بریکنگ نیوز

آصف علی زرداری کے حامد میر کے پروگرام میں انکشافات

186750_2446129_updates.jpg

زرداری کے بدلے ہوئے تیور
محمد عامر حسینی

صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام ’کیپٹل ٹاک سیپشل‘ میں ٹاک میں انکشاف کیا کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت کچھ جماعتیں الیکشن کا التوا چاہتی تھیں لیکن سابق صدر آصف علی زرداری نہیں مانے اور اس تجویز پر عمل درآمد نہ ہونے دیا۔آصف علی زرداری نے اس پروگرام میں یہ اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ انتخابات کی طرح الیکشن 2018ء میں بھی امیدواروں کو برابر موقع میسر نہیں اور الیکشن کمیشن پوری طرح سے آزاد نہیں ہے۔انہوں نے مسلم لیگ نواز کی جانب سے نادیدہ قوتوں کی مداخلت کے تاثر کی تائید کی ہے۔حامد میر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ آزاد الیکشن لڑ کر منتخب ہونے والوں کے لیڈر چودھری نثار علی خان ہیں اور آصف علی زرداری بھی اس تاثر کی نفی نہیں کرتے۔پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین نے پروگرام میں کہا ہے کہ وہ ہر صورت میں حکومت نہیں بنانا چاہتے اور ضروری نہیں کہ الیکشن کے بعد بلاول بھٹو زرداری وزیراعظم بنیں، ’اپوزیشن لیڈر بننے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔‘آصف علی زرداری کے اس خصوصی انٹرویو نے ملک بھر میں عام انتخابات کے بارے میں تیزی سے مقبول ہونے والے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ ملک کی نادیدہ قوتیں، جن کو عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے اور جنہیں نواز شریف خلائی مخلوق کہہ رہے ہیں، بہت سارے حلقوں میں انتخابی نتائج پہلے سے طے کر چکی ہیں۔آصف علی زرداری سے پہلے حال ہی میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے برملا آئی ایس آئی پہ الزام عائد کیا کہ وہ 2018ء کے الیکشن پہ اثرانداز ہو رہی ہے اور ان کے کئی امیدواروں کو شیر کے نشان واپس کرنے پہ مجبور کیا گیا ہے اور جو انکار کر رہے ہیں ان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔اب آصف علی زرداری نے بھی اس تاثر کو یہ کہہ کر مضبوط کیا ہے:’میری پارٹی کے شوکت بسرا نے جیلیں کاٹیں ماریں کھائیں مگر وہ بھی آزاد الیکشن لڑرہا ہے، منظور وٹو آزاد حیثیت میں کھڑے ہونے کے بعد پیپلز پارٹی سے فارغ ہوگئے ہیں، منظور وٹو کو کسی نے کہا تمہارا آخری الیکشن ہے آزاد لڑو، اگر چیلنج کرو گے تو ہم ہرا دیں گے یا تم خود ہار جاؤ گے۔‘آصف علی زرداری نے اس انٹرویو میں اپنے آبائی گاؤں میں اپنے ایک دوست کے گھر پہ رینجرز اور سندھ پولیس کے چھاپے کا ذکر بڑے معنی خیز انداز میں کیا ہے:’اسماعیل ڈاہری میرا ایک چھوٹا سا کارکن ہے۔مجھے نہیں پتا کیوں پولیس اور رینجرز کی 17 گاڑیوں نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا؟اس کے پاس سے جتنا اسلحہ نکلا، سب لائسنس یافتہ ہے۔میرے گاؤں سے میرے بندے کی گرفتاری کسی کی ادا ہے اور ہر ادا میں ایک پیغام ہوتا ہے۔صرف اسماعیل ڈاہری پر چھاپہ ہی مسئلہ نہیں اور بھی بڑے مسئلے ہیں۔اگر میں نے کوئی ڈیل کی ہے تو وہ مسائل کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ ڈیل کرتا تو کوئی مجھ پر نہیں، میں دوسروں پر چھاپے پڑوا رہا ہوتا۔‘پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز دو ایسی جماعتیں ہیں جن کو پنجاب اور سندھ میں کم و بیش مشکلات کا سامنا ہے اور یہ مشکلات ہمیں پاکستان تحریک انصاف اور اس کی حامی قوتوں کے لیے نظر نہیں آرہیں۔راولپنڈی میں چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار، شیخ رشید احمد کے ساتھ ان کے حلقے میں نظر آئے جس پہ کافی حلقوں نے اعتراض کیا جارہا ہے۔چودھری نثار علی خان کے آبائی حلقے چکری میں ان کے مقابلے میں آنے والے قمر الاسلام کو نیب نے گرفتار کر رکھا ہے اور اب ان کی کمپین ان کے بیٹا اور بیٹی چلا رہے ہیں۔اسی تناظر میں پنجاب میں جیپ کا نشان اہمیت اختیار کر گیا ہے۔چودھری نثار نے راولپنڈی میں اپنے انتخابی حلقوں میں جیپ کا نشان الاٹ کرنے کی درخواست کی، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی جیپ کا نشان ’مقبول‘ ہونے لگا۔مظفر گڑھ میں این اے 181سے سلطان محمود ہنجرا نے شیر کا ٹکٹ واپس کر کے جیپ کو ترجیح دی ہے۔راجن پور سے سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی اور سابق ایم این اے ڈاکٹر حفیظ دریشک نے شیر کے بجائے جیپ کو اپنا انتخابی نشان بنایا ہے۔ڈیرہ غازی خان میں امجد فاروق کھوسہ نے جیپ کی درخواست دی لیکن تاخیر ہونے کی وجہ سے انہیں بالٹی پر گزارہ کرنا پڑے گا۔2008ء کے انتخابات میں بالٹی مشہور ہوئی تھی۔درجنوں آزاد امیدواروں نے بالٹی کے نشان پر الیکشن لڑا تھا۔اس سے پہلے پاکستانی سیاست میں آزاد امیدواروں کے چاند اور مٹکے کے نشان بھی اہم رہے ہیں۔جیپ کے انتخابی نشان کی مبینہ اہمیت آصف علی زرداری کے انٹرویو کے دوران اس بیان کے سبب بھی بڑھ گئی ہے:’پنجاب سے آزاد امیدوار زیادہ کامیاب ہوں گے، جیپ کے نشان والے امیدوار بڑی تعداد میں جیت گئے تو پھر وہ ڈکٹیٹ کریں گے۔‘آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی طرح کسی ایجنسی کا یا براہ راست فوج کا نام لینے سے گریز کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ براہ راست تصادم کا راستا اختیار نہیں کریں گے۔تاہم ان کے ان الفاظ میں ایک پیغام چھپا ہوا ہے:’ہر جگہ آزاد امیدوار کھڑے ہو رہے ہیں، الیکشن میں پنجاب سے زیادہ تر آزاد امیدوار جیتیں گے، ان میں کچھ پیپلز پارٹی، کچھ ن لیگ اور کچھ پی ٹی آئی کی بس سے اترے ہیں۔جیپ کے نشان پر لڑنے والے آزاد امیدوار خود بھی جیپ پر چڑھے ہوں گے اور کسی نے چڑھایا بھی ہوگا مگر زیادہ تر لوگوں کا شوق اپنا ہے۔میری پارٹی کے بسرا نے جیلیں کاٹیں ماریں کھائیں مگر وہ بھی آزاد الیکشن لڑرہا ہے۔ منظور وٹو آزاد حیثیت میں کھڑے ہونے کے بعد پیپلز پارٹی سے فارغ ہوگئے ہیں۔ منظور وٹو کو کسی نے کہا ’تمہارا آخری الیکشن ہے آزاد لڑو، چیلنج کرو گے تو ہم ہرادیں گے یا تم خود ہار جاؤ گے۔‘سابق صدر کا کہنا تھا کہ جیپ کے نشان والے بڑی تعداد میں ہوئے تو 25 جولائی کے انتخابات کے بعد کوئی سنجرانی بھی وزیراعظم بن سکتا ہے۔ ’چاہے کچھ بھی ہوجائے ہمارے بغیر حکومت نہیں بنے گی، جس نے بھی حکومت بنانا ہوگی اسے ہم سے بات ضرور کرنا ہوگی، البتہ ہم ہر حال میں حکومت نہیں چاہتے۔‘اس ساری بات چیت کا مقصد شاید یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے مقتدر قوتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ الیکشن کے بعد جس قسم کا سیاسی سیٹ اپ تشکیل دینے کی کوشش میں ہیں اس میں سارے پتّے ان کے ہاتھ میں نہ تو ہیں اور نہ رہیں گے۔آخرکار ان کو جمہوریت پسند اصل قوتوں سے بات کرنا ہوگی اور اس میں پیپلز پارٹی کا اہم ترین کردار ہوگا۔آصف زرداری نے صاف طور پر یہ عندیہ بھی دیا کہ اگرچہ بہت زیادہ مداخلت ہو رہی ہے لیکن وہ الیکشن پراسیس اور جمہوری اداروں کو اپنے ہاتھوں سے ڈس کریڈٹ نہیں کریں گے اور کسی غیر منتخب نظام کو آنے کا راستا نہیں دیں گے۔ارتقا کے راستے کو چننے کا کہہ کر انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے نرم مزاحمت کا راستا اختیار کریں گے۔آصف علی زرداری اور نواز شریف کی سوچ کا فرق اس ارتقا اور انقلاب کے فرق سے نظر آتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ راستا مسلم لیگ نواز کے نئے صدر شہباز شریف سے بھی مختلف ہے کیونکہ وہ ایک بار مشاہد حسین کے زریعے اور ایک بار خود، فوجی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیشکش کر چکے کہ وہ ان کے ساتھ کام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔آصف علی زرداری نے اب بھی پاکستان تحریک انصاف سے الیکشن کے بعد تعاون کرنے سے انکار نہیں کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ الیکشن کے بعد اتحاد اور تعاون کا امکان عمران خان نے خود ختم کیا ہے۔عمران خان جنھوں نے الیکشن کے بعد نیب، پولیس سمیت ان اداروں کو مضبوط بنانے کا عندیہ دیا ہے جن پہ الزام ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کا کام کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا عمران خان کا مبینہ اسٹیبلشمنٹ نواز ایجنڈا پیپلز پارٹی کو بعد از الیکشن قبول ہوگا؟آصف علی زرداری نے عندیہ دے دیا ہے کہ وہ اپنی شرائط پہ کسی بھی حکومت بنانے کے دعوے دار سے بات چیت کریں گے۔انہیں کوئی پرابلم نہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ