بریکنگ نیوز

2018کا انتخابی رزلٹ

akaas-2.jpg

تحریر:عامر شہزاد
25 جولائی 2018 کو ہونے والے انتخابات میں دس کروڑ سے زائد افراد حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ملک میں ووٹرز کی کل تعداد دس کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار407 ہے ،جن میں خواتین ووٹرزکی تعداد چار کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 145 ہے اور مردووٹرزپانچ کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 262ہیں۔ آج کل ٹی وی اینکرز پاکستان کے مختلف انتخابی حلقوں سے عوام کی راے قوم تک پہچانے میں مصروف ہے ۔ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ ایک بار پھر الیکشن کے نام پر سلیکشن ہونے جا رہی ہے۔ لہذا آنے والے انتخابات ملکی تاریخ کے متنازع ترین الیکشن ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ووٹرز کو محسوس ہو رہا ہے کہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کے لئے جیت کا ماحول بنایا جا رہا ہے ،اس لئے انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔میاں نواز شریف نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ الیکشن کے ا نعقاد کومتعلقہ اداروں کا غیر جانبدارانہ رویہ ہی شفاف بنا سکتا ہے مگر افسوس ایسی فضا کسی بھی صوبے میں نظر نہیں آ رہی۔ اگر الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں نے بددستور آنکھیں بند رکھیں تو عام انتخابات کی ساکھ پر مزید سوالات اْٹھیں گے۔
آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات کا یہ تقاضا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں اور انکی قیادتوں کو انتخابی عمل میں اترنے کے یکساں مواقع حاصل ہوں ۔پچھلے چار سال کی قومی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو منصفانہ انتخابات کے دعوے زمینی حقائق کے قطعی برعکس نظر آتے ہیں،کیونکہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو دیوار کے ساتھ لگانے اور اسکے ووٹروں کو اس پارٹی سے بدگمان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ۔ 25سے 50سال پرانی مبینہ کرپشن کی کہانیاں پھیلا کر پارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم میاں نوازشریف کو پانامہ کیس میں الجھا کر اقامہ پر نااہل کردیا گیا ۔ نواز شریف اور انکے خاندان کیخلاف نیب کے ریفرنسوں اور الیکشن لڑنے والے لیگی امیدواروں کو ہراساں کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیانون لیگ ان انتہاء پسند جماعتوں سے بھی بری ہے جو دہشت گردی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی لسٹ میں شامل ہیں اور انہیں اسی بنیاد پر کالعدم قرار دے کر انکے فنڈز منجمد کئے گئے ہیں۔مسلم لیگ ن کو مکمل بے بس کرکے منصفانہ اور شفاف انتخابات کی ضمانت فراہم کرنے کے دعووں پر کون یقین کریگا۔ اگر اس فضا میں 25 جولائی کے انتخابات بھی متنازعہ قرار پائے تو یہ قوم کو جمہوریت سے بدگمان کرنے کی بد ترین سازش کے مترادف ہوگا۔
ایک طرف عمران خان میڈیا پرپاکستانیوں کوکے پی کے میں تعلیم کی بہتری کے بارے میں بتایا کہ اب کل چار سال میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے گورنمنٹ سکولز کا رخ کر چکے ہیں۔ حالانکہ اسی دن کی اخبارات میں نمایاں خبر یہ تھی کہ صوبہ کے پی کے میں آرٹس گروپ کے نویں اور دسویں جماعت میں مجموعی طور پر52 ہزار 803بچے ناکام ہوئے ، سب سے زیادہ36 ہزار950 طلبہ نویں جماعت میں فیل ہوئے ۔پشاوربورڈکے میٹرک کے نتائج میں کسی سرکاری سکول کابچہ ٹاپ ٹوئنٹی پوزیشنوں میں جگہ نہ بناسکا۔ صوبے میں تعلیمی انقلاب کے دعوے کرنے والوں کے وزیر تعلیم پر الزام ہے کہ وہ خود انڈر گریجویٹ تھے ۔
پی ٹی آئی میں ٹکٹوں کی تقسیم اور خرید و فروخت کا شور ان کے اپنے کارکن مچا تے رہے۔ جنہیں پارٹی ٹکٹس نہیں ملے ان کو عمران خان کی طرف سے جواب ملا کہ ،پارٹی ٹکٹ ان امیدواروں کو دیا گیا ہے جو الیکشن لڑنے اور جیتنے کی سائنس کو جانتے ہیں۔لگتا ہے اس مخصوص ’سائنس‘ کے بارے میں خود خان صاحب کو کسی’’ اپنے‘‘ نے ٹپس دی ہیں،ورنہ وہ 2013کے الیکشن میں اس طرح کی غلطی نہ کرتے،یا ٹپس دینے والوں کو 2013میں خان صاحب کی ضرورہی نہیں تھی۔
ایک ووٹر سے جب پوچھا کہ آپ ووٹ کس کو دیں گے تو اس نے پاکستانی سیاست کو اپنے تجربے کے لفظوں میں پروتے ہوئے کہاکہ ،صاحب ووٹ جس مرضی کو دیں وزیر اعظم تو عمران خان نے ہی بننا ہے۔بزرگ کے دوٹوک جواب پرجب پوچھا کہ آپ نے یہ کہاں پڑھا ہے؟۔ تو بزرگ نے کہا ،میں نے نواز شریف ، مریم نوازاور دوسرے مسلم لیگی امیدواروں کے منہ پر لکھا پڑھا ہے۔کیا آپ کو نظر نہیں آتا؟۔ نواز شریف کو موجودہ سیاسی حالات میں پریشان ہونے کے بجائے اپنے پرانے الیکشن رزلٹ کو یاد کرنا چاہیے۔جب نواز شریف کی ضرورت تھی تو1997میں انہوں نے سیاسی مخالفین کے سامنے 137سیٹوں کا پہاڑکھڑا کر دیاتھا۔وہ سمجھے کہ اتنی بڑی کامیابی انہوں نے اکیلے حاصل کی ہے ،وہ اداروں کے سامنے ڈٹ گئے ،پھر ان کا کیا حشر ہوا ، 2002میں 137 کے پہاڑ سے کوئی نہیں صرف نواز شریف گرے اور ان کے دامن میں صرف 18سیٹیں ڈالیں گئیں ۔ بد ترین سیاستدان بھی اتنی عبرت ناک شکست سے دوچار نہیں ہوتا ۔وہ پھر بھی نہ سمجھے اور 2013کے انتخابات میں انہیں دوبارہ186نشستیں ملیں ۔اتنی بڑی کامیابی کسی بھی پارٹی کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے کے لئے کافی ہے ۔ نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو 18نہیں بلکہ 35 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل ہوئیں، کیونکہ اس بار بھی نواز شریف اداروں کی ضرورت تھے۔
ان تمام حقائق کو جب سامنے رکھا تو بزرگ ووٹر کے تجربے نے میری آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹا دیا،ا ور 2018 کا انتخابی رزلٹ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں میرے سامنے تھا۔ عمران خان کیونکہ جارحانہ طبیعت کے کھلاڑی ہیں۔ اگر ہمارے ادارے میاں نواز شریف جیسے نرم مزاج اور دوستانہ طبیعت کے مالک وزیر اعظم کو ڈھائی سال سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتے تو زبان دراز اور بے باک کھلاڑی کو بحیثیت وزیر اعظم تووہ ایک سال بھی برداشت نہیں کریں گے۔ عوامی ہیرو عمران خان نے جس دن عوامی لیڈر بننے کی کوشش کی وہی اس کی وزارت اعظمی کا آخری دن ہو گا۔میڈیا سے ملنے والی تیز معلومات کی بدولت کچھ راز عوام کے سامنے اب راز نہیں رہے ۔عوام کو اپنا اگلا وزیر اعظم چننے کا پورا پورا حق ملنا چاہیے ۔ اس کے لئے شفاف الیکشن وقت کی اہم ضرورت ہیں ورنہ لوگ اس بوسیدہ نظام سے تنگ آجائیں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ