بریکنگ نیوز

غلیل

images-10.jpg

تحریر عبدالرحمن

شاہدرہ والی سمت سے لاہور داخل ہوں توجہاں اب دھول اڑتی ہے وہاں کبھی راوی بہتا تھا۔ جو اب بڈھے راوی، جسے لا علاج سمجھ کے کب کا دفنا دیا گیا اس سے بھی عمر رسیدہ، لاوارث اور تعفن کا گڑھ بن کر کووں کی چھینا چھپٹی اور چیلوں کی چیخوں کی گونج سے آسیب زدہ دکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے یہ وہی راوی ہے جہاں مغل شہزادے اور شہزادیاں ہی سیر سپاٹے کے لیے نہیں آتے تھے بلکہ چند دہائیاں پہلے تک عوام کی وہ اکثریت جو لندن کے ٹیمز اور پیرس کے سین کو صرف حکمرانوں کی سیر سپاٹوں کی تصویری کہانیوں میں ہی دیکھ سکتے ہیں اس کے کنارے ان کا ایک جم غفیر ہوتا جو پشاور جائے بغیر دل پشوری کر لیتا۔ پھر کیا ہوا اچانک لاہور کے حکمرانوں نے ترقی کرنے کی ٹھان لی اور بے چارہ راوی ان کا شکار ہو گیا۔ ترقی کے سارے شاہکار، رنگ برنگے پلاسٹک کے تھیلوں کے انبار اور آنے والی نسلوں کے لیے سارے شہر سے اکٹھے کیے جوہرات سے لدی ٹرالیاں راوی کے پیٹ میں روزانہ دفنائی جانے لگیں۔ اب پل سے گزریں تو ناک پے ہاتھ رکھ کران خزانوں سے اٹے راوی سے لطف اندوز ہونا پڑتا ہے۔ یہ کہانی لاہور ہی کی نہیں بلکہ ہر چھوٹے بڑے شہر کا حال اس سے بھی بدتر ہے؛ کراچی کی ندیوں کا ترقی تو کچھ نہ بگاڑ سکی ہاں البتہ دیہی اور شہری روایات کے پاسبان حکمرانوں کی کشمکش میں بے چاری سمٹ کر نالیاں بن گئیں۔ صدر مشرف صاحب اکثر اپنے بچپن کو یاد کرتے جب وہ نالہ لئی میں مچھلیاں پکڑتے تھے۔ لیکن جناب بھی راولپنڈی کو ٹوکیو بناتے ہوئے یاداشت گھو بیٹھے کہ اہلیان راولپنڈی کے بچے بھی ویسے ہی مچھلیاں پکڑنا چاہتے ہیں۔
اسے بدقسمتی کہیں یا غفلت سمجھیں، کچھ بھی ہو لیکن نتیجہ قوم کا منہ چڑا رہا ہے۔ ایسے دکھتا ہے جیسے ہم نے مصلحت یا خوف میں ملکی فضاوں پر چیلوں اور کووں کے راج سے سمجھوتہ کر لیا ہو اور محافظوں کی بے حسی سے انہیں ایسی کھلی چھٹی ملی ہے کہ ان کے ڈر سے بلبلیں اور فاختائیں جو کبھی بلا خوف موج مستی کرتیں اب ایسی کونوں کھدروں میں دبکی ہیں کہ اکا دکا اگر نظر آئیں بھی تو اجنبی سی لگتی ہیں۔ اس ڈر اور خوف کے ماحول میں قوم کی اچھے برے کی پہچان ہی ختم ہو گئی ہے۔ اکثر والدین نا سمجھی میں چیلوں کو شاہین پتا کر بچوں کے علم میں اضافہ کر کے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی تعلیم کی وجہ سے نوجوان نسل چھینا چھپٹی کرنے والے کو معزز اور چور اچکوں کو معتبر سمجھ کے انہیں اپنا آئیڈیل بنائیں تو اس میں ان کا کیا قصور؟ کوئی اقبال نہیں جو انہیں شاہینوں اور گدھوں کا فرق سمجھائے سب ضروری کاموں میں جتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے گرمیوں کی ایک دوپہر میں نے ایسا ہی ایک تماشا جس سے قوم محظوظ ہو رہی ہے اپنے دفتر کے سامنے باغ میں کووں اور چیلوں کے درختوں کے گھنے سائے پر قبضہ جمائے ہوئے دیکھا۔ ان کے ڈر سے باغ کے معصوم پکھی ایسے بھاگے کو ڈرا کے کہ ان کو دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔ جو ایک آدھ کہیں دکھتا وہ بھی ایسا سہما، دبکا ہوتا کہ اس کی آواز ان کی چیخوں اور کائیں کائیں کے شور میں سنائی ہی نہ دیتی۔ میں نے ہمت کر کے ایک لڑکے کو غلیل تھمائی اور انہیں ڈرانے کی ڈیوٹی سونپ دی۔ میں حیران رہ گیا؛ معصوم پرندوں کے لیے جتنے خون خوار، اپنی موت نظر آئی تو اتنے ہی بزدل ثابت ہوئے اور صرف ڈراوے سے ہی دم دبا کے باغ سے بھاگ نکلے۔ چند دنوں کے پہرے سے ہی باغ کی رونقیں لوٹ آئیں، پھر سے رنگ برنگے، خوبصورت اور شرمیلے پکھیوں کے واپس آ جانے سے میں سمجھا، اپنے ملک کا ایسا برا حال کیوں ہے! جیسے جیسے ریاستی چوکیداروں نے اپنے فرائض سے نظریں پھیریں۔ چور آچکوں، ڈاکووں، لٹیروں اور نو سربازوں کو ایسی شہہ ملی کہ وہ سر عام دن دھاڑے، دندناتے، چنگھاڑتے اور روندھتے ہوئے پورے ملک کو لوٹ کا مال سمجھ بیٹھے۔
لیکن اپنے دفتر کے باغ کے واقع سے مجھے جہاں حوصلہ ہوا وہیں ایک سبق بھی ملا کہ اگر مالی ہمت کرے تو یہ باغ پھر سے آباد ہو سکتا ہے۔ ہر پانچ سال بعد انتخابات کا زمانہ آتا ہے اور قوم چھوٹے اور جھوٹے وعدوں میں ان کی برپا کی تباہی اور بدحالی کو بھول جاتی ہے اور گدھوں، چیلوں اور کووں کے ڈر اور فریب میں باغ ان کے حوالے کر کے اگلے پانچ سال نوحے سنتی سناتی ہے۔ جب کہ تھوڑی سے ہمت سے اس طویل عذاب سے بچا جا سکتا ہے۔ ایک غلیل ہی تو اٹھانی ہے اور دیکھیں پھر یہ گدھ، چیلیں اور گوے کیسے سر پے پاوں رکھ کے بھاگتے ہیں۔ لیکن یاد رہے غلیل آپ کو ہی اٹھانی ہے اس کے لیے فرشتے نہیں اتریں گے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ