بریکنگ نیوز

چینی صدر شی جنپگ کا بیجنگ کانفرنس 2018 سے اہم ترین خطاب

1117363977_1449276911770_title0h.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ چینی صدر شی جنپگ نے رواں ہفتے چین افریقہ تعاون فورم کے حوالے سے منعقدہ بیجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چین افریقہ تعلقات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین افریقی ممالک کے ساتھ مستقبل میں مشترکہ مفادات کے حوالے سے ایک کمیونٹی کے قیام کے لیے پر عزم ہے اور اس کیساتھ ساتھ انہو ں نے موجودعالمی صورتحال پر بھی اہم تبادلہ خیال کیا۔ اپنے خطاب میں چینی صدر شی جنپگ نے مستقبل میں چین افریقہ تعلقات کی مضبوطی کے حوالے سے جن اہم امور کی نشاندہی وہ درج زیل ہیں۔ چینی صدر نے کہا کہ چین افریقی ممالک کیساتھ باہمی اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے پر عزم ہے اور مستقبل میں دو طرفہ مفادات کو یقینی بنانے کے حوالے سے چین افریقی ممالک کے ساتھ ڈیویلپمنٹ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ چینی صدر نے کہا کہ چین افریقہ کا ہمیشہ سے دوست رہاہے اور مستقبل میں بھی چین افریقہ کیساتھ باہمی اور طرفہ تعلقات کی مضبوطی کا خواہاں ہے۔ چین نے بیرونی ممالک کیساتھ دو طرفہ تعلقات کو اسی بنیاد پر آگے بڑھایا ہے کہ باہمی تعلقات میں دینے پر ترجیع رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کے مفاد کو لینے کے حوالے سے ترجیع نہیں رکھتا۔ چین کھلے دل کیساتھ افریقی ممالک کی ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے کوشاں ہے۔ اور کوئی بھی قوت چین اور افریقی ممالک کے مابین دو طرفہ اور باہمی تعلقات کو خراب نہیں کر سکتا۔ اس ضمن میں افریقی اورچینی عوام کو دیکھنا ہوگا کہ انکے باہمی تعاون سے کس قدر بہتر انداز میں وہ مستعفید ہو سکتے ہیں ۔اور جس طرح سے چین افریقہ باہمی تعلقات سے طرفین نے ایک دوسرے سے بھر پور استعفادہ اور فاہدہ حاصل کیا ہے اس امر کو کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ چین نے افریقی مفادات اور خواہشات کو ہمیشہ مدنظر رکھا ہے۔ اور چین اس حوالے سے بھی یقین رکھتا ہے کہ چین اسی تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو عالمی سطع پر اجاگر کرے۔ چینی صدر شی جنپگ نے کہا کہ چین کی 1.3 ارب آبادی اور افریقی ممالک کی1.2ارب آبادی مستقبل میں ایک مشترکہ کمیونٹی کے قیام کے حوالے سے بہت پر عزم ہے۔ چین افریقہ کااحترام کرتاہے، محبت کرتا ہے اور افریقہ کی سپورٹ کے لیے پر عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ چین افریقی ممالک کیساتھ باہمی اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے پانچ عوامل کی نفی پر یقین رکھتا ہے۔ چین افریقی ممالک کی قومی شناخت کے حوالے سے کسی بھی قسم کے بے جامداخلت پر یقین نہیں رکھتا۔ چین افریقی ممالک پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ افریقی امدادی پروگرامز کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سیاسی شرائط کا خاتمہ، اور افریقی ممالک کیساتھ فنانسنگ اور تعاون کے حوالے سے چین کسی بھی قسم کے خودغرضانہ سیاسی مقاصد پر یقین نہیں رکھتا۔ اسی طرح چین دیگرممالک کیساتھ باہمی اور دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ان پانچ عوامل کی نفی پر بھی یقین رکھتا ہے۔ عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چینی صدر نے کہا کہ عالمی سطع پر بہت سی تبدیلیاں عالمی پسِ منظر کو دھندلا رہیں ہیں۔ لیکن تمام تر چیلنجز اور مسائل کی موجودگی میں چین عالمی امن اورڈیویلپمنٹ کے حوالے سے اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے پر عزم ہے۔ اسی طرح چین عالمی سطع پر انسانی فلاح کے حوالے سے کوششوں کے لیے بھی پر عزم ہے۔ اورعالمی امن کے حوالے سے چین عالمی سطع پر گورننس سے متعلق مسائل اور تمام ممالک سے متعلق باہمی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے چین باہمی مشاورت کی پالیسی پر عمل درامد کے لیے کوشاں رہے گا۔ اور عالمی امن اور ڈیویلپمنٹ کے لیے اوپننگ اپ پالیسز کو یقینی بنائے گا۔ چین عالمی امن اور استحکام کے حوالے سے اپنی زمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے پالیسی اور سیاسی ڈائیلاگ کو اہمیت کو سمجھتا ہے اورتمام ممالک کے مفادات کو ترجیع دیتے ہوئے ڈائیلاگ پراسیس پریقین رکھتا ہے۔اورعلاقائی اورعالمی مسائل کے حل کے حوالے سے چین باہمی تعاون اور مشاورت کی اہمیت کو اجاگر کرتا رہے گا۔ اور یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن پر عمل درامد ہوتیہوئے چین نہ صرف افریقہ کیساتھ بلکہ دیگر ممالک کیساتھ بھی باہمی مفادات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں اور سنجیدہ کردار ادا کرتا رہے گا۔ چین اور افریقہ بیلٹ اینڈ روڈ پرگرام کی تکمیل سئے باہمی اور دوطرفہ عملی تعاون کے بھر پور مواقعوں سے فاہدہ اٹھانے کے حوالے سے کوشاں ہیں ، اس ضمن میں چین بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کی تکمیل، افریقہ یونین کے ایجنڈا برائے2063، اور اقوامِ متحدہ کا پروگرام 2030برائے جنوبی افریقی ممالک کے لیے پیداواری تسلسل کے لیے پر عزم ہے۔ چینی صدر شی جنپگ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ چین افریقہ باہمی اور دوطرفہ عملی تعاون کو اس حوالے سے بھی بھر پور فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ طرفین کی عوام کے بہتر معیارِ زندگی کو یقینی بنایا جا سکے اور طرفین میں خوشحالی کو یقینی بنانے میں چین اور افریقہ ایک دوسرے سے بھر پور فاہدہ اٹھا سکیں ۔ اس ضمن میں دیکھنا ہوگا کہ چین اور افریقہ اپنے باہمی تعلقات کے نتیجے میں بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں ۔ اسی طرح ڈیویلپمنٹ اور اقتصادی تعاون کے علاوہ اس ضمن میں بھی مثبت کوششیں نا گزیر ہیںاس ضمن میں ثقافتی حوالے سے وفودکے تبادلے اور چین افریقہ کی انفردای تہذیبوں کے حوالے سے تمام عوامل کا تحفظ اور ثقافتی ورثہ کی بقاء کے حوالے سے باہم کوششوں سے چین افریقہ نہ صرف اپنی ثقافتی قدروں کا تحفظ یقینی بنا سکیں گے بلکہ اس طرح تاریخی سطع پر طرفین میں تعاون کو بھر پور فروغ حاصل ہوگا۔ یوں چین اور افریقی ممالک کے مابین ثقافتی سطع پر وفود کے تبادلے، تعلیم، کھیل، تھک ٹینک، اورنوجوانوں کے مابین باہمی تبادلوں سے چین اور افریقی ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور مہارتوںسے بھر پور استعفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ ان عوامل اور عوامی سطع پر باہم تبادلوں سے چین اور افریقہ ایک دوسرے سے بھرپور استعفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔چین افریقی ممالک کے حوالے سے افریقن یونین ، دیگر علاقائی تنظیموں کے استحکام، اور دیگر افریقی مسائل کے حل کے حوالے سے افریقہ کے مسائل کا افریقی انداز میں حل کا خواہشمند ہے اور چین کسی طور اپنی مرضی افریقی ممالک پر مسلط کرنے کا خواہاں نہیں ہے۔ اس ضمن میں افریقی ممالک نے جس طرح سے بندوقوں کی خاموشی کے حوالے سے پروگرام شروع کیا ہے چین افریقی مسائل کے حل کے حوالے سے اس پروگرام کو سپورٹ کرتا ہے۔ اس طرح چین افریقہ میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اپنے مثبت کردار کا خواہاں ہے۔ اور چین چاہتا ہے کہ افریقی ممالک اپنی خودمختاری کو قائم رکھتے ہوئے اپنے مسائل کا حل یقینی بنائیں ۔ اسی طرح ماحولیات کے حوالے سے چین افریقہ کے ساتھ گرین افریقہ، پست کاربن، اور مستحکم ڈیویلپمنٹ کا حامی ہے چین افریقہ کیساتھ ماحولیاتی چیلنجز، شفاف توانائی، صحرائی کنتڑول، زمینی کٹائو، جنگلی حیات کے تحفظ، اوردیگرماحولیاتی عوامل کو یقینی بنانے کے لیے افریقی ممالک کیساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون یقینی بنانے کے لیے پ عزم ہے۔ چین نے جن دس بنیادی شعبوں میں عملی تعاون کو یقینی بنایا ہے اور جن آٹھ پراجیکٹس پر عملی تعاون کویقینی بنایا ہے وہ درج زیل ہیں سب سے پہلے چین صنعتی پروگرام کو اجاگر کرنے کے حوالے سے عوامل کا آغاز کر رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر چین انفراسٹرکچر عملی تعاون پر تیزی سے کام رہاہے۔ تجارتی سہولت کاری پرعمل درامد، گرین ڈیویلپمنٹ پروگرام، استطاعت بڑھانے کے حوالے سے عوامل کا آغاز، میڈیکل کے شعبے میں عملی تعاون کو فروغ، عوامی سطع پر وفود کے تبادلوں کا ّغاز، چین اور افریقہ کے مابین باہمی امن اور سیکوریٹی پروگرام کا آغاز۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ