-ali.jpg

سید مجاہد علی

مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملہ پر سامنے آنےوالے اختلافات اور کھینچا تانی میں ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ یہ دونوں پارٹیاں صرف ان امیدوارں کو ٹکٹ دینا چاہتی ہیں جو بہر صورت انتخاب جیت سکیں۔ اسی لئے بہت سے اچھے لوگوں کو نظر انداز کرکے الیکٹ ایبلز کو پارٹی ٹکٹ دئیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی خاص حلقہ میں اپنی ذاتی حیثیت میں بھی انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیاسی لوٹوں کی مانگ اور مختلف پارٹیوں کی طرف سے انہیں رجھانے کی کوششوں کے ماحول میں یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کوئی بھی ہیوی ویٹ اگر ایک خاص پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب میں حصہ لے کر کامیاب ہو گا تو اس سے پارٹی کی سیاسی پوزیشن بہتر ہو سکے گی۔ لیکن اس حوالے سے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ الیکٹ ایبلز سمجھے جانے والے اکثر امیدوار بھی کسی حلقہ میں کامیابی کے لئے کسی ایسی پارٹی کی تائید و حمایت کے محتاج ہوتے ہیں جسے عوام میں مقبولیت حاصل ہو تاکہ وہ اس حمایت سے ملنے والے ووٹوں کی مدد سے اپنا سیاسی مستقبل محفوظ بنا سکیں۔

پاکستان کے انتخابی حلقے بہت وسیع و عریض ہیں اور ایک ایک حلقہ میں رائے دہندگان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ خاص طور سے پنجاب کے انتخابی حلقے آبادی اور ووٹروں کی تعداد کے لحاظ سے بہت بڑے ہیں۔ بہت کم ایسے سیاسی قد آور موجود ہیں جو صرف اپنی ذاتی حیثیت میں کامیاب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جولائی میں ہونے والے انتخاب میں سخت مقابلہ کی امید کی جارہی ہے اور مسلم لیگ (ن) بمقابلہ پاکستان تحریک انصاف کو ان انتخابات میں بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ کیوںکہ عمران خان تبدیلی کے لئے ووٹ مانگ رہے ہیں اور نواز شریف سیاست پر اسٹبلشمنٹ کے قبضہ کو ختم کروانے کی بات کررہے ہیں۔ اس طرح ان دونوں پارٹیوں کا سیاسی ایجنڈا بہت واضح اور ایک دوسرے سے متصادم ہے۔

تاہم ان پارٹیوں کی طرف سے انتخاب میں حصہ لینے والے اکثر امید واروں کا اس ایجنڈے سے اتفاق یا اختلاف ضروری نہیں ہے۔ گو کہ یہ خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں کہ نامعلوم ٹیلی فون نمبروں سے کال کرنے والے لوگ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ اہم امید واروں سے وفاداری تبدیل کرنے اور تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لئے دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ لیکن جس طرح پولنگ والے روز یہ کسی بھی طاقت کے بس میں نہیں ہو گا کہ وہ ووٹروں کو ایک خاص امید وار یا نقطہ نظر کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کرسکے اسی طرح امید وار بھی پارٹی وابستگی کا فیصلہ کرتے ہوئے دباؤ کے باوجود یہ بھی ضرور غور کرتا ہے کہ اسے اپنے حلقے میں کس لیڈر کے ساتھ چلنے میں فائدہ ہوگا۔ ملک کی انتخابی جمہوریت میں پایا جانے والا یہ رویہ سب سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے کیوں کہ وہ اس ملک کے ووٹر کو ابھی تک یہ شعور دینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں کہ انہیں اصولوں اور انتخابی منشور کو پرکھتے ہوئے رائے دینی چاہئے تاکہ صرف وہ لوگ منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچیں جو ایک خاص منشور یا سیاسی ایجنڈے کی حمایت کرتے ہیں۔ لیکن جس طرح امیدوار بہر صورت اپنے حلقہ سے کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسے جس پارٹی کا پلیٹ فارم اپنے فائدے میں دکھائی دیتا ہے، وہ اسی میں شامل ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح سیاسی پارٹیاں بھی ان لوگوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کررہی ہیں جن کا حلقوں میں اثر و رسوخ موجود ہو تاکہ وہ ان کے ووٹ بنک میں اپنے پارٹی لیڈر کی مقبولیت کے ووٹ کو شامل کروا کے انتخاب میں زیادہ سے زیادہ نشستیں جیت سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ الیکٹ ایبلز کامیابی کے لئے بہت ضروری ہیں اور مسلم لیگ (ن) بھی جاوید ہاشمی اور زعیم قادری جیسے وفادار لیڈروں کو ووٹ دینے سے گریز کر رہی ہے۔

جاوید ہاشمی نے ملتان کے دو حلقوں سے انتخابی کاغذات جمع کروائے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان حلقوں میں سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے لیڈر یوسف رضا گیلانی اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر قائد شاہ محمود قریشی کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے اور پارٹی کی مرضی سے ہی این اے 155 اور این اے 158 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کروائے تھے۔ تاہم اب یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) انہیں اپنے امید وار کے طور پر سامنے نہیں لائے گی۔ جاوید ہاشمی نے 2013 کے انتخابات سے پہلے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی تھی لیکن 2014 کے دھرنے کے دوران پیدا ہونے والے اختلافات کے سبب وہ پارٹی سے علیحدہ ہو گئے تھے اور انہوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ بھی چھوڑ دی تھی جو وہ ضمنی انتخاب میں جیتنے میں ناکام رہے تھے۔ اس موقع پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف کے امید وار کے مقابلے میں جاوید ہاشمی کی بھرپور مدد نہیں کی تھی۔

جاوید ہاشمی گزشتہ دنوں دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے تھے ۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں آواز بلند کی ہے جبکہ اس پارٹی کے پرانے وفادار بھی اس سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سابق وزیر داخلہ اور نواز شریف کے تین دہائی تک رفیق کار اور معتمد رہنے والے چوہدری نثار علی خان بھی شامل ہیں۔ وہ قومی اور پنجاب اسمبلیوں کی دو دو نشستوں پر آزاد امید وار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ چوہدری نثار علی خان کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے کامیاب ہونے کی امید رکھتے ہیں، وہ کسی پارٹی سے وابستہ رہنے کی بجائے آزاد حیثیت میں انتخاب میں کامیاب ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ انتخاب کے بعد وہ سیاسی حالات کا رخ دیکھتے ہوئے کسی پارٹی یا سیاسی گروہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرسکیں۔ اپنے بل بوتے پر انتخاب میں یقینی کامیابی حاصل کرنے کی امید کرنے والے بہت کم لوگ ہیں۔ اسی لئے چوہدری نثار علی خان نے بھی پارٹی ٹکٹ سے انکار کرنے کے بعد شہباز شریف کے ذریعے اس بات کی سرتوڑ کوشش کی کہ مسلم لیگ (ن) ان کے مقابلے میں امید وار کھڑے نہ کرے۔ وہ اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے تھے لیکن خبروں کے مطابق نواز شریف نے اس فیصلہ کو مسترد کرکے چوہدری نثار کے مقابلے میں امیدوار لانے کی ہدایت کی ہے۔

چوہدری نثار علی خان اور زعیم قادری کے برعکس میں جاوید ہاشمی نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ پارٹی فیصلہ قبول کریں گے اور متعلقہ حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کے امید واروں کی انتخابی مہم میں حصہ بھی لیں گے کیوں کہ وہ کسی نشست کے لئے نہیں بلکہ پارلیمانی جمہوریت کی برتری کے لئے کام کررہے ہیں اور اسی لئے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے ہیں۔ جاوید ہاشمی کی سیاسی زندگی غلطیوں سے پاک نہیں لیکن اس موقع پر انہوں نے جس اصول پسندی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی توصیف بھی لازم ہے۔ انہوں نے 2014 میں تحریک انصاف سے اختلافات کے بعد خود ہی قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے کر بھی ایسی ہی اصول پسندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ حالانکہ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف استعفے دینے کا اعلان کرنے کے بعد، ان کی واپسی کے لئے جوڑ توڑ کرتی رہی تھی۔

جاوید ہاشمی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے البتہ مسلم لیگ (ن) سے ضرور یہ استفسار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیوں زعیم قادری اور جاوید ہاشمی جیسے وفادار ساتھیوں کو ناراض اور مایوس کررہی ہے۔ اس کی بظاہر وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں امید وار مالی لحاظ سے کمزور ہونے کے سبب انتخابی مہم میں بہت زیادہ دولت صرف کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ زعیم قادری کے معاملہ میں یہ بات سامنے بھی آئی تھی۔ لیکن ایسے فیصلوں سے مسلم لیگ (ن) کی اصول پسندی اور پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے کے دعوؤں کا پول بھی ضرور کھلتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر وہ یہ انتخاب طاقتور ریاستی اداروں پر جمہوری پارلیمنٹ کی بالادستی کے اصول پر لڑنے کی کوشش کر رہی ہے تو انتخابی حکمت عملی میں جمہوریت یا پارٹی کے لئے خدمات انجام دینے والے لوگوں کو نظر انداز کرنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی۔

نواز شریف اور شہباز شریف کو اس بات کی خبر ہونی چاہئے کہ اگر بہت سے الیکٹ ایبلز دباؤ کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئے تو یہ فیصلہ شریف خاندان سے وفاداری یا کسی اصول پسندی کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ ان میں اکثر امیدوار نواز شریف کو ’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے کی وجہ سے ملنے والی مقبولیت سےخود بھی مستفید ہونا چاہتے ہیں ۔ بصورت دیگر شاید ان کے لئے اپنی نشست جیتنا ممکن نہ ہو۔ اسی لئے یہ خبریں اور تبصرے سننے میں آرہے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) اسٹبلشمنٹ مخالف رجحان کی وجہ سے ووٹ لینے اور اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تو حکومت سازی سے پہلے پارٹی میں شگاف ڈالا جا سکے گا۔ فارورڈ گروپ بنا کر کسی پارٹی کی پارلیمانی طاقت کو توڑنے کا ایسا تجربہ ماضی میں کئی بار ہو چکا ہے۔ اس لئے مسلم لیگ (ن) کو دو کشتیوں کا سوار ہونے اور صرف اقتدار کی طرف بھاگنے والے امیدواروں پر تکیہ کرنے کی بجائے وفادار اور اصول پسند لوگوں کو محروم کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ مشکل وقت میں ایسے ہی لوگ پارٹی اور اس کی قیادت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ