بریکنگ نیوز

ایک سبق آموز حکایت

akaas-2.jpg

تحریر :عامر شہزاد
رسول اللہ ﷺنے ایک موقع پرفرمایا تھاکہ ایک دور آئے گا جب انسان سمجھے گا کہ وہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے حالانکہ وہ تنزلی کی طرف جا رہا ہو گا۔آج ہماری نئی نسل سائنس کی ان ایجادات سے مستفید ہو رہی ہے جن کا چند سال پہلے ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ موبائیل انٹر نیٹ اور کیبل ٹی وی چینلز دور حاظر کی وہ ایجادات ہیں جن کے استعمال سے دنیا حقیقتا گلوبل وویلئج بن چکی ہے ۔لیکن ان ہی ایجادات نے ہماری نئی نسل کی اخلاقی قدروں کا جنازہ نکال دیا ہے ۔انٹر نیٹ اور میڈیا کے طوفان بدتمیزی سے پہلے دور میں انسانی اقدار کا لحاظ کیا جاتا تھا ۔بزرگ رات کو سونے سے پہلے کہانیوں اور حکایتوں کے ذریعے زندگی کا نچوڑ سامنے رکھ دیتے تھے۔ان حکایتوں میں چھپے کرداروں کو ہم چھت پر لیٹے ستاروں میں تلاشتے ، معصوم جذبوں کی خوشبو یں آنگن میں لگے پھولوں میں محسوس کرتے، کہانی کی رنگینی کو تتلیوں کے رنگوں میں ڈھونڈتے ،مگر آج ہماری نئی نسل معصومیت کی عمر میں دنیا بھر کی قوموں کا مطالعہ ’’گہرائی‘‘سے کر چکی ہے۔ کہانیوں کی رنگینوں کا مشاہدہ مغربی اور ہندوانہ ثقافتی یلغار کی صورت میں بھگت چکی ہے،اور ان کہانیوں کے کرداروں کی شوخیاں ،بے باکیاں اور راعنائیاں اپنے اوپر طاری کرنے میں دن رات مگن ہیں۔ان کی اس نا گفتہ بہ حالت دیکھ کر ہم آج پھرسچے اور کھرے ماضی میں معاشرہ کے حکایت گوئی جیسا اہم پہلو ڈھونڈتے ہیں ،جومفاد پرست میڈیا کی شوخیوں میں گم ہو گیا۔
آج کے ترقی زدہ دور میں کتنے انسان ہیں جو اپنے ہر عمل سے پہلے اْسے انسانیت کی کَسوَٹی پر پرکھتے ہیں ؟ ۔ ہماری نئی نسل میڈیاپراخلاق سوز کہانیاں دیکھ کر اپنے ذہن گندے کر رہی ہے ۔ فلموں اور ڈراموں سے دھیان ہٹانے کے بہانے اگر خبریں لگا ئی جائیں تو وہاں ٹاک شوز میں سیاستدان انسان اور جانور کا فرق بھول کر ایک دوسرے پر وحشیانہ وار کر رہے ہوتے ہیں ۔گالیاں ، مکے،تھپڑ تو دور کی بات ایک دوسرے کے ڈی این اے کرانے تک کی باتیں ہوتی ہیں ۔ اور یہ سب ہم گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ دیکھنے کے لئے مجبور ہیں۔
سینئر صحافی حامد میرکا شمار پاکستان کے ان چند ٹی وی اینکرز میں ہوتا ہے جن کا نام ہی ریٹنگ کے لئے کافی ہے، مگر پچھلے دنوں ان کے پروگرام میں تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری اورن لیگ کے طلال چوہدری کے درمیان ہونے والی گفتگو سن کر ہر شریف انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کیا ایک سیاستدان اپنی قیادت کو خوش کرنے کے لئے اس حد تک بھی گر سکتا ہے کہ اپنے سیاسی مخالف کے حلالی ہونے یا نہ ہونے کے ایشو پر لائیو پروگرام بات کر جائے ۔عمران خان نے لوٹوں پر تنقید کئے جانے پر کہا تھا ‘‘فرشتے کہاں سے لاؤں’’۔فرشتوں کی جگہ انہیں فواد چوہدری جیسے مل گئے جو اپنی توہین آمیز زبان و بیان کے استعمال سے سامنے والے تو کیا گھر بیٹھے سامعین و ناظرین تک کو ’’متاثر‘‘ کر دیتے ہیں۔ان متاثرین میں گھر بیٹھی مائیں بہنیں اپنے باپ ،بیٹوں اور بائیوں سے منہ چھپا کر دوسرے کمروں میں باگ جاتی ہیں۔لگتا ہے فواد چوہدری جیسوں نے سیاسی اقدارکوبد زبانی کے ملبے تلے دفن کر دیا ہے ۔ پیمرا کو چاہیے کہ ٹاک شوز میں حلالی اور حرامی کا سرٹیفکیٹ دینے والوں اور اس قسم کی واہیات اور اخلاق سوز گفتگو کرنے والے سیاسی مداریوں کی میڈیا پر پابندی لگائیں،تاکہ ان کے مغلظات سے صرف ان کے اپنے عزیز و اقارب اور سیاسی قائدین ہی مستفید ہو سکیں۔
حکایتوں کا حسن ہی یہ ہوتا ہے کہ بڑی بڑی بات واقعات اور کہانیوں کی شکل میں ہر ایک کے سامنے رکھ دئی جاتی ہے۔ایک دوسرے پر تبرا کرنے والوں کے لئے ایک سبق آمیزحکایت پیش ہے۔ کہتے ہیں ،ایک شخص کے تین بیٹے تھے۔اس نے تینوں کا نام حجر رکھا ہوا تھا۔ دن گزرتے گئے یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت قریب آگیا۔اس نے بیٹوں کو وصیت کی کہ ،حجر کو وراثت ملے گی، حجر کو وراثت نہیں ملے گی اور حجر کو وراثت ملے گی۔وصیت کرتے ہی وہ مر گیا۔ خود تو فوت ہو گیا مگر اپنے تینوں بیٹوں کو حیرت میں ڈال گیا کہ کیسے فیصلہ ہو کہ کس حجر کو وراثت نہیں ملے گی۔تینوں نے فیصلہ کیا کہ شہر جا کر قاضی سے اس کا فیصلہ لیتے ہیں۔تینوں شہرپہنچے، قاضی کی خدمت میں حاظر ہو کر اپنی وراثت کا معاملہ قاضی کے سامنے رکھ دیا۔ان کا قصہ سنتے ہی قاضی بہت حیران ہوا ۔ تینوں سے کہا کہ آج کی رات مہمان خانے میں ٹھہرو ، کل تمہیں سوچ کر کوئی حل بتاتا ہوں۔جب تینوں مہمان خانے پہنچے تو انہیں محسوس ہوا کہ کوئی ان کی نگرانی کر رہا ہے۔کچھ دیر بعد انہیں کھانے میں گوشت اور روٹی پیش کی گئی ۔ پہلے حجر نے کھانا دیکھتے ہی کہا کہ یہ سالن کتے کے گوشت کاہے۔دوسرے نے کہا جس عورت نے روٹیاں بنائی ہیں وہ پورے دن کی حاملہ ہے۔تیسرے حجر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ قاضی حرام کی اولاد ہے۔
نگرانی کرنے والے نے قاضی کوسب باتیں بتا دیں ۔ قاضی نے تینوں کو عدالت میں طلب کر لیا۔اور کہا کہ تم میں سے کس نے کہا تھا کہ گوشت کتے کا ہے ؟۔ ایک بھائی آگے آیا ۔قاضی نے باورچی کو بلوایا اور پوچھا ۔باورچی نے کہا یہ سچ ہے، کیونکہ پکانے کو کچھ نہ تھا اس لئے کتے کا گوشت پکانا پڑا۔قاضی نے حجر سے پوچھا تمہیں کیسے پتا چلا یہ کتے کا گوشت ہے؟۔اس نے بتایا کہ گائے ، بکری یا اونٹ کے گوشت کے نیچے چربی لگی ہوتی ہے جبکہ یہ سارا چربی نما تھا۔جس کے نیچے کہیں کہیں گوشت لگا ہوا تھا ۔ قاضی نے کہا تم وہ حجر ہوجس کو باپ کی وراثت ملے گی۔ پھرقاضی نے پوچھا کہ تم میں سے کس نے کہا تھا کہ روٹیاں پکانے والی عورت حاملہ ہے؟۔ دوسرا حجرآگے آیا ۔ قاضی نے پوچھا کہ تم کو کیونکر پتہ لگا کہ روٹی پکانے والی عورت نو ماہ کی حاملہ ہےْ ۔ حجر نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ روٹیاں ایک طرف سے پھولی ہوئیں اور خوب پکی ہوئی جبکہ دوسری طرف سے کچی اور موٹی رہ گئی تھیں میں سمجھ گیا کہ روٹیاں پکانے والی عورت اتنی تکلیف میں تھی کہ ٹھیک طرح سے جھک کر روٹیوں کو سامنے سے دیکھ بھی نہیں سکتی تھی۔جس کا مطلب ہے کہ عور ت حاملہ ہے اورتکلیف میں ہے ۔ قاضی نے اسے کہا کہ تم بھی وہ حجر ہو جسے باپ کی وراثت میں حصہ ملے گا۔
تیسرے رہ جانے والے حجر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ،اس کا مطلب ہے تم نے مجھے کہا تھا کہ قاضی ولد الحرام ہے۔اس نے کہا ہاں ۔ قاضی اٹھ کر اندر گیا اور اپنی والدہ کے سامنے یہ سوال رکھ دیا ۔ والدہ نے بھی کہا کہ یہ سچ ہے ۔قاضی نے واپس آ کر کہا کہ تم کو کیسے پتا چلا کہ میں حرامی ہوں؟۔ اس نے جواب دیا کہ اگر تم حلالی ہوتے تو مہمان خانے میں ہماری نگرانی نہ کراتے، ہمیں کتے کا گوشت نہ کھلاتے اور نہ ہی کچی روٹیاں کسی مظلوم تکلیف زدہ عورت سے پکواتے۔قاضی نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تم وہ حجر ہو جسے اس کے باپ کے مال سے حصہ نہیں ملے گا۔تیسرے نے حیرت سے پوچھا مگر ایسا کیوں ہےْ۔قاضی نے جواب دیا کہ ایک حرامی ہی دوسرے ولدالحرام کو ٹھیک ٹھیک پہچان سکتا ہے۔اور تم میری طرح حرام کی اولاد ہو۔وراثت پانے والے دونوں حجر اپنی ماں کی طرف لوٹے اور اس سے دریافت کیا کہ ہمارے تیسرے بھائی کا کیا ماجرہ ہے۔تو ان کی ماں نے کہا تمہارا باپ ایک صبح نمازپڑھنے مسجد گیا ،اسے مسجد کے دروازے پر رکھا ہو بچہ ملا تھا اسے اٹھا کر گھر لے آیا اور اس کا نام بھی تمہارے نام جیسا رکھ دیا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ