بریکنگ نیوز

تلہ گنگ کا ضمنی الیکشن اور چوہدری شجاعت

F387AFD0-A291-401F-91DE-5C8494A277B5.jpeg

تحریر : عظمت ملک

پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ، اتنی وی انی نہیں پئی ، تلہ گنگ میں چوہدری پرویز الہی سیٹ چھوڑے توچوہدری شجاعت کو لڑا دیا جائے اور پھر چوہدری شجاعت جیت بھی جائے ۔۔۔
میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اگر چوہدری شجاعت کو لڑایا جائے تو ق لیگ پی ٹی آئی اتحاد تو کیا مقابلے میں منصور ٹمن جیسے امیدوار کو لڑا دیا جائے پھر بھی منصور ٹمن جیت جائے گا کیوں کہ اس کی کچھ وجوہات ہیں
تلہ گنگ کی سیاست اور تلہ گنگ کا ووٹ بہت مختلف ہے نہ نظریاتی ہے نہ سیاسی ہے ، آپ یقین کریں یا نہ کریں تلہ گنگ کا ووٹر بہت سیانا ہے ، اگر تلہ گنگ کا ووٹر ن لیگ کا ہوتا تو فیض ٹمن کبھی حالیہ الیکشن نہ ہارتا ، لیکن تلہ گنگ کا ووٹر اگر ق لیگ کا ہوتا تو کبھی ممتاز ٹمن گزشتہ اتنے الیکشن نہ جیت سکتا ، تلہ گنگ کا ووٹر پی ٹی آئی کا بھی نہیں ہے اگر پی ٹی آئی کا ہوتا تو شہریار کبھی الیکشن نہ جیت سکتا ، تلہ گنگ کا ووٹر کسی ایک سیاسی جماعت کسی ایک نظریہ کا نہیں ہے بہت عقل مند ہے ، جب تلہ گنگ کے ووٹر نے دیکھا کہ پرویز الہی دو ہزار تیرہ میں یہاں سے الیکشن لڑ رہا تھا ووٹر نے دیکھا کہ جو مرضی ہو جائے ووٹ ممتاز ٹمن کو دینا ہے دو وجوہات ہیں ایک یہ کہ ممتاز ٹمن صاحب کا اپنا بہت اثر رسوخ ہے اور دوسرا پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت پہلے بھی تھی اب بھی آنی ہے تو ن لیگ علاقے کے لیے بہتر ہے ، لیکن دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں ووٹر نے سوچا کہ اس دفعہ تو ممتاز ٹمن بھی اس طرف ہے اور تبدیلی کی ہوا بھی چل رہی ہے اور فیض ٹمن جعلی ڈگری والا اور اس کا کوئی سیاسی جان پہنچان ہی نہیں ہے وہ کہاں سے ہمارا نمائندہ ہو گا اور پھر حافظ عمار یاسر خود صوبائی اسمبلی پر الیکشن لڑ رہا ہے تو اس دفعہ ووٹ حافظ عمار یاسر اور پرویز الہی کا بنتا ہے ، یہی ووٹر ضمنی الیکشن میں شہریار کو جتوا گیا کیوں کہ اس کو پتہ بھی کہ نہ حافظ عمار یاسر لڑ رہا ہے نہ ق لیگ کا کوئی امیدوار اور اس وقت تبدیلی کی ہوا بھی نہین چلی تھی کہ نیا پاکستان بنانے کے لیے اتنے پرانے کرنل سلطان سرخرو کو جتواتے ، ایسے ووٹر سے یہ امید لگانا کہ اب پی ٹی آئی اور ق لیگ کا اتحاد کوئی بھی شخص کو الیکشن میں کھڑا کر دے اور وہ جیت جائے گا ، نا ممکن ہے ، ایسے ووٹر کو انتا آسان نہیں لینا ہے یہ ووٹر کبھی بھی چوہدری شجاعت کو ووٹ نہیں دے گا اور اس کی ایک نہیں دو نہیں ہزار وجوہات ہیں
پرویز الہی کو ووٹ کس لیے دیئے جاتے رہے ؟ صرف اس لیے کہ تلہ گنگ میں ہسپتال ہو یا ڈبل ون ڈبل ٹو ، سڑکیں ہوں یا گلیاں ، ہر ممکن سہولیات اور فنڈز اس نے اپے دور میں دیئے ، اور تلہ گنگ میں حافظ عمار یاسر کی صورت میں اپنا ایک مستقل نمائندہ بھی دیا کہ جو ایک طرح سے پرویز الہی بن کر تلہ گنگ کے عوام سے بات کرے وعدے کرے اور ان کے کام سنے اور کام کرائے ، پرویز الہی صاحب سپیکر بن گئے ہیں حافظ عمار یاسر صاحب وزیر بن گئے ہیں تلہ گنگ میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہونے کا امکان ہے ، تلہ گنگ کو ضلع بھی بنا یا جانا چاہیے اور یہاں کے مسائل بھی حل ہونے چاہیے ، لیکن جو کچھ بھی ہو جائے چوہدری شجاعت کا الیکشن جیتنا نا ممکن ہو گا
تلہ گنگ کے عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ بہت اچھے بزرگ اور زیرک سیاستدان ہیں ، وہ نفیس اور سلجھے ہوئے شخص ہیں ، تلہ گنگ کو اپنا ایک مستقل وارث چاہیے ، ٹھیک ہے ہم نے پرویز الہی کو جو تین مرتبہ الیکشن لڑا ہم نے آخری مرتبہ جتوا دیا حافظ عمار یاسر کی بھی عزت رہ گئی لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اب ہم گجرات کے غلام ہو گئے ہیں بس اب ہم سارا دن انتظار کریں گے کہ گجرات سے کوئی حکم آئے گا تو تلہ گنگ میں لوگوں کا دن شروع ہو گا ، کیا حافظ عمار یاسر اور پرویز الہی کو نہیں چاہیے تھا کہ وہ اس عزت افزائی اور عوام کے اتنے اچھے فیصلے اور ووٹ کی عزت کو قبول کرتے اور ضمنی الیکشن کا معاملہ تلہ گنگ کے سپرد کر دیتے کہ جو بھی امیدوار ق لیگ اور پی ٹی آئی کا ہو گا وہی امیدوار ہمارا ہو گا اور تلہ گنگ سے ہو گا اور وہی جیتے گا
پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے لیکن تلہ گنگ میں ق لیگ کے زیر سایہ ہے ، اس وقت تلہ گنگ سے تحریک انصاف کو اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہیے اور ق لیگ کو اس کی حمایت کے لیے کہنا چاہیے کیوں کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کا اتحاد اب کوئی معمولی اتحاد نہیں ہے پنجاب میں سپیکر کا عہدہ ایسے ہی نہیں دیا گیا یہ اتحاد پانچ سال چلے گا اور چلوایا جائے گا اس لیے تلہ گنگ سے ایک صوبائی سیٹ جو صوبائی وزیر بھی بن گئے ہیں حافظ عمار یاسر اس کے بعد پی ٹی آئی کو چاہیے کہ قومی اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں اپنا امیدوار دے تاکہ جیسے چکوال میں پاکستان تحریک انصاف زیرہ سے کہاں پہنچ گئی اسی طرح تلہ گنگ میں بھی اپنا وجود بنا سکے ، المیہ یہ ہے کہ تلہ گنگ سے پی ٹی آئی کے پاس کوئی زیادہ پاور فل امیدوار اور عہدیدار بھی نہیں ہیں چکوال سے سردار غلام عباس کے علاوہ اگر دیکھا جائے تو تلہ گنگ میں پی ٹی آئی کا کوئی ایک پہنچا ن نہیں ہیں ، اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ منصور ٹمن اس کی پہنچان تھا تو اس کی وہ غلط فہمی گزشتہ الیکشن میں دور ہو گئی
بہر حال سب باتوں کے باوجود پتہ نہیں کیوں بہت ہی برا محسوس کر رہا ہوں کہ اگر ضمنی الیکشن میں بھی گجرات سے کوئی امیدوار ہمارے علاقے سے الیکشن لڑے اور جیت جائے ، اتنی بھی اب بات نہیں ہے کہ ہمارے پاس کوئی بندہ ہی نہیں ڈھنگ کا ، یا ہم غلامی کو خود پر غالب لانا چاہتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے نہ خود خرچہ کرنا پڑے گا بلکہ لاکھوں میں کھیلیں گے اور خود نہ لڑیں چوہدری شجاعت کو لڑوا دیں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ