بریکنگ نیوز

نواز شریف کی سیاست اور احتساب عدالت کا فیصلہ

187013_2650411_updates-1.jpg

احتساب عدالت کا فیصلہ
آصف محمود
احتساب عدالت نے اپنا فیصلہ سنا یا تو منیر نیازی یاد آ گئے:
’’ ہُن جے ملے تے روک کے پچھاں
ویکھیا ای اپنا حال!
کتھے گئی اوہ رنگت تیری
سپاں ورگی چال
گلاں کردیاں گنڈیاں اکھاں
وا نال اڈدے وال
کتھے گیا اوہ ٹھاٹھاں ماردے
لہو دا انہاں زور
ساہواں ورگی گرم جوانی
لے گئے کیڑے چور‘‘

کہاں ان کا کروفر، کہاں ان کی دھمکیاں کہ ہم لوہے کے چنے ہیں، کہاں وہ گز بھر لمبی زبانیں کہ ہم تم پر زمین تنگ کر دیں گے، جہاں وہ ناتراشیدہ لہجوں سے ٹپکتا تعفن جسے یاروں نے بیانیے کا نام دے ڈالااور کہاں یہ خانہ ویرانی کہ اہل دربار میں کسی کو توفیق ہی نہ ہو سکی کہ جس لمحے قائد محترم کے نامہ اعمال پر عدالت فیصلہ صادر کر رہی تھی کوئی آتا تو دستر خوان سے حاصل کیے گئے نمک کا صدقہ ہی اتار جاتا۔ نہ دانیال عزیز کے لہجے کا آتش فشاں تھا ، نہ طلال چودھری کے لہجے میں لپٹی شان بے نیازیاں ، نہ اسلام آباد کے اہل دربار تشریف لائے نہ دربار کے ارسطو کو توفیق ہوئی کہ علم و فضل کے چند موتی بکھیرنے آ جاتا۔کوئی ویرانی سی ویرانی تھی؟

میاں نواز شریف ، دس سال قید ۔مریم نواز کو آٹھ سال قید۔ میاں نواز شریف کو 8 ملین پاؤنڈ جرمانہ اور مریم نواز کوجن کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں تھی2 ملین پاؤنڈ جرمانہ۔ ایوین فیلڈ اپارٹمنٹ کے ضبط کیے جانے کا حکم الگ۔کم و بیش ایسے ہی فیصلے کی توقع کی جا رہی تھی۔نامہ اعمال سب کے سامنے تھا۔ کسی کیس کی فائل ایک بار دیکھ لی جائے تو وکیل کا منشی بھی بتا سکتا ہے نتیجہ کیا نکلے گا۔ اس کیس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا ۔کسی رہنما کے حصے میں آنے والے بے وقوفوں کا معاملہ الگ ہوتا ہے ، یہ ہر حال میں قائد محترم کے فضائل بیان کرتے ہیں تاہم جنہوں نے اپنی آنکھیں اور شعور دربار میں رہن نہیں رکھوایا ہوا وہ جانتے تھے کہ میاں صاحب کسی ایک الزام کا بھی ڈھنگ سے دفاع نہیں کر سکے۔ عوام کے سامنے بیانیہ دینا الگ بات ہے اور عدالت میں دلائل سے نامہ اعمال کا دفاع کرنا بالکل الگ معاملہ ہے۔اداروں کے خلاف اپنی زبانوں کو سیاسی آقاؤں کو ٹھیکے پر دینا اور بات ہے ، سچ مگر یہ ہے کہ کیس کی فائل ا ٹھا کر دیکھ لیں اور ہم طالب علموں کو بھی سمجھا دیں کہ فلاں الزام کا جواب دلائل کے ساتھ دیا گیا اور اسے رد کر دیا گیا۔

قانون کی عدالت میں تو میاں نواز شریف ہار گئے۔ نواز شریف کے بیانیے کا محور اب عوام کی عدالت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب عوام کی عدالت میں کیا ہو گا؟یہ میاں نواز شریف ہی تھے جو معاملے کو قانون کی عدالت میں لے گئے۔ عمران خان تو معاملہ عوام ہی کی عدالت میں لے آئے تھے۔ نواز شریف نے کہا تھا کہ مسائل سڑکوں پر نہیں قانون کی عدالت میں طے ہوتے ہیں۔ جب معاملات قانون کی عدالت میں آئے تو میاں نواز شریف نے کہنا شروع کر دیا معاملات تو عوام کی عدالت میں طے ہوتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ نہ عوام کی عدالت نہ قانون کی عدالت ، حکمرانوں کو صرف ماما جی کی عدالت چاہیے جہاں نکے بھا جی فون کریں، بتائیں کہ وڈے بھا جی کیا چاہتے ہیں اور مرضی کا فیصلہ آ جائے۔یہی گمان تھا کہ دونوں
بھائی جانوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سن کر ایک دوسرے کے منہ میں لڈو ٹھونسے تھے۔بھائی جانوں کا خیال تھا کہ ہر ادارہ ہم اپنی تجوری میں بند کر لیں گے۔ بعد میں جب بھائی جانوں کو معلوم ہوا اب ایسا ممکن نہیں تو منہ شریف میں ٹھونسے گئے لڈو کڑوے ہو گئے۔اور یہ کڑواہٹ دوسرے درجے کے اہل دربار کے لہجوں میں زہر کی صورت سرایت کر گئی۔سیاسی آقا کی خاطر اداروں کو گالیاں دینے والے نہال ہاشمی خود یوں عبرت بنے کہ اسی عدالت میں ، اسی کیس میں ، اسی نواز شریف کی پیشی کے وقت لوگوں نے دیکھا ججز پر زمین تنگ کر دینے کی دھمکیاں دینے والا نہال ہاشمی بے بسی سے ایک کونے میں روک دیا گیا کہ حد ادب یہیں رکو ۔میاں صاحب تک جانے کی اجازت نہیں۔پیادے کی اس نظام سیاست میں اتنی ہی اوقات ہوا کرتی ہے۔

نواز شریف کا کھیل ختم ہو چکا۔ لوگوں میں جیسے جیسے شعور آتا جائے گا ان کا طرز سیاست نفرت کی علامت بنتا جائے گا۔ان کی Legacy ہی کیا ہے؟ ایک کرپٹ اور کریانہ سٹور قسم کا طرز حکومت جس نے سماج کے گودے میں کرپشن اتار دی۔سورج کی دھوپ پھلوں میں اتر کر جیسے رس بھر دے ان کے طرز سیاست نے ایسے ہی سماج کو بد عنوان بنایا۔ہر ادارہ انہوں نے پامال کیا اور ذاتی وفاداروں کے لشکر پالے اور قومی خزانے سے پالے۔۔ ابن الوقتوں کو خلعتیں دیں اور نجیب لوگوں کو رسوا کیا۔ دعوی تو یہ تھا کہ ہم نے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا ہے سچ مگر یہ تھا انہوں نے سیاست کو بد عنوانی کا جمعہ بازار بنا دیا۔یہ طرزسیاست نہ تھا یہ ایک مکمل واردات تھی۔یہ ایک کاروبار تھا۔ گداگران سخن یہاں اشرفیوں میں تولے گئے ۔جالب کے الفاظ مستعار لوں تو جس جس نے اپنے قلم سے ان کے لیے ازار بند ڈالے ان پر نوازشات کے دریا بہا دیے گئے۔کوئی سفیر بنا ، کسی پر قومی خزانے کے منہ کھل گئے ، کسی کو خلعت عطا ہوئی۔ شرافت کی سیاست تھی، شرافت کی صحافت تھی، بیوروکریسی کنیز بنا دی گئی اور جب عدالت کو ’’ شرافت کی عدالت ‘‘ نہ بنایا جا سکا تو ان کے دہن گویا آتش فشانوں کے دہانے بن گئے۔یہ طریق واردات اب پرانا ہو چکا۔ اب نیا دور ہے ۔ با شعور نوجوان سوشل میڈیا پر متحرک ہیں۔ یہاں چٹوں سے دیکھ کر پڑھا گیا بیانیہ اب مزید نہیں چل سکتا۔

عدالت نے تو فیصلہ دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ اب نواز شریف کا فیصلہ کیا ہے۔وہ وطن واپس آتے ہیں تو ان کی سیاست کو کچھ سہارا مل سکتا ہے۔ واپس نہیں آتے تو زوال کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔ انجام دونوں صورتوں میں ایک ہے۔زوال کا یہ سفر صرف ایک صورت میں کچھ دیر کے لیے رک سکتا ہے۔اور وہ صورت یہ ہے کہ احتساب کا یہ عمل نواز شریف سے شروع ہو کر انہی پر رک جائے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو نواز شریف کو مظلوم بننے کا موقعع مل جائے گا اور یہ سماج بہر حال مظلوم کے لیے غیر معمولی نرم گوشہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر احتساب نے نواز شریف کے بعد کچھ اور بارگاہوں پر بھی دستک دی تو پھر نواز شریف کو فعل ماضی سمجھیے۔

نواز شریف انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہیں اور انصاف تاریخ کٹہرے میں۔ نواز شریف سرخرو نہیں ہو پائے لیکن تعزیر کا کوڑا صرف نواز شریف کی کمر پر برستا رہا تو شاید انصاف بھی سرخرو نہ ہو سکے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ