بریکنگ نیوز

ادھار محبت کی قینچی ہے

Aamir-Shahzad-aakas-akas-akaas.jpg

تحریر:عامر شہزاد
2008ء میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو کہاگیا کہ ملکی معیشت ڈوب چکی ہے۔ مشرف نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ خزانہ ختم ہو چکا ہے ۔ ملک میں نہ بجلی ہے نہ پیسہ۔ اس لیے دنیا سے قرضہ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت سے پہلے جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تب بھی ان کا یہی نعرہ تھا کہ نواز شریف نے ملک تباہ کر دیا تھا۔ پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے اس لیے قرضہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ 2013ء میں جب ن لیگ نے حکومت سنبھالی تب بھی یہی کہا گیا تھا کہ پاکستان کی معیشت ڈوب چکی ہے۔ اس لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے سواکوئی چارہ نہیں ہے۔ 2018 کے انتخابات میں کامیابی سے پہلے عمران خان نے قوم کو یہ امید دلوائی تھی کہ وہ آئیں گے تو کشکول توڑ دیں گے۔کسی سے قرضہ نہیں لیں گے اور ملک کو پیروں پر کھڑا کر دیں گے۔عمران حکومت کے متوقع وزیر خزانہ کہتے ہیں آئی ایم ایف کے پاس جانا کوئی نئی بات نہیں ہو گی ۔پی ٹی آئی کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں جس سے وہ سب کچھ ٹھیک کر دیں ۔ آئی ایم ایف کے پاس تو جانا ہی پڑے گا۔سعودی عرب کے حمایت یافتہ ورلڈ اسلامک بینک سے پاکستان کو قرضہ دلایا جائے گا۔جس کی کاغذی کارروائی بھی شروع ہو چکی ہے ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج پاکستان میں بننے والی تحریک انصاف کی حکومت کو معاشی چیلنجز درپیش ہیں ۔ پاکستانی روپیہ سخت دباؤ کا شکار ہے۔ جبکہ محصولات کی وصولی کی کیفیت یہ ہے کہ پچھلے برس 20کروڑ آبادی والے ملک میں دس لاکھ سے بھی کم افراد نے ٹیکس ادا کیا۔ان معاشی چیلنجز سے نکالنے کے لیے چین نے پاکستان کو2ارب ڈالرز قرضے دینے کی آفر کی ہے۔اگر پاکستان نے آئی ایم ایف کی طرح چین سے بھی مزید قرضے لینا شروع کردیے تو نہ صرف پاکستان کی معیشت کونقصان پہنچے گا بلکہ پاکستان کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔عمران حکومت کو نہ صرف چین بلکہ آئی ایم ایف کے سامنے جھولی پھیلانے سے پہلے متبادل معاشی ذرائع پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔اگر آئندہ حکومت بھی سابقہ حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف اور چین وغیرہ سے قرضے لے کر ملک چلائے گی تو پاکستان مکمل طور پر دیوالیہ ہوجائے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق جون 2019ء تک پاکستان کا بیرونی قرضہ 103 ارب ڈالرز جب کہ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق 2023 ء تک 144ارب ڈالرز تک پہنچ سکتاہے۔ آئی ایم ایف کے مالیاتی اثاثوں کا17فیصد امریکا کا ہے۔آئی ایم ایف کے رول کے مطابق 15فیصدآئی ایم ایف کے مالیاتی اثاثے رکھنے والے ملک کو آئی ایم ایف کے قوانین اور پالیسیوں کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہوتاہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو معاشی مشکلات میں گھرا دیکھ کر ،سی پیک منصوبے میں چین کی بھاری انویسٹمنٹ اور چین امریکا معاشی رسہ کشی کی وجہ سے امریکا آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان کو مزیددباؤ بڑھاناچاہتا ہے ۔
سابق صدر آصف علی ذرداری کی طرح روزانہ نوٹ چھاپے جائیں یاقرضے چاہے آئی ایم ایف سے لیے جائیں یا پھر چین سے یا کسی اور ملک سے،قرضوں سے ملک ہمیشہ تباہ ہوتے ہیں اور ان کی سلامتی مسلسل خطرات میں گھرتی چلی جاتی ہے۔دنیا ء اسلام کا پہلا ایٹمی ملک پاکستان اگرچہ دفاعی لحاظ سے مضبوط ہے،مگر 91ارب ڈالرز سے زائد کے بیرونی قرضوں سے پاکستان کی آزادی،خودمختاری اور سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔چنانچہ ایک طرف پاکستان کی نااہل اور غیرذمہ دارحکومتوں نے آئی ایم ایف سے بے تحاشا قرضہ لیا،دوسری طرف گزشتہ 5سالوں میں آئی ایم ایف کے بعد چین سے لگ بھگ 19 ارب ڈالرز کا قرأ لے لیا گیا۔ چین پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے مختلف اوقات میں قرضے بھی فراہم کرتارہاہے اور آئندہ بھی قرضے دینے کی حامی بھری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق چین پاکستان کو قرضے دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ادھار محبت کی قینچی ہے۔چین اگرچہ پاکستان کا بہترین دوست ہے اور سی پیک جیسے تاریخی منصوبے پرپاکستان کا تعاون کررہاہے۔لیکن چینی قرضے آئی ایم ایف سے زیادہ خطرناک ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے اپنے پیارے دوست چین سے اتنا قرضہ لے لیں کے اسے واپس نہ کرتے وقت چین کی محبت کو ادھار کی قینچی سے خود ہی کاٹ دیں۔ویسے بھی چینی قرضوں کے حوالے سے دنیا بھر کے معاشی ماہرین ہمیشہ شکوک وشبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔بہت سے ممالک نے چینی قرضوں سے شروع کیے گئے منصوبوں کو روک دیا ہے۔ نیپال جہاں چین نے ڈھائی ارب ڈالرز کے عوض ایک ڈیم بنانے کا معاہدہ کیا تھا۔لیکن نیپالی حکومت نے اس معاہدے کو اس لیے ختم کردیا کہ اس سے نیپال کے مستقبل کو خطرہ لاحق تھا۔ سری لنکا کوچین نے8ارب ڈالرز کا قرضہ 6فیصد شرح سود پر پورٹ بنانے کے لیے دیا،مگر2016ء میں سری لنکن حکومت چینی قرضہ واپس نہ کرسکی تو بدلے میں چین نے سری لنکا کی پورٹ 99 سال کے لیے چین سے لے کر بحیرہ عرب میں اجارہ داری قائم کرلی۔2011 میں تاجکستان حکومت سے چین نے جب اپنے قرضے کا مطالبہ کیا تو تاجکستا ن حکومت نے بدلے میں 1ہزار 1سو 58 کلو میٹرز زمین چین کے حوالے کردی جو چین کی مانگی گئی زمین کا صرف 5فیصد تھا۔اسی طرح وینزویلا میں چین نے 2008 ء سے 2014 تک 52ارب ڈالرز انویسٹمنٹ کی رقم واپس نہ ملنے پر چین نے وینزیلا سے لاکھوں بیرل تیل سستے داموں خریدا۔
ہم ایشین ٹائیگرزبنتے بنتے امریکہ ،یورپ،چین اور دوسرے امیر ممالک کے سامنے بھیگی بلی بن چکے ہیں۔ قرضے کے بوجھ تلے آج پوری قوم بری طرح دب چکی ہے۔جن ایشیائی ممالک کے عوام کے پاس تن ڈھاپنے کا کپڑا نہیں تھا آج وہ ہماری طرف تمسخرانہ انداز سے اس لئے دیکھتے ہیں کہ ہم ایٹمی قوت ہونے کے باوجود آنے والی ہر نئی حکومت بیکاریوں کی طرح دوسروں کے در کی طرف دیکھتی ہے۔تبدیلی نعروں اور جذبات سے نہیں آتی بلکہ جرات، مستقل مزاجی اور خلوص نیت مانگتی ہے کیونکہ دہائیوں سے رائج کرپٹ نظام، روایات اور انداز کو بدلنا آسان کام نہیں ہوتا۔ تبدیلی کی خواہش صرف اس لیڈر کو زیب دیتی ہے جو بہادر، پرعزم اور مستحکم شخصیت کا مالک ہو ورنہ ہم نے اپنی آنکھوں سے پاکستان کی تاریخ میں کئی سیاستدان اور حکمران آتے جاتے دیکھے ہیں جو تبدیلی اور انقلاب کے وعدے پر ووٹ لے کر برسراقتدار آتے رہے اور پھر روایتی حکمران بن جاتے ہیں۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ