بریکنگ نیوز

کوٹمومن ، اک آہ ء بے کراں

naveed-e-saher.jpg

تحریر : صاحبزادہ شمس منیر گوندل

دنیا کے بہترین سٹرس پروڈکشن کا حامل کوٹمومن جو تاریخی اہمیت کا شہر اور سرگودہا کی نمایاں تحصیل ہے، جس کی تحصیل کی آبادی کم و بیش 12 لاکھ ہے جبکہ شہری آبادی تقریبا 3 لاکھ کے اریب قریب ، پہلے یہاں صرف مسلم لیگ کا ووٹ بینک ہوتا تھا، لیکن موجودہ الیکشن جو 25 جولائی کو منعقد ہوئے اس میں ایک کشیر تعداد نے پاکستان تحریک انصاف کو سپورٹ کیا، بلکہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ اکثریت یوتھ نے اپنے ووٹ کا حقدار پاکستان تحریک انصاف کو گردانا، شومئی قسمت یا اہل علاقہ کی بد قسمتی کہا جائے کہ کچھ مارجن سے پھر ن لیگ الیکشن میں کامیاب ہو گئی اگرچہ عقل سلیم والوں کے لئے الیکشن کے نتائج ابھی بھی معمہ ہیں ۔بحرالحال میرا آ ج کا موضوع الیکشن کی رپورٹنگ نہیں ہے، بلکہ ارباب بست ہ کشا ء کی توجہ اس امر پر مبذول کروانا مقصود ہے کہ شہر کوٹمومن جو کہ سرگودہا شہر کی تحصیل ہے کافی عرصے سے محرومیوں اور زوال کا شکار ہے، بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ارباب اختیار نے عموما اور مسلم لیگ کی پنجاب میں گذشتہ ادوار کی تقریبا 10 سالہ حکومت جس میں زبانی جمع خرچ کے علاوہ خدمت کا دور دور تک عمل دخل نہ تھا، علاقہ ہذا کو دن بدن زبوں حالی اور بد حالی کا شکار کیا۔ یاد رہے کہ جناب میاں نواز شریف صاحب بھی کوٹمومن سے ممبر نیشنل اسمبلی منتخب ہوئے تھے، جبکہ جناب محسن شاہ نواز رانجھا صاحب بھی کوٹمومن سے منتخب ہو کر گذشتہ دور میں وزیر مملکت کی کرسی کے مزے اُڑاتے رہے مگر کسی بھی معزز ممبران اسمبلی نے شہر کوٹمومن کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کارہائے نمایاں سر انجام نہ دئیے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ باقی پنجاب کی طرح کوٹمومن بھی ایک شکار گاہ یا چراگاہ رہی جس میں حسب توفیق اور موقعہ کی مناسبت سے معصوم عوام کی آرزوءں کا خون کیا گیا، کبھی سماجی استحصال کیا گیا، کبھی معاشی قتل ، کبھی عوام کو اپنے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا، کبھی میاں صاحب کی طرف سے دھوکہ اور فریب دہی سے مزئین سبز باغ دکھائے گئے کہ کوٹمومن کو پیرس بنا دیا جائے گا، بھولے عوام ہر دفعہ ان نادیدہ جالوں اور چومکھی چالوں کا شکار ہوتے رہے، کبھی خوشحال پاکستان کے نام پر، کبھی قرض اتارو اور ملک سنوارو کے کھوکھلے نعروں سے، کبھی برادری بیس پر ، کبھی نسلی بنیادوں پر غرضیکہ عوام کو ہر طرح سے بے وقوف بنانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا گیا۔ میں بھی باقی عوام کی طرح کم و بیش کئی سالوں تک چیرہ دستیاں برداشت کرتا رہا مگر اب پانی سر سے گزر چکا، اب چپ رہنا اپنی مٹی سے بے وفائی بلکہ غداری میں شمار ہو گی، اور میں سب کچھ ہو سکتا ہوں مگر غدار نہیں ، نہ اپنے ملک کا، نہ اپنے مذہب کا اور نہ اپنی جنم بھومی کا۔ میرے پیش نظر یہ فرمان بھی ہے کہ ظلم کو سہنے والا سب سے بڑا ظالم ہے، میں اس نظریہ سے بھی متفق ہوں کہ عوام کو راہ راست دکھانا بھی ایک زمہ دار شہری کا فرض ہے۔ اب اندریں حالات کی طرف آتا ہوں۔ کوٹمومن کی بدحالی دن بدن فزوں تر ہوتی جا رہی ہے؛ سردیوں میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لوگ بھوکے پیٹ آفس یا بچے بغیر ناشتے کے سکولوں کو جانے پر مجبور ہیں، کیوں نہیں ایریا وائز مناسب لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے، یہ عقدہ آج تک نکتہ وروں سے بھی حل نہیں ہواء۔ پہلے بھی گرمیوں میں باقی شہروں کی مانند بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی تھی مگر گذشتہ مسلم لیگ کی حکومت جو کہ اُجالوں کے پھیلاؤ کا خود ساختہ کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی رہی ہے، یہ بات ببانگ دہل کہنے میں مجھ کو کوئی عار نہیں کہ جب گذشتہ دور میں فرنس آئل کی مدد سے مہنگی بجلی جنریٹر سے پروڈیوس کی جا رہی تھی تو شاید بڑے شہروں میں اتنی ناگفتہ بہہ صورتحال لگا تار نہ ہو مگر کوٹمومن میں بجلی کی آنکھ مچولی تب بھی جاری رہی، کبھی کبھار اگر مسلسل تھوڑی بجلی خیرات سمجھ کر دی بھی گئی تو بڑی جلدی کسر نکال لی گئی یہ مہربانی بھی اس لئے واپس لے لی جاتی رہی تاکہ عوام جن کو صارفین کے حقوق سے آشنائی نہیں کہیں وہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہ نہ سمجھ لیں کہ ہمارے حقوق کیا ہیں یورپ میں جب 20 یا 30 منٹ کے لئے سالوں بعد بجلی جاتی ہے تو پہلے عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے، پاکستان کی طرح نہیں یہاں تو واپڈا کے ارباب اختیار یہ گوارہ ہی نہیں کرتے کہ کوئی آگاہی مہم چلائی جائے یہاں تو غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے، بات کوٹمومن کی ہو رہی تھی تو قارئین محترم یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے، جب اُوپر سے گرمی اور حبس کی شدت ہو تو ٹرانسفارمرز کی ٹرپنگ کوٹمومن میں معمول کی بات ہے ، گذشتہ حکومت نے کبھی سنجیدگی سے عوام کو اس زلت بھری زندگی سے نکالنے میں کوئی دلچسپی لینے کی زحمت نہ کی ، کجا من کجا یہ کہ جب مقامی واپڈا آفس والوں سے سوال کرنے کی جسارت کی جائے کہ بجلی کب آئے گی تو یا تو جواب ندارد یعنی پتہ نہیں گرڈ سے بند ہے، وولٹیج پورے نہیں ، شارٹ فال ہے، دعا کریں بارش آ جائے تو شاید بہتری ہو سکے ، یا کتنی کتنی دیر فون بزی ملے گا، اکثر و بیثتر مقامی ٹرانسفارز کی ڈی اُڑی ہوتی ہیں یا پرانی ٹرانسمیشن لائینوں پر لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ حبس دم کا شکار یعنی جیتے تو ہیں مگر زندگی بوجھ کی مانند گھسیٹ گھسیٹ کر، واپڈا کے تسلی بخش جواب سن کر بے اختیار کہا جائے گا ، یعنی عذر گناہ از بدتر گناہ۔ بجلی کے وولٹیج اچانک کم ہ بیش ہونے کی وجہ سے کئی قیمتی برقی آلات کا سوا ستیاناس ہواء ، ان مہربانیوں کا شکار نہ صر ف راقم خود بھی ہواء بلکہ حلقہ احباب میں بھی کئی مہربان اپنے مہنگے بجلی کے آلات سے ہاتھ دھو بیٹھے، غرض کہ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی صورت۔پچھلے کچھ دن سے تو وولٹیج کی کمی درد دل سے بھی بڑا مسلہء بن چکی ہے۔ ایک اور مسلہء جس میں راقم کی گلی بھی شامل ہے کہ ہم باران رحمت کی دعا کرتے ہوئے سوچ میں پڑ جاتے ہیں ، آپ کے ازہان میں سوال اُٹھے گا کہ گرمی میں ہر کوئی جب بارش کی دعاء کا طلب گار ہوتا ہے تو کوٹمومن کے لوگ کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں کیا جو بارشوں سے نالاں ہیں، ان کی خدمت میں دست بستہ بس اتنا ہی عرض کروں گا، نکاسی آب کی صورتحال اتنی ناگفتہ بہہ بلکہ بدترین ہے کہ یہ خدشہ درپیش ہوتا ہے کہ اگر بارش آگئی تو گھروں سے پانی کی نکاسی کا کیا ہوگا، اگر پانی کھڑا رہا تو نہ صرف تعفن کی وجہ سے بیماریاں پھیلیں گی بلکہ آمدو رفت کا سارا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ جب تھوڑی سی زیادہ بارشیں ہو جائیں تو گلیاں جوہڑ اور متعفن تالاب کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہیں۔ مذکورہ گذارشات کے بعد نئی منتخب حکومت سے التماس ہے کہ پاکستان تحریک انصاف ایک اُمید کا استعارہ بن کر اُبھری ہے، عوام نے آپ کو اپنی محرومیوں اور تشنہ کامیوں کا مداوا کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے، آپ خدارا اس آس اور بھرم کو ٹوٹنے نہ دینا، عمران خان کی بحشیت وزیر اعظم تقریر دلوں کی آواز اور غریبوں کے جذبات کی ترجمانی تھی ، آپ سے مودبانہ گذارش ہے اس بھرم کو قائم رکھنا، آپ نے متذکرہ بالا پریشانیوں سے نجات کے لئے عوام کو اگر اخلاقی کے ساتھ عملی مدد فراہم کر دی تو ہم آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ عوام نا شکرے نہیں ہیں ہم آپکے پسینے کی جگہ خون بہانے کا جذبہ رکھتے ہیں، ہم آپ کو یہ بھی واضح بتا دیتے ہیں کہ اگر آپ ہماری محرومیوں کا مداوا کرنے کی سعی کریں گے تو ہم آئندہ الیکشن میں تن من دھن سے آپ کے سپاہی بنیں گے اور تحریک انصاف ایک ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ کوٹمومن اور نواح سرگودہا میں ایک واضح اکثریتی پارٹی بن کر اُبھرے گی۔

انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ تیرے دل میں اُتر جائے میری بات

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ