بریکنگ نیوز

طرم خان

akaas-2.jpg

تحریر : عامر شہزاد
انتخابات ہوئے ہفتہ ہو گیا،لیکن ابھی تک بڑی جماعتیں اپنی عددی اکثریت کے لئے جیتنے والے آزاد اور مفاد پرست امیدواروں کے گرد طواف میں مصروف ہیں۔عمران خان کی جماعت سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکی۔نہ بکنے والے نہ جھکنے والے اور فائٹر کپتان کی بے بسی دیکھ کر اس وقت رونا آتا ہے جب ان کی ٹیم کا ایک کھلاڑی علیم خان جس پر نیب میں کیس چل رہا ہے اسے وزیر اعلی پنجاب کے لئے منتخب کیا جاتا ہے اور دوسر ا کھلاڑی عدالت کی طرف سے نااہل جہانگیر ترین آزاد اوردوسری جماعتوں کے امیدواروں کو ہر قسم کا لالچ دے کر عمران خان کی’’خدمت‘‘ میں پیش کر رہا ہے ۔کپتان کے نااہل ترین کھلاڑی کمال اہلیت کے ساتھ اپنے جہاز میں انہیں اس طرح بھر بھر کے لا رہے ہیں جیسے لوکل ٹرانسپورٹ میں کنڈکٹر سواریاں بھر بھرکے لاتا ہے اور دم لئے بغیر دوسرا پھیرا لگانے نکل جاتا ہے ۔ امیدواروں کی اس طرح خرید و فروخت اورہارس ٹریڈنگ کا اندازتحریک انصاف کی سیاست سے میچ نہیں کرتا۔ جہانگیر ترین کی انتھک محنت کیا رنگ لاتی ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔تحریک انصاف کو کے پی کے میں پرویز خٹک کی اچھی پرفارمنس کی وجہ سے پہلے سے زیادہ سیٹیں ملیں۔ مگر ،پرویز خٹک بہت اچھے وزیر اعلی تھے لہذا اس بار ان کی جگہ عاطف خان کو وزیر اعلی کے پی کے بنایا جا رہا ہے۔حکمرانی کا ایہ انداز سمجھ سے بالا ہے۔
سیاست میں جوڑ توڑ ،ہار جیت کی وجوہات پر نظریں بھی دوڑائی جا رہی ہیں۔ ایاز صادق کا کہنا ہے کہ’ ہم نے الیکشن کمیشن کو اوقات سے زیادہ اختیارات دے کر غلطی کی۔ ہمیں نہیں پتا تھا کہ اس طرح کے انتخابات کرائیں گے‘۔نون لیگ کو رنج ہے کہ انہوں نے آمر کے قائم کردہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو ختم نہیں کیا۔اس کا مطلب ہے ن لیگ کے رہنما اپنی نااہلی مان رہے ہیں۔ایاز صادق تو اس وقت بھی قومی اسمبلی کے اسپیکر کا عہدہ ہے وہ اس سے استعفی کیوں نہیں دے دیتے۔ بڑے بڑے عہدے انجوائے کرنے والوں کے ہوتے ہوئے پارٹی کیوں ہار جاتی ہے ، کیوں ان کی اپنی حکومت میں ان کا وزیر اعظم کرپشن کے الزامات میں جیل چلا جاتا ہے ،کیوں ان کی حکومت مرکز میں اور پنجاب میں کامیابی برقرار نہیں رکھ سکتی، اور کیوں ایک پارٹی اپنے امیدواروں کو عزت نہیں دیتی جس کی تلاش میں وہ دوسری جماعت میں جانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔مانا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ،پری پول ریگنگ ہوئی، انجینئرنگ ہوئی۔ حیرت تو اس پر ہے کہ گلی گلی،نگر نگر، شہر شہر یہ بات زبان زد عام تھی کہ کچھ ایسا ہونے جا رہا ہے جس کے نتیجے میں عمران خان کو حکومت دی جا رہی ہے،مگر افسوس
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ۔۔۔۔۔۔باغ تو سارا جانے ہے
اس کو سیاست کا کوئی حق نہیں جس کے باغ کے گل اس کے سامنے پاؤں تلے روند دئے جائیں اور وہ منہ اٹھا کر کہہ رہا ہو ،دیکھو دیکھو ’’وہ‘‘ہمارے ووٹ کوعزت نہیں دے رہا۔وہ سیاستدان ہی کیا جو حلقے میں پڑنے والے اپنے ووٹوں کا پہرہ نہ دے سکے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر سعید غنی کو ،جنہوں نے پارٹی کی شکست کے بعد صدارت سے استعفی دینے کا اعلان کیا۔سعید غنی کا ماننا ہے کہ انتخابات میں بد ترین دھاندلی ہوئی بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کی شکست کا ذمہ دار خود کو سمجھتا ہوں اور جہاں جہاں دھاندلی ہوئی روکنا ہمارا کام تھاجسے وہ روکنے میں ناکام ہوئے ۔ ایسا جرائتمندانہ اورمثالی اقدام اور کتنے سیاستدانوں نے اٹھایا۔ الیکشن سے قبل تحریک لبیک پاکستان کو نون لیگ کے لئے خطرہ قرار دیا گیا تھا جس کا مضبوط مذہبی ووٹ بینک ہے۔ یہ خطرہ درست ثابت ہوا اورپنجاب میں نون لیگ کو اس سے دھچکا لگا ۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت 13قومی اسمبلی کی نشستوں پرنون لیگ انتہائی کم مارجن سے ہار گئی۔ قومی اسمبلی کے 19حلقوں میں جیتنے کا مارجن ٹی ایل پی کے حلقوں کی نسبت کم تھا۔حکمران جماعت کے کسی ایک رہنما نے ان سے اتحاد کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اپنی ووٹوں کو ٹوٹنے سے بچایا۔
عوام کا حق صرف ووٹ ڈالنے تک ہوتا ہے۔ عوام اداروں کی نیت بھی جانتی ہے اور ان کی کارستانیاں بھی مگر وہ ان کو روکنے کا حق نہیں رکھتی اور نہ ہی وہ نااہل جہانگیر ترین کے اڑن کھٹولے پر بیٹھے مفاد پرست امیدواروں کی ٹانگیں کھینچ سکتی ہے ۔ پہلی حکومتوں کے ایوانوں میں اقتدار کے مزے لوٹنے والے سیاستدانوں کا کام بنتا تھا کہ وہ کوئی ایسا قانون بناتے جس سے عوام کے ووٹ کی عزت پر سیاستدان آئین میں بنائے ہوئے قانون کے ذریعے پہراہ دیتے ،مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جس کی سزا ہر دور کی ’’جمہوری‘‘حکومت اور عوام انتخابات کے بعد بھگتی چلی آ رہی ہے ۔
تحریک انصاف کی ممکنہ حکومت سے عوام کی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اگر عوامی مزاج کے خلاف وہی سابقہ طرزِ عمل اپنایا گیا تو اس کے بعدانہیں کسی اپوزیشن کی ضرورت نہیں بلکہ وہ نوجوان ووٹرز جن کی امیدیں عمران خان سے حد درجہ وابستہ ہو چکی ہیں ناامیدی کی صورت میں ان کی حکمرانی کو بھی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔لگتا ہے تمام پارٹیاں اپنی ہار کا غصہ کہیں اور تو نہیں اتار سکتیں مگر سینیٹ میں یہی نئے گرینڈ اپوزیشن الائنس کی صورت میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں اپنا غصہ اتار سکتی ہیں، کیونکہ تحریک انصاف کوسینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں۔یوں سینیٹ میں پی ٹی آئی کوقانون سازی کے لئے متحدہ اپوزیشن کے چیئرمین کے آگے بے بس ہونا پڑے گا۔متحدہ اپوزیشن میں نون لیگ کی خواہش ہے کہ بلاول بھٹو کو اپوزیشن لیڈر کی سیٹ دے کراپوزیشن کے مشترکہ ووٹوں سے اپنا سپیکر منتخب کرا لے۔ اگر یہ ہو گیا تو ملکی تاریخ میں پہلی بارکسی حکومت کو اپوزیشن کے سپیکرکا سامنا کرنا پڑے گا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ عمران خان کی حکومت بننے کے بعد تمام اپوزیشن پارٹیوں نے دھاندلی کیخلاف مشترکہ احتجاج کرنے، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بھرپور اپوزیشن کرنے اور ضمنی انتخابات میں ملکر سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے اپنے اپنے امیدواروؤں کو جتوانے کیلئے حکمت عملی بنارکھی ہے ۔ اسی فارمولے کے تحت مولانا فضل الرحمان جیسی بڑی شخصیات کو دوبارہ اسمبلی میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان میں سیاست حقائق پر نہیں بلکہ جذبات سے کی جاتی ہے۔مگر جب ہائی مورل گراؤنڈ پر سیاست کا دم بھرنے والے بھی مصلحت اور مجبوری کی سیاست کرنے لگ جائیں تو عوام کی امیدیں دم توڑ دیتی ہیں ۔یوں جوڑ توڑ میں ماضی کے ڈاکو اور ضمیر فروش کو بھی مجبوری میں نئے پاکستان کے معمار بنا دیا جاتا ہے۔ ماضی میں عمران خان ایم کیو ایم کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں ایم کیو ایم کیساتھ ملوں تو مجھ سے بڑا منافق اور کوئی نہیں، آج میڈیا گواہ ہے کہ کپتان اپنی حکومت کے لئے ایم کیو ایم کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنے پر مجبور ہے ۔گجرات کے چوہدری برادران پر 240ملین کا قرضہ معاف کرانے کا مقدمہ عمران خان نے ہی کیا تھا اور کہاتھا کہ چوہدری پرویز الہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے، آج اپنی عددی برتری کی خاطر ق لیگ کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے کل کے ڈاکو کی سیاسی بصیرت کے قصیدے پڑھے جا رہے ہیں اور چوہدری پرویز الہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنانے کی آفرکی جا رہی ہے۔ پھر کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضے نہیں لیں گے ،متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کا فرمان ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑے گا۔نواز شریف کو نعرے کی صورت میں طعنہ دیا جاتا تھا کہ مودی کا جو یار ہے غدار ہے ۔ کپتان کوجیت کی مبارک کا دوسرا ٹیلی فون جب مودی کا آیا توہم عمران خان کی طرف سے مودی کو دئے جانے والے اس کرارے جواب کے منتظر رہے جو نواز شریف مودی کو نہیں دے پائے،مگر اپنی وکٹری تقریر میں یہ ضرور کہا کہ انڈیا ہماری طرف ایک قدم بڑھائے گا تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ عمران خان اپنے جلسوں میںآزاد امیدواروں کو ضمیرفروش کہا کرتے تھے ۔کیونکہ وہ حکومت میں شامل ہونے کے عوض وزارتیں مانگتے ہیں ۔ ایک اسلامی ریاست میں مسلمان نمائندوں کے ضمیر خرید کر انسانیت کی فلاح کی بات کرنا بذات خود اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔جس نظام میں ایمان خریدنا اور بیچنا حکومت سازی کے لئے لازم ہو وہاں کسی بھی طرم خان کی حیثیت کرپٹ سسٹم کے ایک پرزے سے زیادہ نہیں ہوتی ۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ