بریکنگ نیوز

پاکستان کی سیاست کا مستقبل یہ بھی ہو سکتا ہے!

6lYVAcqT.jpg

تحریر: حسن فاروق

عام انتخابات کا اعلان کردہ نظام الاوقات کے مطابق اپنے مراحل طے کرتے ہوئے حتمی معرکہ آرائی کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ دریں حالات انتخابات کے مق۴ررہ وقت ہی 25جولائی 2018منعقد نہ ہونے کے متعلق تشلیک پسندی معقول نظر نہیں آتی۔ تاہم یہ نتیجہ سطحی انداز کا حامل ہے کہ چند واقعات اب بھی انتخابات کے پر امن شفاف اور مقررہ اعلان کے مطابق منعقد ہونے کے متعلق مشکوک قیاس آرائیوں کے لیے کافی جواز مہیا کرتے ہیں۔ انتخابات سے قبل جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے وہ انتخابات کے ذریعے طے شدہ من پسند نتائج کے حصول کی بلا تردد نشاندہی کرتے ہیں۔ موجودہ حالات ایسے بہت سے تاریخی واقعات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کیسے پاکستان کی تاریخ میں پارٹیوں کو کمزور کرنے کے لیے اور ان کی مقبولیت کوختم کرنے کے لیے بہت سی چالیں کھیلی گئی۔
کیا موجودہ الیکشن پاکستان کی تاریخ میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکے گا۔ ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے موجودہ الیکشن بھی صرف ایک محض ڈھونگ ہے۔ چنانچہ میرا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات کے انعقاد کا بھی اس نقطے پر بنیادی انحصار ہو گا کہ قومی اسمبلی میں کوئی جماعت تنہا حکومت بنانے نہ پائے بلکہ ایک مخلوط حکومت قائم ہو جو یکسوئی سے حکومت نہ کر سکے اور پالیسی سازی، قومی، دفاع و خارجہ حکمت عملی علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کا نیا رخ متعین کرنے کے متعلق سوچ بچار بھی نہ کر پائے۔ موجودہ حالات اس بات کی طرف صاف اشارہ کر رہے ہیں اور ایسے حالات دکھائی دے رہے ہیں کہ چاروں صوبوں میں سیاسی اتحاد و گٹھ جوڑ اس نوعیت اور ترتیب سے تشکیل دئیے جا رہے ہیں جو حتمی طور پر مرکز و صوبوں میں بھی لاچار غیر مستحکم مخلوط حکومتوں کے قیام کا سبب بن سکتی ہیں۔ حکمت علمی کے ساتھ مرتب کی گئی سیاسی صف آرائی کے باوجود اس خدشے کا شافی
جواب تا حال کسی کے پاس نہیں کہ 25جولائی کو عوامی رائے دہندگان کا موڈ، رویہ اور فیصلہ کیا ہو گا۔

التواء یا نتائج بدلنے کی دونوں صورتوں میں ملک جو پہلے ہی خارجہ خطرات، دباؤ اور دہشت گردی میں جکڑا ہوا ہے، سیاسی طور پر مزید خلفشار کی زد میں جا سکتا ہے۔ اندرونی طور پر مختلف تحریکیں پہلے سے ہی گھنٹی بجا چکی ہیں اگر ملک سیاسی خلفشار، احتجاجی تحریک یا سیاسی عدم استحکام جس کی ایک یقینی صورت مخلوط حکومتوں کا قیام اور معلق پارلیمان ہو۔ ایسے مراحل میں جبکہ بیرونی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے ملک میں مذہبی، نسلی، لسانی، سیاسی اور قومی اتفاق و اتحاد کی اشد ترین ضرورت ہو گی۔
ہمارے غلط، غیر آئینی رویوں و اقدامات کے نتیجے میں ملک شدید طور پر عدم استحکام کے خطرات میں لپیٹ میں آ جائے تو سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں درست لائحہ عمل اور حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔

میں تجویز کروں گا کہ انتخابات میں کسی جماعت یا گروہ یا کسی سرکاری، ریاستی سرپرستی و تعاون کا تاثر دینے والی یا جعلی صورتحال کو ابھرنے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کے عدلیہ انتخابی عمل کا حصہ بننے کی بجائے انتخابی غداریوں کی اور انصاف کے غیر جانبدار کردار کی طرف پلت جائے۔ عوام کو اپنی مرضی و پسند کے ساتھ پر امن طور پر کسی خدشے کے بغیر آزاد رائے کے اظہار اور اپنے حکمران و نمائندے منتخب کرنے کا موقع جائے۔ اس طرز کو اپنانے اور رائج کرنے سے مستقبل میں بننے والی
مضبوط اور مستحکم بھی ہو گی جو اداروں کو بھی مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ