بریکنگ نیوز

پرانے پاکستان کا عام آدمی اور نئے پاکستان کا تھپڑ

noor-ul-huda-shah.jpg

نورالہدیٰ شاہ

ایک عام سفید پوش، باشعور آدمی نے بیچ سڑک پر ذلّت برداشت کی۔
تھپڑ کھائے۔
سوچا ہوگا کہ گھر پہنچ کر بیوی بچوں سے تھپڑ آلود چہرہ چھپا کر، منہ لپیٹ کر سوتا بن جاؤں گا۔
بیوی کھانے کا پوچھے گی تو کہوں گا کہ باہر سے پیٹ بھر آیا ہوں۔
طبیعت پوچھے گی تو کہوں گا کہ سینے میں جلن سی ہورہی ہے۔ شاید مرچیں زیادہ تھیں!

مگر تمام رات تو انگاروں پر ہی گزرے گی کہ کیوں اتنا بے بس ہوں میں!
کیوں اس طاقتور کا منہ نہ نوچ سکا!
کیوں اس کا ہاتھ مروڑ نہ سکا!
کیوں! آخر کیوں میں اتنا بےبس اور بےوقعت ہوں میں کہ زمین بھی نہ پھٹی میرے لیے کہ اسی میں سما جاتا!
انھی انگاروں پر لوٹتے ہوئے بلآخر رات کے کسی پہر آنکھ تو لگ ہی جائے گی اور صبح بھی ہوہی جائے گی!

اگلی صبح شاید میں ذلّت کا وہ منظر بھول جاؤں!
شاید چہرے پر تھپڑوں کے نشان دھندلے پڑ چکے ہوں تب تک!
اور جب دفتر پہنچوں تو جیسے کچھ ہوا ہی نہیں!
انجان بن جاؤں گا سب سے اور اپنے آپ سے بھی!
لیکن رات بھر کے انگاروں نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا تو!

مگر اس شخص کو پتہ نہ تھا کہ ایک انسان اس کے اردگرد ایسا بھی تھا جو ذلّت کے ان لمحوں کی وڈیو بھی بنا رہا تھا!
وڈیو وائرل ہوگئی
ذلّت کے وہ لمحات دنیا کے سامنے آگئے!
یہ بھی پتہ چل گیا کہ کتنے طاقتور شخص کے ہاتھوں اس نے ذلّت سہی ہے!

بچوں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ہوگا تو اس نے گھبرا کر اپنے بچوں کا مورال بلند کرنے کے لیے کہا ہوگا کہ اپنے باپ کو کمزور مت سمجھو بیٹا۔ دیکھ لینا میں اس کا کیا حشر کرتا ہوں!
مگر پھر بیوی نے سمجھایا ہوگا کہ دیوانے ہو کیا! طاقتوروں سے الجھتے ہو! اپنے بچوں کا سوچو! رٹائرمنٹ سر پر کھڑی ہے اور وقت کے حاکموں سے پنگا لوگے! کہاں کہاں کے دھکے کھاتے پھروگے! عدالتیں صرف مشہور لوگوں کے مقدموں کا شغل کرتی ہیں اب۔ تمہیں کون جانتا ہے بھلا! جو ہوا، بھول جاؤ۔

اس نے بھی سوچا ہوگا کہ صحیح تو کہہ رہی ہے بیوی!
مگر میڈیا اس کے سر پر پہنچ گیا، بکا ہوا، کوئلے کا کاروبار کرتا میڈیا!
دن بھر اپنے ہاتھ اور دوسروں کے منہ کالے کرتا ہوا میڈیا!
اور اس شخص کا جو بیان سامنے آیا ہے، دراصل وہی ہے پاکستان کے ہر عام، سفید پوش اور باشعور آدمی کا بیان!

پاکستان کے ہر شناختی کارڈ پر درج آدمی کا بیان!
ایک تھپڑ ہے جو اس ملک کے 71 سالہ نظام کے منہ پر دے مارا ہے اس نے!
پاکستان کی تاریخ کا دیباچہ ہے یہ بیان۔
مگر بات محض تھپڑوں کی نہیں ہے۔
بات نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کے رٹائرمنٹ کی عمر کے قریب پہنچے ہوئے پرانے پاکستانی کی ہے۔

بات اُس نئے پاکستانی کے ہاتھوں ذلّت کی ہے جو پچھلے چند برسوں میں بقول عمران خان، نابالغ سے بالغ ہوا ہے۔ بات اس گھمنڈ کی ہے جس کا اظہار تھپڑ مارنے والے کے لب و لہجے میں ہے کہ میں حق رکھتا ہوں، بیچ چوراہے پر سزائیں سنا کر نیا پاکستان بنانے کا۔
یہ ثبوت ہے اس لب و لہجے اور رویّے کا جو پچھلے چند برسوں میں ابھرا ہے اور سوشل میڈیا اور چوراہوں پر نظر آرہا ہے۔
پرانا پاکستان تو چلو دفن ہوا 25 جولائی کو اور نئے پاکستان کا جنم ہوا۔

مگر جنم لیتے ہی کیا پالنے میں پوت کے یھی پاؤں ہیں؟
کیا اب بھی چوراہے پر کسی انسان کو زلیل کرکے معافی تلافی سے مک مکا ہوجائے گا؟
یہ مک مکا ہی تو ہے جس نے پرانے پاکستان کو چہرہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔
ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ نئے پاکستان کا پہلا اقدام اس واقعے پر اپنے ایم پی اے سے استعفیٰ لینا ہوگا!

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ