بریکنگ نیوز

سوئیڈن عمر لا اور عمران خان

188914_5856908_updates.jpg

“سویڈن میں عمرز لاء بارے کوئی نہیں جانتا”: سویڈش تاریخ دان ہُوکن بلومکوست کا عمران خان کو جواب

سویڈن کے معروف تاریخ دان ہوکن بلومکوست اسٹاک ہولم کی ساوتھ ٹاور یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ 2012 میں جب عمران خان نے یہ بیان دیا کہ” یورپ میں فلاحی ریاست کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا، انہوں نے یہ تصور اسلام سے لیا،اسکینڈےنیویا کے ممالک نے اسلام سے ہی فلاحی ریاست کا تصور لیا اور وہ اسےحضرت عمر کا قانون کہتے ہیں” تو ویوپوائنٹ آن لائن (جو اب بند ہو چکا ہے)نے ہوکن بلومکوست سے سویڈن کے مبینہ قانونِ عمر کی بابت انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو کا ترجمہ اس لئے یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم ایک مرتبہ پھر اسکینڈےنیویا کا حوالہ دیا ہے۔ دوسری جانب، یہ سوچ اب اکثر پی ٹی آئی کے حلقوں میں پائی جاتی ہے کہ سویڈن میں واقعی کوئی قانونِ عمر موجود ہے۔ ہوکن بلومکوست سے یہ انٹرویو فاروق سلہریا نے کیا۔

سوال: پاکستان کے معروف کرکٹ اسٹار اور سیاستدان عمران خان نے بیان دیا ہے کہ یورپ نے فلاحی ریاست کا تصور اسلام سے لیا اور یہ کہ سویڈن میں فلاحی ریاست کی بنیاد خلیفہ ثانی، حضرت عمر کی خلافت والا ماڈل ہے، جسے سویڈن میں قانونِ عمر (عمرز لاء) کہتے ہیں۔ سویڈن کو پہلی فلاحی ریاست تصور کیا جاتا ہے۔ بطور تاریخ دان آپ کے علم میں ایسی کوئی بات ہے کہ سویڈن میں فلاحی ریاست کی بنیاد قانونِ عمر ہے۔

ہوکن بلومکوست: پاکستانی سیاستدان کو شائید میری بات سن کر مایوسی ہو مگر ان کا بیان میرے لئے ایک خبر کی حیثیت رکھتا ہے۔سو سال پہلے، شمالی یورپ (مراد اسکینڈےنیویا) کا مسلم دنیا اور اسلام سے نہ تو زیادہ تعلق تھا اور نہ ہی اسلام بارے زیادہ علم پایا جاتا تھا۔ سو سال پہلے، بیسویں صدی کے آغاز پر سویڈن اور اسکینڈےنیویا میں مقبولِ عام تحریکوں کا پھیلائو ہوا۔ ان تحریکوں کی بنیاد انیسویں صدی کے نصف میں تب پڑی جب سویڈن میں صنعت کاری کی پہل ہوئی۔ سویڈن میں اس وقت لوتھر کے ترقی پسند نظریات سے متاثر فری چرچ کی تحریک تھی جو ریاستی چرچ کو چیلنج کر رہی تھی۔ٹمپرینس تحریک تھی جو مزدوروں اور غریبوں میں شراب نوشی کی عادت ختم کرانے کے لئے کام کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدور تحریک تھی جوطبقاتی جدوجہد کے ذریعے شہری حقوق کی جدجہد بھی کر رہی تھی اور مزدوروں کے لئے بہتر اوقاتِ کار اور مناسب تنخواہوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مزدور تحریک ٹریڈ یونین، کوآپریٹوز اور سیلف ایجوکیشن کے ذریعے خود کو منظم کر رہی تھی۔ 1889 میں مزدور تحریک نے اپنی سیاسی جماعت بھی بنا لی۔اس دوران مزدور تحریک نے اپنے سوشلسٹ تشخص کا اعلان بھی کر دیا۔سوشلزم ابتدائی طور پر مسیحی آدرشوں سے متاثر تھی۔
جب کیمونسٹ مینی فیسٹو کا سویڈش زبان میں ترجمہ ہوا تو “دنیا بھر کے مزدورو، ایک ہو جائو” کا ترجمہ کیا گیا: “آوازِ خلق کو خدا کی آواز سمجھو”۔مطلب یہ کہ سب انسانوں اور مزدوروں کو خدا نے پیدا کیا ہے لہذا سب انسانوں کا خیال رکھا جائے۔ 1890 کی دہائی سے مزدور تحریک نے مارکسی نظریات قبول کئے مگر سیکولر جدوجہد کے ساتھ ساتھ ٹمپرینس تحریک اور فری چرچ یا سیلف ایجوکیشن کا تال میل موجود رہا مگر یہ تحریک اسٹیبلشمنٹ اور ریاست لے ہاتھ میں نہ تھی۔
بیسویں صدی کے شروع میں یہ تحریک سب سے مظبوط سیاسی قوت بن چکی تھی۔ ہڑتالوں، احتجاجوں اور مظاہروں کے ذریعے اس تحریک نے عوام کی بڑی پرتوں کو اپنے پروگرام کا حامی بنا لیا۔ یہ پروگرام شہری حقوق اور سوشلسٹ فلاحی ریاست کی بات کرتا تھا۔ 1921 میں لبرلز کے ساتھ مل کر مزدور تحریک نے 8 گھنٹے پر مبنی اوقاتِ کار کے علاوہ عورت مرد سمیت سب کے لئے ووٹ کا حق جیتا۔ 1932 میں ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ ہر طرف ہڑتالیں ہو رہی تھیں جبکہ فوج مزدوروں پر گولیاں چلا رہی تھی اور کئی مزدور مارے گئے۔ ان حالات میں بذریعہ انتخابات مزدوروں کی حکومت بنی۔ اس حکومت کو کسان پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس حکومت نے بےروزگاری کے خاتمے ، مزدوروں کے لئے رہائش،ٹریڈ یونین حقوق،سال میں دو ہفتے کی تنخواہ سمیت چھٹی،بچے کی پیدائش پر عورت مزدور کے لئے چھٹی، اور چھوٹے کسانوں کی مدد پر مبنی اقدامات کے لئے ایک کرائسس پروگرام متعارف کروایا۔یوں فلاحی ریاست کی جانب ابتدائی پیش رفت ہوئی مگر دوسری عالمی جنگ نے اصلاحات کے اس سلسلے کو روک دیا۔ سویڈن دوسری عالمی جنگ کا حصہ نہیں بنا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سویڈش صنعت اور معاشرہ جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا۔ یوں بعد از جنگ سویڈن کی حالت ایسی وگرگوں نہ تھی۔سویڈن کی فلاحی ریاست سوشل ڈیموکریٹس اور کسان پارٹی کی مخلوط حکومت نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ایک ایسے وقت میں دوبارہ سے متعارف کروائی جب معاشی نمو عروج پر تھی۔ کیمونسٹ تحریک نے بھی اس عمل میں اکثرتعاون کیا۔ صحت اور انشورنس کا لازمی نظام، نظامِ تعلیم میں غریب اور امیر یا لڑکے اور لڑکی کے بیچ امتیاز کا خاتمہ، ایک شاندار پنشن سسٹم[یعنہ پنشن سب کو ملے گی]، چھٹیوں میں اضافہ، دس لاکھ گھروں کی تعمیر، اوقاتِ کار میں بہتری، سب ان دو دہائِوں میں سامنے آیا۔1970 کی دہائی میں بائیں بازو کے نظریات مقبول ہوئے تو مزدور دوست اصلاحات میں اضافہ ہوا۔ چائلڈ کئیر، اوقاتِ کار میں مزید کمی، عورت اور مرد میں برابری، جنس کی بنیاد پر تنخواہ میں امتیاز کا خاتمہ، انفرادی ٹیکس اور اسقاطِ حمل ایسے اقدامت متعارف کروائے گئے۔ 1932-1976
کے عرصے میں سویڈن پر مسلسل 44 سال سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت تھی جس کی شکل میں مزدور تحریک اقتدار پر قابض رہی۔
بہ الفاظِ دیگر یہ مزدور تحریک کی طاقت تھی جس کے نتیجے میں سویڈن کی فلاحی ریاست وجود میں آئی۔ اس طاقت کا ماخذ تھیں ٹریڈ یونیں تحریک،کوآپریٹوز،سیلف ایجوکیشن کی تحریک، اور گلی محلے کی سطح پرمزدور تنظیمیں جو زندگی کے ہر شعبے میں موجود تھی۔ یہ عنصر بھی اہم تھا کہ سویڈن بیسویں صدی کی کسی یورپی جنگ میں تباہ نہیں ہوا۔ اس سارے عہد میں سویڈن اندر یا اسکینڈےنیویا میں مسلمان خال خال ہی تھے اور اسلام اس سارے عمل پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوا۔

س: پاکستان کے ایک معروف کالم نگار ہارون رشید بھی اکثر قانونِ عمر کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سویڈش پریس اکثر قانونِ عمر کے حوالے دیتا ہے۔ آپ سویڈش پریس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کیا ایسا ہے؟
مجھے افسوس کے ساتھ آپ کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ قانونِ عمر کے بارے میں سویڈن میں کسی کو معلوم نہیں ماسوائے مساجد میں ہونے والے اجتماعات کے۔ گو[مسلمان تارکینِ وطن کی وجہ سے] اسلام سویڈن میں پھیل رہا ہے مگر تعداد کے اعتبار سے ابھی بھی یہ ایک چھوٹا مذہب ہے۔ گو اعداد و شمار قابلِ بحث ہیں مگر کہا جاتا ہے مسلمانوں کی سویڈن میں تعداد دو سے تین لاکھ ہے جو کل آبادی، یعنی نو ملین کا لگ بھگ پانچ فیصد بنتا ہے۔
ہم ایک گلوبل دنیا میں رہتے ہیں اور سویڈن میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بھی تقاضا ہے کہ سویڈش لوگ اسلامی عقائد بارے زیادہ علم حاصل کریں مگر تا حال جسے اسلام میں قانون عمر کہا جاتا ہے، اس بارے سویڈن میں لوگوں نے نہیں سنا ہے اور اس بات کا امکان تو اور بھی کم ہے کہ لوگوں نے اس قانون کے بارے میں ان دنوں سنا ہو جب فلاحی ریاست تشکیل پا رہی تھی۔1930 کی دہائی میں سیڈن میں کل پندرہ مسلمان تھے۔

س: کیا آپ اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ وہ کیا تاریخی حالات تھے جنہوں نے فلاھی ریاست کو سویڈن میں جنم دیا۔ کیا انقلابِ روس کا بھی کوئی اثر تھا؟ نیز سوشل ڈیموکریٹک، انارکسٹ اور کیمونسٹ تحریک کا کوئی کردار تھا؟

ہوکن بلومکوست:1917 کا انقلابِ روس، 1918-19 میں آنے والے جرمن،آسٹرین اور ہنگیرین انقلابات کے علاوہ یورپ بھر میں ہونے والے سماجی ابھار پہلی عالمی جنگ کے بعد سویڈن کے حالات پر اثر انداز ہوئے۔اپریل تا جون 1917 سویڈن بھوک کے خلاف اور شہری حقوق کے مطالبے پر ایل انقلابی کیفیت میں مبتلا تھا۔ انقلاب سویڈن کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ ہڑتالیں، روٹی کے لئے بلوے، اور مظاہرے روز کا معمول بن چکے تھے جبکہ مختلف شہروں میں مقامی طور پرسرکشی جاری تھی۔فوجی جوان ہڑتالی مزدوروں کے ساتھ مل گئے تھے اور مزدور کونسلیں نہ صرف شہروں میں بلکہ قصبوں میں بھی بن چکی تھیں۔ یورپی انقلابات اور مزدور ابھار کا نتیجہ تھا کہ اقتدار رجعت پرستوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور سویڈن میں ایک جمہوری بریک تھرو ہوا۔ جمہوری بریک تھرو کا مطلب یہ نہیں کہ برابری اور جاب سیکیورٹی حاصل ہو گئی۔ ان حقوق کے لئے مزید تیس چالیس سال لگ گئے۔
سویڈن میں کیمونسٹ قومی سطح پر کبھی بھی بہت مضبوط نہ تھے۔ کچھ یونینز اور کچھ شہروں میں ان کا زبردست اثر ضرور موجود تھا۔مختلف ادوار میں کیمونسٹوں نے سوشل ڈیموکریٹس کو بائیں جانب دھکیلا اور بڑی سطح پر لوگوں کو متحرک کیا۔
جہاں تک سویت یونین کا تعلق ہے تو اسکی موجودگی کا سویڈن کی نمو اور مزدور تحریک پر دو رُخا اثر ہوا۔
ایک طرف تو یہ ہوا کہ غیر طبقاتی سماج کا سویت وژن اور سویت یونین میں مزدور کو ملنے والے اہم حقوق، چاہے وہ نام کو ہی تھے،اور سویت یونین کی ترقی نے ایک ایسا ماحول بنایا کہ ہر سیاسی جماعت کو کہنا پڑا کہ وہ عدم مساوات کے خلاف ہے۔
بورژوازی کے لئے سماجی ناہمواری کی مخالفت ممکن نہ رہی۔ یوں مزدور تحریک کا کام آسان ہوا۔
دوسری جانب،سویت روس میں ہونے والے جبر کا نتیجہ یہ نکلا کہ کیمونسٹ کبھی بھی مزدور تحریک کی قیادت حاصل نہ کر سکے۔ سوشل ڈیموکریسی بطور پُر امن متبادل مزدور طبقے کی اکثریت کو ساتھ ملانےمیں کامیاب رہی۔

س: یہ فلاحی ریاست ہوتی کیا ہے؟ کیا اس سے مراد بے روزگاری الاونس، صحت اور تعلیم کی مفت سہولت ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ سب تو سعودی عرب میں بھی ہے۔ کیا سعودی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے؟ یا یہ کہ فلاحی ریاست سے مراد ہے عورت مرد کے برابر حقوق، مذہبی اقلیتوں کے لئے برابر کے شہری حقوق، آزادی رائے اور تنظیم سازی کا بلا مشروط حق؟

ہوکن بلومکوست: میں سعودی عرب کی فلاحی ریاست بارے زیادہ نہیں جانتا۔ ہاں البتہ یورپ کی مزدور تحریک اور عام طور پر یورپین لوگوں کی نظر میں فلاحی ریاست سے مراد ہے: ہر شعبے میں شہری حقوق،سیاسی آزادیاں، عقائد پر یقین وعمل کی آزادی،آزادی اظہار، تنظیم سازی کا حق اور تبدیلی کے لئے جدوجہد کا حق۔
1919 میں جب مزدور نے 8 گھنٹے کے اوقات کار کا مطالبہ منوایا، اسی سال سویڈن میں جسم فروشی پر پابندی عائد کی گئی کیونکہ غربت کے ہاتھوں بہت سی عورتیں مڈل کلاس اور امیر مردوں کی جنسی تسکین کے لئے ایک کھلونا بن کر رہ گئی تھیں۔ اسی سال عورت کو ووٹ کا حق ملا۔ جمہوری حقوق کا مطلب تھا کہ عام مزدور اور شہری ایک ایسے سماج کے لئے جدوجہد کر سکتے ہیں جس میں سب کا خیال رکھا جائے۔ اس قسم کے سماج کو سویڈن میں فولک ہیم(عوامی گھر) کہا جاتا تھا، ایک ایسا گھر جس میں خاندان کے سارے افراد برابر ہیں یعنی معاشرے کے سارے افراد برابر ہیں۔
پچھلے بیس سال سے فلاحی ریاست نیو لبرلز اورسرمائے کا ہدف بنی ہوئی ہے۔فلاحی ریاست کے بہت سے اقدامات ختم کر دئے گئے ہیں۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد البتہ فلاحی ریاست کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے اگر لوگ اس اتحاد کا مظاہرہ کریں جس کا اظہار ان دنوں ہوا تھا جب فلاحی ریاست محض ایک خواب تھی۔اُن دنوں قیادت کو معلوم تھا کہ فلاحی ریاست تب ہی وجود میں آ سکتی ہے اگر محکوم پرتوں کی اکثریت کا اس سے مفاد وابستہ ہو۔سیاسی کارکنوں کو اندازہ تھا کہ فلاحی ریاست کے لئے تب ہی آبادی کا بڑا حصہ حمایت فراہم کے گا اگر اس سے صرف انڈسٹریل مزدور ہی مستفید نہ ہو بلکہ عورتیں، سرکاری ملازم، چھوٹے کسان اور تارکین وطن بھی اس فلاحی ریاست سے فائدہ اٹھا سکیں۔یہ درست ہے کہ جن کارکنوں نے فلاحی ریاست کی جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، ان سے غلطیاں بھی ہوئیں اور انہوں نے بسا اوقات اپنے نعروں سے پسپائی بھی اختیار کی مگر فلاحی ریاست کی جدوجہد میں کامیابی کے لئے انکی جدوجہد سے ہی سبق سیکھنا ہو گا۔

(انگریزی سے ترجمہ: فاروق سلہریا)

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ