بریکنگ نیوز

میرا کیا بنے گا کالیہ

IMG_20180701_143304.jpg

ميرا کيا ہوگا کاليے
تحریر عبدالرحمن
کچھ عرصہ پہلے تک مشہور فلمی کرداروں کی عام آدمی کی زندگی پے بڑی چھاپ نظر آتی تھی۔ خاص طور پر لاہور میں سلطان راہی اور قریشی صاحب کے ڈائیلاگ بڑے مقبول رہے۔ ان میں سے “نواں آیا ایں سوہنیا” غالبا سب سے زیادہ اور ایک لمبے عرصے تک گونجتا رہا۔ لاہور ہی کے ایک نوجوان نے اپنے محلے میں بڑی ات مچائی رکھی تھی اور وہ ہر آنے جانے والے کو اسی ڈائیلاگ سے عزت افزائی کرتا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن علاقہ تھانیدار سالانہ دورے پے ادھر آ نکلا۔ نوجوان کے لیے اپنے آپ کو ثابت کرنے کا موقع خود چل کر محلے آ پہنچا۔ اس نے بڑے اعتماد سے تھانیدار سے بھی وہی سوال پوچھ لیا۔ پنجاب پولیس، علاقے کا تھانیدار، غریبوں کی بستی، ایسی فلم سے امید ہے آپ واقف ہوں گے۔ جس میں ویسے ہی زبان کے استعمال سے پہلے کیا ہوتا ہے، لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی گھنٹوں بعد نوجوان کو جب ہلدی ملا دودھ پی کے ہوش آیا تو اس نے ادھر ادھر دیکھ کے تھانیدار کی غیرموجودگی کا یقین ہوتے ہی فورا کہا، مجھے یقین ہو گیا ہے” اہ نواں ہی آیا اے “۔ میں نے جس ڈائیلاگ کو عنوان بنایا ہے وہ ہمسایہ ملک سے درآمد شدہ ہے اور یقینا پاکستانی قوم کی اکثریت اس سے نا واقف نہیں ہے۔ لیکن کیونکہ وہ اپنا نہیں ہے اس لیے بلا اجازت اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر لینا غیر مناسب بھی نہیں۔
اس حقیقت کو سوائے مملکت خداداد کے شاہ بالہ نما حکمرانوں کے سب ہی مانتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی اصل اور سب سے بڑی طاقت اس کا جذبہ اور امید ہوتی ہے۔ پرعزم قوموں کے مشکل ترین حالات میں بھی صرف ان کے سہارے کامیاب ہونے کی بےشمار مثالیں موجود ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی سے اس کی اميد چھن جائے یا اس کے جذبے بچھ جائیں تو تمام وسائل کے باوجود مایوسی اور ناکامی ایسی قوموں کا مقدر بنتے بھی دنیا نے اکثر دیکھا ہے۔ پاکستانی قوم کے ساتھ بھی آزادی کے وقت سے کچھ ویسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔ کمال کی بہادر اور بے مثال حوصلے والی قوم جس نے ایسی تخریب کاری جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی اس کا مقابلہ کر کے جرات اور حوصلے کے نئی تاریخ رقم کی ہے لیکن اس کا اک مرد بحران کا انتظارختم ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا۔ جس سے امید لگاتے ہیں وہ پہلے والوں سے زیادہ مایوس کرتا ہے۔ اب تو پوری قوم مستقل خوف کی کیفیت میں رہتی ہے اور اکثر اس خدشے کا اظہار سننے میں آتا ہے کہ پہلے والے تو صرف کفن اتارتے تھے نئے والے کہیں ———-۔
دیکھیں تو کیسی درويش صفت قوم ہے اميد لگاتے ہوئے بھی قناعت پسندی کے نشے میں آج بھی روٹی، کپڑے اور مکان سے آگے سوچتے ہوئے بھی جیسے شرماتی ہے اور اکیسویں صدی میں بھی تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضرورتوں کو بھی عیاشی سمجھ کر زندہ پیروں کے کہنے پے کانوں کو ہاتھ لگاتی ہے۔ اس ملنگ قوم کو آسائشوں کی خواہش تو دور کی بات موجودہ حالات سے تو کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے محبوب حکمرانوں نے بنیادی ضروریات زندگی کی تلاش میں اتنا تھکا دیا ہے کہ اب وہ اپنے حال کی فکر میں جیسے مستقبل کا سوچنا ہی بھول گئی ہو۔ آزادی کے دن سے ہر نسل، قسم اور قماش کے حکمرانوں نے جیسے ہاتھ دکھائے ہیں نئے آنے والوں سے اچھائی کی امید کرنا اپنے اپنے آپ کو گدھا بنانے کے مترادف ہے۔ لاتعداد بار لٹ کے قوم کا ناامید ہونا تو بنتا ہی ہے؟ ذرا غور تو فرمائیے دنیا چاند سے بھی آگے جانے کے منصوبے بنا رہی ہے اور انہیں پینے کے پانی اور بجلی کے وعدوں پے ٹرخایا جا رہا ہے۔ بنیادی ضرورتوں کی تلاش میں ایسے پھنسے ہیں کہ بھوکے ننگے امراء کی دولت کی ہوس کے بارے میں جتنا کچھ سامنے آ رہا ہے اس سے آنے والی تباہی کا انہیں ادراک ہی نہیں۔
ان بے چاروں کا کیا قصور ہے؟ جب رکھوالے ہی رہا سہا گوشت نوچنے میں لگے ہوں تو ايسے ميں قوم مايوس بھی نہ ہو تو کیا ڈھول بجائے۔ جب ناامیدی ان سے ہو امید بندھانا جن کی ذمہ داری ہو تو مایوسی کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب قوم کے مستقبل کے ذمہ داروں کے بارے میں ہر روز ایک نئے سکینڈل، ایک نئی شرمندگی سے قوم کو ایسی مستقل بدنامی کا سامنا ہے کہ کہیں بھی جاو قومیت بتاتے ہوئے گھبراہٹ سی ہوتی ہے، کیا خبر کوئی کیا کہہ دے۔ کون اچھا ہے اور کون برا، سب کے باجماعت مال کے لالچ نے تفریق ہی ختم کر دی ہے؛ کون سچا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے، کون مخلص ہے اور کس نے ملک دشمنوں سے سازبازکر رکھی ہے؟ ہر فريق کے پاس دوسرے کے خلاف مصدقہ ثبوت ہيں۔ اگر نہيں تو صرف اپنی معصوميت ثابت کرنے کيليے ان کے پاس کچھ نہیں۔ جبکہ کل تک جوتیاں چٹخانے والوں کے پاس لوٹا ہوا مال اتنا آ گیا ہے کہ اربوں کے ہتک عزت کے ہرجانے کے دعوؤں کی فہرست ديکھ کرآنکھيں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہيں۔ ايک اندازے کے مطابق اگر ہتک عزت کے دعووں کے پيسے کو ہی عدالتيں وصول کرکے خزانے میں جمع کرا دیں تو امید ہے پاکستان کو غیر ملکی امداد اور خیرات سے نجات مل جائے۔ اس بدقسمت قوم کی اشرافيہ نے اپنی بے عزتی کو بھی جتنا مہنگا سمجھ رکھا ہے کاش غيرت قومی کو اس سے آدھی ہی وقعت دے دیتے
کہیں دور ایک امید سی تھی کہ دنیا کو دیکھ کے شاید ان میں کچھ بہتری آنے لیکن وہ امید بھی دم توڑ گئی۔ آج کل اپنے کرتوت بھول کر دوسروں پر ذاتی الزامات کے ساتھ ايک دوسرے کے بچوں، بيويوں اور نا جائز آمدنی کے ساتھ ویسی ہی آل اولاد اور ان کے قابل اعتراض کردار سے متعلق ثبوت تک پيش کرتے پھررہے ہيں۔ يہ سب اتنا مسلسل ہو رہا ہے کہ اب تو کوٸی بھی سياسی قاٸد يا پارٹی اس قابل نہيں لگتی کہ اس سے کوٸی اميد لگاٸی جائے۔ يہ صورتحال بےشک انتہائی پريشان کن ہے اور تھوڑے سے بھی ادراک اور سمجھ بوجھ والا انسان اس تماشے سے یقینا لطف اندوز ہر گز نہيں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر کسی نے تو یہ ملک چلانا ہے اور وہ انہیں میں سے کوئی ایک ہوگا۔ لیکن ان کی دھينگا مشتی نے ماحول اتنا آلودہ کر دياگيا ہے کہ عام پاکستانیوں اور شعور والے سياسی کارکن کی منزل دھندلا گئی ہے اور اس اندھيرنگری ميں ان کی اميديں ٹوٹتی ہوئی لگ رہی ہيں۔ ايسے ميں بڑے بڑے کاليے جنہوں نے اپنا اور اپنی آل اولاد کا انتظام ايسے ديسوں ميں کر رکھا ہے جہاں ہمارے ہاں کی آلودگی تو کيا قوم کی آہيں اور سسکياں بھی پہنچ نہيں پاتیں، بھیس بدل کے اگلے ڈاکے کے لیے پھر سے تیار ہیں۔
ايسے ميں ایک مشہور انڈین فلم کا ڈائيلاک چھوٹی سی تبدیلی کے ساتھ یاد آتا ہے۔ وہ جو ہمیں سبز باغ دکھا کر پتا نہیں اپنے لیے کہاں کہاں چمن آباد کر چکے ہیں۔ عام آدمی ان سے پوچھتا پھر رہا ہے۔ تمہارا تو کچھ نہیں بگڑے گا مجھے بتا “ميرا کيا بنے گا کاليے؟”۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ