بریکنگ نیوز

ٹرمپ انتطامیہ کی تجارتی دھمکیوں سے امریکہ کو نقصان کا سامنا

trump-3.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ رواں ماہ 6جولائی کو امریکہ نے 34بلین دار مالیت کی چینی پراڈکٹس پراضافی ٹیرف عائد کرنے کے احکامات صادر کیئے اور اس طرح سے چین کیساتھ عالمی سطع پر تجارتی محاز آرائی کا آغاز کر دیا اور عالمی تجارت و معیشت اور عالمی آزادانہ تجارت کے قوانین و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی شروع کی، یوں امریکی قیادت نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے خلاف تجارتی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ عالمی آزادانہ تجارت کی راہ میں رکاوٹیں شروع کرنے کا عملی آغاز کر دیا گیا۔امریکی قیادت کی جانب سے عائد کردہ اضافی ٹیرف عالمی تجارتی معاہدہ (WTO)کی کھلی خلاف ورزی ہے اور چین کی وزارتِ کامرس نے امریکہ کے تجارتی محاز آرائی کے حوالے سے ان یکطرفہ اقدامات کو تجارتی بدمعاشی حکمتِ عملی سے تعبیر کیا ہے اور امریکہ کی جانب سے اس تجارتی بد معاشی کو چین اور دنیا بھر کے اقتصادی ماہرین کی جانب سے کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ امریکی قیادت اگر یہ سوچ رکھتی ہے کہ چین کو تجارتی بد معاشی سے ڈرا دھمکا کر امریکہ ایک بار پھر سے عظیم تجارتی ملک بن جائیگا سراسر امریکی قیادت کی غلط فہمی ہے، اس ضمن میں اگر ٹرمپ انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ وہ ان دھمکیوں سے چین کو خوفزدہ کر لیں گی تو امریکی قیادت بیواقوفی کاشکار ہے، ان بیواقوفانہ اقدامات سے امریکی قیادت صرف اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کیساتھ محاز آرائی کو طول دے رہا ہے اور عالمی آزادانہ تجارت کی راہ میں یکطرفہ مشکلات پیدا کرنے کا زمہ دار ہے جس سے یہ ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انکل سام یہ بیواقوفی اقدامات سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ دماغی طور پر فعال نہیں رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی یہ سوچ کہ وہ یکطرفہ بدمعاشی اقدامات سے تجارتی جنگ اور تجارتی محاز آرائی کو جیت سکتا ہے ایک بہت بڑی غلط فہمی کو پال رہا ہے، اگر امریکی قیادت اس سوچ کو لیکر ٹیرف بڑھا رہی ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کی یہ صرف خوش کن سوچ ہی ثابت ہوگی کہ امریکہ یکطرفہ انداز میں تجارتی جنگ کو پھیلا سکتا ہے اور اسے جیتنے کی پوزیشن میں ہے، رواں ہفتے واشنگٹن میں قائم بینالاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے عالمی معیشت کے لیے قوا عدو ضوابط اور اصول وضع کرتا ہے، امریکی قیادت کی جانب سے رواں رکھی گئی تجارتی جنگ کے حوالے سے آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور بیرونی دنیا کے مابین تجارتی محاظ آرائی کے حوالے سے بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے عالمی معیشت کو قیمت چکانا ہوگی اور رواں تجارتی محاز آرائی کی وجہ سے عالمی معیشت کو 2020تک دنیا بھر میں 430بلین ڈالر نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ دنیا بھر کی معاشی قوتوں کو معاشی پھیلائو کے حوالے سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم امریکی قیادت کو جاری تجارتی محاز آرائی کے حوالے سے سب سے بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ عوامی رائے کے حوالے سے دیکھا جائے تو امریکی قیادت یہ تخیل رکھتی ہے کہ شاہد رتجارتی جنگ کو جاری رکھنے کے حوالے سے امریکہ کے پاس لامحدود ایمونیشن اور وسائل موجود ہیں کہ وہ طویل عرصے تک اس تجارتی جنگ کو برداشت کر سکتا ہے اور اس طرح سے ممکنہ طور پر ایک بار پھر عالمی معیشت میں مضبوط ترین امیدوار کے طور پر ٹاپ پوزیشن پر برجمان رہ سکتا ہے، لیکن IMFکی حالیہ رپورٹس اور تجزیوں کے مطابق عالمی تجارتی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔گزشتہ ہفتے IMFنے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر امریکہ اضافی ٹیرف کے حوالے سے اپنی حکمتِ عملی پر کاربند رہتا ہے تو عالمی سطع پر امریکی قیادت کو برامدات کے حصول کے لیے مسابقتی ماحول کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور دید شنید یہ ہی کہ اگر چین امریکہ میں اپنی پراڈکتس کے لیے اضافی ٹیرف ادا کرتا ہے تو امریکہ کو دیگر ممالک میں اپنی پراڈاکٹس کی برامدات پر بھی اضافی ٹیرف ادا کرنا پڑے گا اس سورتحال میں عالمی معیشت میں امریکی تجارتی عوامل کے لیے صورتحال بہت سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چینی پراڈکٹس پر جو اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمیکیاں عائد کی جا رہی ہیں اس کے امریکہ قیادت کو خاطر خواہ نتائج نہیں مل رہے ہیں جیسے کے امریکی قیادت متوقع کر رہی تھی۔ حالیہ اعدادو شمار کے مطابق چین کے دوسری سہ ماہی میں GDPکی شرح میں باوجود تجارتی محاز آرائی کے6.5فیصد اضافہ ہوا ہے اس ضمن میں چین کا گروتھ ریٹ نہ صرف توقعات کے مطابق چل رہا ہے بلکہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ چین کے 2018کے حوالے سے 6.5فیصد کا جو ہدف مقرر ہے اس ہدف سے اوپر چین کا رواں سالGDP جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی قیادت تجارتی محاز آرائی کے حوالے سے جو دھمکی آمیز رویہ جاری رکھے ہوئے ہیں اس حکمتِ عملی کے امریکہ معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ امریکہ کی چینی پراڈکتس کے حوالے سے جو 34ارب ڈالر کی فہرست مرتب کی گئی ہے ان میں سے 20ارب ڈالر کی مصنوعات غیر ملکی کمپنیز چین میں تیار کر رہی ہیں جن میں امریکی کمپنیز بھی شامل ہیں۔جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹرمپانتظامیہ کے عائد کردہ اضافی ٹیرف سے نہ صرف امریکی کمپنیز متاثر ہونگی بلکہ عام امریکی صارف بھی اضافی ٹیکس ادا کریگا، اس صورتحال میں ٹرمپ انتطامیہ نے چین کو دھمکی دی ہے کہ امریکہ چینی پراڈکٹس پر اضافی 200بلین ڈالر ٹیرف عائد کر سکتا ہے۔جو اگر امریکی قیادت لاگو کرتی ہے تو عالمی معیشت اور عالمی تجارت کے اس حکمتِ عملی کے سنگین نتائج برامد ہو نگے۔ امریکی بزنس کمیونٹی پہلے ہی ٹرمپ انتطامیہ کی معاشی پالیسز کلے خلاف سراپہ احتجاج ہیں ، اس حوالے سے امریکی چیمبر آف کامرس نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی ٹیہرف کے جوابی وار کے طور پر دیگر ممالک بھی امریکی پراڈکٹس پر اضافی ٹیرف عائد کرتی ہیں تو امریکن پراڈاکٹس مہنگی ہو جائیں گی جس سے انکی فروخت میں کمی ہوگی اور ملازمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ اور امریکی چیمبر آف کامرس کے مطابق ڈھائی لاکھ امریکی اس صورتحال میں اپنی ملازمتیں کھو سکتے ہیں ۔ اس طرح امریکی پراڈکتس پر عائد اضافی ٹیرف سے نہ صرف صارفین متاثر ہونگے بلکہ مینو فیکچرز، کسان، ٹیکنالوجی مالکان اور تمام شعبوں کے لوگ شدید متاثر ہونگے۔ آج صورتھال یہ ہے کہ چین کی مدد کے بغیر امریکہ کبھی بھی پھر سے ایک عظیم ملک نہیں بن سکتا۔ کیونکہ دونوں ممالک کی معاشی ضروریات ایک دوسرے سے منسلک ہیں اس لیے دونوں بڑی معاشی طاقتوں کو ایک دوسرے کیساتھ ملکر آگے بڑھنا ہوگا۔ لیکن اگر اس صورتھال کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ دیگر ممالک کو تجارتی سطع پر دھمکانے کا سلسلہ جا ری رکھتا ہے تو قوی امید ہے کہ چین امریکہ کو ایک سخت جواب دینے کا تحمل نہیں کریگا اور اپنی قوم کے لوگوں کی مشکلات پر کبھی بھی صبر کا مظاہرہ نہیں کریگا اور عالمی تجارتی نظام کے لیے چین لازمی سٹینڈ لے گا۔۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ