بریکنگ نیوز

تبدیلی کا پر کشش نعرہ

Aamir-Shahzad-aakas-akas-akaas.jpg

تحریر:عامر شہزاد
پاکستان تحریک انصاف اپنی 22سالہ سیاسی جدوجہد میں سادگی، کرپشن کے خلاف جنگ اوربہترین طرز حکمرانی جیسے اہم ایشوز پر قائم رہی۔عوام روایتی سیاست سے تنگ آ چکی تھی ۔جلسوں میں رہنماتحریک انصاف عوام کوبار بار یاد دلاتے رہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی ’’بیڈ گورننس ‘‘ سے دنیا کی تقریبا ہر معاشرتی برائی کا سامناپاکستانی عوام کوکرنا پڑ رہا ہے۔مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومتیں ان تمام عوامی مسائل کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہیں۔ایسے موقعے پرجب عوام سیاستدانوں سے مایوس ہو چکی تھی تب عمران خان نے اپنے سے زیادہ پر کشش تبدیلی کانعرہ لگا کر 2018کا سیاسی میدان جیت لیا۔عمران خان نے عوام سے کئی وعدے کئے ۔وزارت ا عظمی کا حلف اٹھاتے ہی وزیر اعظم عمران خان نے ابتدائی طور پر اپنی حکومت کا 100 روزہ پلان عوام کے سامنے رکھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی نے انتخابات جیتنے کے لئے انتہائی لگن اور انتھک محنت کی۔ پاکستان کے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے بھی عمران خان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 124دن کے دھرنے کی دن رات کوریج اگرمیڈیا نہ کرتا تو شائد آج عمران خان اپنی کامیابی کی تلاش میں ہی رہتے ۔ حکمران پارٹی کی ہر چھوٹی بڑی غلطی پر عمران خان کے بیانات کو اہمیت دی جاتی رہی۔عمران خان نے عوام کی امیدیں اتنی بلند کر رکھی ہیں کہ ابھی ان کو حکومت کا مزہ لیتے ہوئے دو ہفتے بھی نہیں گزرے ابھی تو حکومتی عہدے پوری طرح بانٹے نہیں کہ عوام نے میڈیا پر ان کی گڈ گورننس اور سادہ طرز حکمرانی کے وعدوں کی زندہ لاش ان کے سامنے لا کھڑی کی ہے۔
تحریک انصاف کو ان سوالوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا کہ آپ 22سال سے وزراء اور حکمرانوں کے متکبرانہ روئے کے خلاف بول رہے ہیں اور آپ کے اپنے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اپنے محکمے کے اعلی افسران کے ساتھ جابرحاکم جیسا سلوک کرتے ہوئے ان سے بدتمیزی بھی کریں اور ان کے سابق وزیر سعد رفیق کی تعریف کرنے پر سیخ پا ہوتے ہوئے ان کی نوکریاں داؤ پر لگا دیں۔شیخ رشید کا راولپنڈی کے تنگ اور پر ہجوم بازار میں گاڑی پر عوام کو ہراساں کرتے پھرنا، لوگوں کے موٹر سائیکلوں کو نفرت سے ہٹوانا،بوڑھی عورت کا امداد طلب کرنے پر دھکے دینا کہاں کی تبدیلی ہے۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اطلات و نشریات اور کلچرفیاض الحسن چوہان جن کو ماضی میں اپوزیشن کے خلاف زبان درازی کی صلاحیت پر وزارت ملی۔ عہدہ سنبھالتے ہی وہ اپنی زبان پر قابو نہ پا سکے اور آج کل اپنی بد کلامی اور بے لگام الفاظ درازی کی وجہ سے ایک دن میں دو دو بار معافی مانگ رہے ہیں۔کراچی میں تحریک انصاف کے رہنماعمران علی شاہ نے سڑک پر ایک شہری کے منہ پر تھپڑرسید کئے۔ پروٹوکول کو ختم کرنے کے نعرے لگانے والوں کو لاہور آمد پر وزیر اعظم عمران خان اورگورنر سندھ عمران اسماعیل کا شہانہ پروٹوکول نظر نہیں آتا۔ وزیر اعظم صاحب آپ تو ایمانداری سے ڈیوٹی ادا کرنے والے پولیس افسران کے قصیدے پڑھتے تھے۔یورپ اور امریکا کے ایماندارو بلا تفریق جرمانے کرنے والے پولیس افسروں کی میڈیا پرمثالیں دیتے تھے،پھر ڈی پی او رضوان گوندل کو آپ کی اہلیہ کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے پر ٹرانسفر کرنا کہاں کی تبدیلی ہے؟۔بااثر افراد کے دباؤ سے پاک پولیس تو آپ کا ویژن تھا،پھر خاتون اول کی دوست فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر نے وزیر اعلی پنجاب کی موجودگی میں رضوان گوندل کو خاور مانیکا کے ڈیرے پر جا کے معافی مانگنے کا حکم کس حیثیت سے دیا؟۔ ڈی پی او رضوان گوندل کی اپنے سینئرزکی موجودگی میں ایک غیر سرکاری اور غیر سیاسی شخص کی حکم عدولی پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے تادم تحر یر دلیرانہ خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔کیا اس سے بڑا مذاق کوئی اور ہو سکتا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری وزیر اعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر پر بنی گالہ سے وزیر اعظم ہاوس کا خرچہ 55 روپے پر کلومیٹر بتاتے ہیں۔ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کسی بڑے ایشو کو دبانے کے لئے چھوٹے ایشو کی طرف میڈیا کا رخ موڑا جا رہا ہے،حالانکہ ایوی ایشن ایکسپرٹ نے وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر آنے والے خرچ کا تخمینہ پونے 4 لاکھ روپے لگایا ہے۔وزیر اعلی پنجاب اپنی فیملی کے ہمراہ بذریعہ ہیلی کاپٹرمیاں چنوں گئے جہاں وہ اپنے دوست ملک نوید اعوان کی رہائش گاہ پہنچے اور ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کی۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے سسرال بھی گئے۔ وہاں سے گاڑیوں کے قافلے میں تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال گئے۔اسپتال میں تھیلی سیمیا میں مبتلا ایک کمسن بچی چل بسی۔ بچی کی والدہ نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی آمد پر تمام ڈاکٹرز چلے گئے تھے اور بچی کو کسی ڈاکٹر نے نہیں دیکھا۔وزیر اعظم صاحب کیا وزیر اعلی پنجاب کا یہ دورہ آپ کی بہتر حکومت کے خواب کو چکنا چور نہیں کرتاکیا عوام کو حوصلہ دینے کے لئے اس دورے کی ہلکی پھلکی تفتیش نہیں ہونی چاہیے ۔ ؟
بارہ دنوں میں اتنا بہت کچھ ہو جانے اور میڈیا پر تنقید کے بعد وزیر اعظم سینئرز صحافیوں سے ملاقات میں فرماتے ہیں کہ انہیں صرف 3ماہ کا وقت دیا جائے پھر میڈیا کھل کر تنقید کرے ۔صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیر اعظم کے لئے فرانسسی صدر کافون آیا ،جواب میں کہا جاتا ہے چونکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کی اس کال کا وقت پہلے سے طے شدہ نہیں تھا انہیں کہو کہ30منٹ بعد فون کریں صاحب مصروف ہیں۔یہ بات سچ بھی ہو سکتی ہے ۔ بہت سے صحافی واہ واہ کرتے ہیں خان صاحب کی بہادر اور وزیر اعظم کے ہاتھوں پاکستان کو عزت دلانے کی ابتداء کے قصیدے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مگر صاحب علم صحافی اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ کسی بھی ملک کا صدر یا وزیر اعظم جب کسی دوسرے ملک کے ہم منصب یا اعلی عہدے دار کو فون کرتا ہے تو اس فون کا دن اور وقت پہلے سے دونوں ممالک کے دفتر خارجہ کی باہمی مشاورت سے طے کیا جاتا ہے۔مگر فرانس کے صدر کے فون کو اس طرح پیش کیا گیا کہ جیسے کسی کے پر تکلف دوست کا فون آیا ہو اور اسے جواب دیا جائے کہ وہ کچھ دیر بعد فون کرے۔اس سے پہلے امریکا کے دفتر خارجہ سے مائیک پمپیو کے فون پر وزیر اعظم عمران خان کی گفتگو کو بالکل ایسا ہی رنگ دیا گیا اور اپنے کہے ہوئے الفاظ سے یو ٹرن لے لیا گیا۔ جس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے ٹیلی فونک گفتگو کا ریکارڈ پیش کر دیا گیا اور پاکستان کا دفتر خارجہ اس پر بحث کرنے سے رک گیا۔
تحریک انصاف تبدیلی کے پر کشش نعرے کے ساتھ حکومت میں آ چکی ہے ،مگریہ کس تبدیلی کی ابتدا ہے کہ اگر کوئی وزیر بیان دیتا ہے تو وہ متنازعہ ہو جاتا ہے ،بیرونی دنیا سے فون آ جائے تو اس کی مختلف اور متنازعہ کہانیاں عام ہو جاتی ہیں،ہر روز ایک نیا اسکینڈل منہ کھولے کھڑا ہوتا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں فائلوں میں لگائی جا رہی ہیں ۔چوری ،ڈکیتی ،بم دھماکے ،لوڈ شیڈنگ ،آئی ایم ایف کے ساتھ چین اور سعودی عرب کے ورلڈ اسلامک بینک سے قرضوں کی بات ۔ نون لیگ کی طرح بقول عامر لیاقت کے تحریک انصاف میں بھی فارورڈ بلاک کی بات۔ جناب کرپٹ اور شفاف حکومت میں اب صرف ماڈل ٹاؤن جیسے سانحے کا ہی فرق رہ گیا ہے۔ ایشو چھوٹا ہو یا بڑا وزیر اعظم عمران خان کو میڈیا سے تنقید نہ کرنے کی بجائے اپنے وفاقی و صوبائی وزراء کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن کے کمزور ہونے کا جشن نہ منائیں،حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن خود ان کے اپنے ووٹرز ، سپورٹرز اور میڈیا ہیں۔جوں جوں ان کی امیدیں دم توڑیں گی وہ اپنا غصہ اپنی ہی پارٹی پر اتاریں گے۔اس کی چند مثالیں سوشل میڈیا پر چیخ چیخ کروزیر اعظم کو متنبہ کر رہی ہیں کہ کپتان صاحب اپنا سٹارٹ درست کرلیں۔وزیر اعظم پاکستان کو چاہیے کہ وہ اگر لمبے عرصے تک عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے وزراء اور اپنے پارٹی رہنماؤں کا روئیہ سختی سے درست سمت پر ڈالنا ہو گا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ