بریکنگ نیوز

پیپلز پارٹی کا عوامی منشور

IMG_20180628_203457.jpg

تحریر جنید قیصر
جمہوری نظام میں عوام کی نمائندگیی جماعتیں کرتی ہیں، اس میں بہتر سیاسی جماعتیں اُن کو تصور کیا جاتا ہے، یا عوام اُن سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتی ہیں، جس میں معاشرے کے تمام افراد کو دینے کیلئے کچھ نہ کچھ ہو۔ اگر نظام شفافیت پر مبنی ہو، غیر جانبدار ہو، منصفانہ ہو، کوئی شیڈو سٹیٹ یا ڈیپ سٹیٹ کنگز پارٹیوں کو ہر ناجائز حربے سے عوام پر مسلط نہ کررہی ہوں، تو ایسے سیاسی نظام میں عوام ایسی سیاسی جماعتوں کو ووٹ کرکے کامیاب بناتی ہیں، جس کو قومی اور بین الاقوامی صورتحال کا ادراک ہو، اور اس کے پاس بلاامتیاز رنگ و نسل، رنگ و جنس، مذہب و فرقہ تمام طبقات کے لئے کچھ نہ کچھ ہو۔ پیپلز پارٹی جو بھٹوازم اور بے ںظیر شہید کی فلاسفی پرقائم ہے، اس نے ہمیشہ بلاامتیاز رنگ و نسل، رنگ و جنس، مذہب و فرقہ تمام طبقات کی نمائندگی اور خدمت کی ہے۔
[30/06, 8:54 AM] Junaid Qaiser J: بی بی شہید پاکستان کے پسماندہ عوام کیلئے امید کی کرن تھیں، عوام کو اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کی تعبیر انہی میں نظر آتی تھی، عوام کو یقین تھا کہ شہید بی بی ہی انہیں پاکستان میں عزت و وقار اور تمام بنیادی انسانی حقوق دلا سکتی ہیں، جس کا بطور شہری وہ حق رکھتے ہیں۔ بی بی شہید غربت زدہ عوام کے پرُوقار اور روشن مستقبل کی علامت تھیں۔ وہ عوام کی امیدوں اور خوابوں کی محور تھیں۔

دسمبر 2007 میں جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے دشمنوں نے عوام کی امید کی اس کرن کو ہمیشہ کیلئے اندھیروں مین دفن کرنے کی سازش کی، ان عوام کے دشمنوں نے سوچا کہ شہید زوالفقار علی بھٹو کے بعد اگر اس کی بیٹی کے زریعے پھیلی جمہوری روشنی کو ختم کردیا جائے تو ان کے عوام دشمن منصوبوں کی تکمیل میں تمام حائل رکاوٹیں ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گئیں۔ مگر ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا، پہلے آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، اور سقوط ڈھاکہ کے المیہ کی طرح کے وفاق کو جو خطرات درپیش تھے، اس خطرے سے پاکستان کو نکالا، اور ایک بار پھر پاکستان کو جمہوری راستے پر ڈالا، آئین کو اس کی روح کے مطابق بحال کیا، ۱۸ویں ترمیم کے زریعے وفاق کو مضبوط کیا، صوبائی خود اختیاری کو کنکرنٹ لسٹ ختم کرکے یقینی بنایا۔ جس سے انتقال اقتدار کے مقاصد بھی حاصل ہوئے۔

اب پیپلز پارٹی کا علم چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھ میں ہے، اور میدان سجا ہوا ہے 2018ء کے انتخابات کا جس میں پیپلز پارٹی کے مدمقابل ہیں، ضیا اور مشرف کی باقیات، پیپلز پارٹی کی آج بھی سب سے بڑی قوت ہے شہید بی بی کا ویژن اور مشن جس میں غریبوں کی داد رسی اور پسے طبقے کے لئے حقیقی مساوات، بنیادی شہری حقوق اور باوقار زندگی کا وعدہ ہے، اسی کو بنیاد بنا کر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی منشور کا اعلان کیا ہے، ارسٹھ صفحات کی اس دستاویز میں ملک کی معاشی بہتری، عوام کو بنیادی سہولیات اور روزگار کی فراہمی، باوقار ندگی اور پروایکٹیو خارجی پالیسی کا وعدہ ہے اور اس انتخابی منشور کو نام دیا گیا ہے، “بی بی کا وعدہ نبھانا ہے”۔۔۔۔ “پاکستان بچانا ہے”۔۔۔
معاشی انصاف، غربت میں کمی، تعلیم اور بنیادی صحت، معذور افراد کو معاشرے کا حصہ بنانا، زرعی اصلاحات، خواتین کی خود مختاری اور نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کی فراہمی منشور کے بنیادی اجزا ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ہے، معاشی انصاف کی فراہمی کے تحت غربت کے خاتمے کے لیے پاورٹی ریڈکشن پروگرام لایا جائے گا، کم سے کم اجرت بنیادی ضروریات سے منسلک ہوگا، بھوک مٹاؤ پرگرام شروع کریں گے، قومی سطح پر فیصلہ سازی میں عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

چئیرمین بلاول کو نوجوانوں کی اہمیت اور ملک و قوم کی تعمیر و ترقی کا گہرا ادراک ہے، اسی لئے انہوں نے کہا ہے کہ 40 لاکھ نوجوانوں کو سالانہ نوکریاں چاہیے ہوتی ہیں لہذا اس مقصد کے لیے ایک نیا سرکاری ادارہ قائم کیا جائے گا۔ اس دستاویز میں بھوک مٹاؤ پروگرام بھی شامل ہے، جو پاکستان میں غربت کے مسئلے کو حل کرئے گا۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر سابق حکومت نے پاکستان کی کسان اور اس کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کے سامنے کئی مشکلات کھڑی کردیں تھیں، جس سے اس شعبے اور ملک کو ناابل تلافی نقصان پہنچا۔ اب دوبارہ سے پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی حالت زارکو بہتر کرنے کیلئے پارٹی منشور میں بے نظیر کسان کارڈ کے اجرا کا وعدہ کیا گیا ہے، کارڈ سے کسانوں کو سبسڈی، سستی کھاد ملے گی، محنت کشوں کا تحفظ کیاجائے گا. زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے کاشتکاروں کو سبسڈی دیے جانے کی بات کی ہے، یوریا کھاد کی قیمت 500 روپے اور ڈی اے پی کھاد کی قیمت 1700 روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ زرعی اصلاحات کا انقلابی پروگرام پیپلز پارٹی کے منشور میں شامل ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہے، 40 فی صد آبادی اس سے منسلک ہے، ملک میں 150 سے زائد ٹیکسٹائل یونٹ کم ہوچکے ہیں، انڈسٹریل گروتھ بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔
پانی کے بحران کا مسٗلہ انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے، اس کے حل کیلئے اورعوام کے تحفظ کے لیے عوامی منشور میں وعدہ کیا گیا ہے کہ مزید ڈیم بنائے جائیں گے، پانی کی بچت محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، غذائی قلت کے سنگین مسئلے کے حل کے لیے پیپلز فوڈ کارڈ متعارف کرائیں گے جس سے عوام کو کھانے کی اشیا کم قیمت پر مل سکیں گی۔ پاکستان میں پہلی بار فیملی ہیلتھ سروس کا آغاز کیا جائے گا، شہروں میں بھی سرکاری ڈسپنسریاں کھولی جائیں گی۔ آبائی ذخائر میں اضاٖفہ کیا جائے گا، آب پاشی نظام بہتر بنانے کا پروگرام بھی منشور کا حصہ ہے، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جائے گا، تجارت و صنعت کو فروغ دیا جائے گا، لیبر پالیسی بنائی جائے گی، خواتین کی اقتصادی خود مختاری بھی پی پی منشور کا حصہ ہے۔
بی بی کا وعدہ نبھانے کیلئے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی، فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، گلگت بلتستان میں بھی انتخابات پاکستان کے انتخابات کے ساتھ کرائیں گے، گلگت بلتستان میں ن لیگ کے غیرجمہوری اقدامات ختم کریں گے، موقع ملا تو ملک کے وقار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دنیا کو باور کرائیں گے کہ پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالمی دہشت گردی سے دنیا کو آگاہ کریں گے۔
پی پی منشور کے مطابق پارلیمنٹ، ریاستی ادارے اور جمہوریت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، سفارت کاری اور عالمی روابط میں نئی جان اور خارجہ پالیسی کو نئی جہت دی جائے گی، ریاست کے تحفظ اور دفاع سے متعلق اقدامات بھی منشور میں شامل ہیں، پاکستان کو دنیا میں جائز مقام دلانا منشور کا حصہ ہے۔ پروایکٹیو خارجہ پالیسی جس کی بنیاد امن اور تعاون پر ہو اس کی بات کی گئی ہے۔جمہوری تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات شامل کئے گئے ہیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ملک کو توانائی سمیت کئی بحرانوں کا سامنا ہے، پاکستان کا ہر شعبہ بد حالی کا شکار ہے، آج پاکستان مقروض اور خارجی و سفارتی سطح پر تنہا ہوگیا ہے، عالمی سطح پر کوئی بھی ملک پاکستان کا مؤقف سننے کو تیار نہیں۔ ملکی ادارے بھی باہمی تصادم کا شکار ہیں، چار سال تک یہ ملک بغیر وزیر خارجہ کے چلتا رہا، پارلیمنٹ کو تمام معاملات سے بے خبر رکھا گیا، ن لیگ دورمیں نیشنل ایکشن پلان کو غیر فعال بنا دیا گیا، عوام کو سستی بجلی ملی نہ سستا پیٹرول ملا۔
[30/06, 8:58 AM] Junaid Qaiser J: پیپلز پارٹی اپنے انتخابی منشور “بی بی کا وعدہ نبھانا ہے” کے تحت بے نظیر بھٹو شہید کا مستحکم اور مضبوط پاکستان چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی عوام اور ریاست کے درمیان ہم آہنگی کا فروغ چاہتی ہے، عوام کی خوشحالی اور ترقی چاہتی ہے جس کیلئے منشور میں میں ماں، بچے کی صحت اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ منشور میں غربت کے خاتمے، تعلیم اور بنیادی صحت کو اہمیت دی گئی ہے، معذور افراد کو معاشرے کا اہم حصہ بنانے کا بھی پروگرام شامل کیا گیا ہے، غرض یہ کہ پیپلز پارٹی کے عوامی منشور میں عوام کے تمام طبقات جس میں خواتین، مرد، نوجوان طبقہ، اقلیتیں، بزرگوں، بچوں سب کیلئے بہتر پرُوقار زندگی کا وعدہ ہے۔ اگر پیپلز پارٹی عوامی قوت سے اقتدار میں آتی ہے، تو اس انقلابی عوامی منشور سے وہ بی بی شہید کا وعدہ نبھا رہی ہوگی، اور پاکستان عصری تقاضوں کے مطابق ترقی، جدیدیت اور خوشحالی کے سفر پر گامزن ہوگا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ