بریکنگ نیوز

چین افریقہ تعاون تعصبانہ زہنیت سے ماورا ہے

FOCAC.jpg

خصوصی رپورٹ):۔ چین افریقہ تعاون فورم کے حوالے سے منعقدہ بیجنگ کانفرنس کا انعقاد رواں ہفتے3-4ستمبر کو ہوا جس میں افریقی ممالک کی قیادت نے بھر پور شرکت کی اور بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے مستقبل میں چین اور افریقی ممالک کے مابین باہمی دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کے فروغ کے حوالے سے عوامل کا جائزہ لیا گیا۔ چین اور افریقی ممالک گزشتہ چند عشروں سے باہمی تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو جس تیزی سے مختلف شعبوں میں فروغ دے رہے ہیں اس سے طرفین اس عملی تعاون سے بھر پور فاہدہ یقینی بنا رہے ہیں ۔ تاہم چین اور افریقی ممالک کے مابین اعتماد سازی اور عملی تعاون کو کچھ قوتیں شدید نا پسندیدگی سے دیکھتی رہیں ہیں اور چین کے افریقی ممالک کیساتھ دو طرفہ برادرانہ تعلقات پر مختلف حوالوں سے تنقید کی جا تی رہی ہے اور چین کے افریقی ممالک کیساتھ بڑھتے عملی تعاون کو نوآبادیاتی نظام سے تعبیر بھی کیا جا رہا ہے۔ اور چین کے افریقی ممالک میں سرمایہ کاری اور ترقیاتی پراجیکٹس کو افریقی ممالک پر قرضوں کے بوجھ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ حقیقت میں یہ وہ متعصبانہ رویہ اور نقطہ نظر ہے جو ماضی میں کبھی بھی اس امر کے خواہشمند نہیں رہیں کہ غیر ترقیافتہ اور ترقی پزیر ممالک کسی طور بھی ان کت برابر ترقی کے مواقع حاصل کریں ۔اور ان نادیدہ قوتوں نے کبھی بھی اس حوالے سے کوئی اقدام یقینی نہیں بنایا کہ افریقی ممالک بھی اس جدید دور میں ترقی کی رفتار اور ڈیویلپمنٹ کے خواب کو دیکھ سکیں ۔ اس طرح سے افریقہ کے لیے ممکنہ اقتصادی استحکام کے حوالے سے کوششوں پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اور یہ عناصر کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ افریقی ممالک باہمی مفادات اور برابری کی سطع اقتصادی ترقی اور ڈیویلپمنٹ کی دوڑ میں شامل ہوں۔ مغربی ممالک یہ خودساختہ زہنی برتری ہی تھی جس کے باعث یہ ممالک ہمیشہ افریقی ممالک سے دور رہیں ۔ لیکن دوسری جانب چین اور افریقہ نے باہمی اور دو طرفہ عملی تعاون سے اس امر کو یقینی بنا دیا ہے جسے یہ قوتیں ناممکن قرار دیتے آئیں ہیں اور چین اور افریقہ کے مابین بڑھتے روابط اور عملی تعاون کے فروغ کو دیکھتے ہوئے آّج یہ ناقدین اس باہمی تعلق کو کھٹے انگوروں کی نفسیات سے تعبیر کر رہے ہیں ۔ اور چین افریقہ باہمی تعاون کو اپنے اپنے تعصبی رویوں سے اخذ کرنے کی کوشش میں مگن ہیں ۔ آج چین افریقہ باہمی روابط کے یہ ناقدین ان عوامل سے پہلو تہی کیے بیٹھے ہیں کہ کیسے چین نے افریقی ممالک میں تکنیئکی ٹریننگ سے متعلق پراجیکٹس شروع کر کے لاکھوں نئے روزگار کے مواقع مقامی آبادی کے لیے یقینی بنائیں ۔ چینی سرمایہ کاری اور بزنسز سے افریقی عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور افریقہ کی ترقی اور ڈیویلپمنٹ اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے چینی کوششوں کی جانب آنکھ بند کیئے بیٹھے ہیں اور جس طرح سے چین نے افریقہ میں انفراسٹکچر کی تعمیر اور دیگر شعبوں کی ترقی کے حوالے سے سرمایہ کاری کی ہے ان تمام عوامل پر چین افریقہ تعاون کے ناقدین چپ سادھ کر بیٹھے ہیں ۔ لیکن دوسری جانب یہ ناقدین اس حوالے سے ہوشربا الزامات پھیلانے میں مصروفِ عمل ہیں کہ چین افریقہ میں سرمایہ کاری سے کس قدر منافع حاصل کر رہا ہے۔ اور اس تنقید کی بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ چین نے ان قوتوں کے برتری کے زعم کو ختم کرنے میں پہل کی ہے۔ اس حوالے سے کینیا کے افریقی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹوپیٹر کاگونجا نے کہا ہے کہ مغربی دنیا چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے خوفزدہ ہے اور چین کے روابط نے انکے برتری کے زعم کی حقیقت سب پر عیاں کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مغرب چین کے افریقہ میں بڑھتے اثرورسوخ کو نئے نوآبادیاتی نظام سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن ماضی میں یہ ہی قوتیں تھیں جو افریقہ سے غلاموں کی تجارت کرتے رہیں اور افریقہ کو اپنا نوآبادیاتی براعظم بنائے رکھا۔ لیکن چین ان مغربی قوتوں کے برعکس کبھی بھی افریقی دولت لوٹنے کے مقاصد نہیں رکھتا۔ ایک چینی کہاوت کے مطابق جوتا پہننے والا ہی جانتا ہے جوتا کتنا فٹِ ہے اور اس تناظر میں افریقی ممالک بہتر انداز میں حقائق اجاگر کر سکتے ہیں کہ چین کے ساتھ باہمی تعلقات اور دو طرفہ عملی تعاون کے لیے وہ کس قدر پوجوش ہیں ۔ اسی طرح ایک افریقی کہاوت کے مطابق جن پر قرضہ موجود نہیں ہوتا درحقیقت وہ ہی غریب ہوتے ہیں ۔ قرض کسی طرح سے بھی ایک عفریت نہیں ہے۔ قرض سے ہی بہتر جانور کی خریدار ی یقینی بنائی جا سکتی ہے اور بعد ازاں خوشی کے سامان خریدے جا سکتے ہیں اس ضمن میں افریقی ممالک نے چینی قرضوں سے متعلق تمام الزامات کی نفی کی ہے، جو مغربی دنیا چین پر عائد کر رہی ہے۔افریقی ممالک کے مطابق چین نے جو قرضے افریقی ممالک کو فراہم کیے ہیں ان سے افریقہ میں ڈیویلپمنٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور ان قرضوں سے براعظم افریقہ کے حالات کو بہتر کرنے کے حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اور ان پراجیکٹس اور اقدامات سے افریقہ کے لوگ اور آنیوالی نسلیں بھر پور انداز میں استعفادہ کریں گے۔ افریقی لوگ آج تک بھلا نہیں پائیں ہیں جو سلوک ماضی میں انکے ساتھ رواں رکھا جاتا رہا ہے،چین نے کبھی بھی افریقہ کو اپنا نوآبادیات نہیں بنا کر رکھا بلکہ چین نے افریقہ کی آزادی کی تحریک میں بھر پور سپورٹ کی۔ اور اس حوالے سے افریقی ممالک نے مغربی دنیا کی جانب سے چین پر عائد نوآبادیاتی نظام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چین نے براعظم افریقہ کی ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے افریقہ چین کا احسان مند ہے اور اقتصادی گروتھ کے حوالے سے جو کوششیں چین نے کی ہیں افریقہ چین کیساتھ مستقبل میں چلنے کے لیے پر عزم ہے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ لوگوں کے پاس انصاف کے حوالے سے ایک قدرتی حسِ ہوتی ہے اور اس ضمن میں افریقی لوگ ہی بہتر بتلا سکتے ہیں کہ انکا پائیدار اور مخلص دوست کون ہے اس حوالے سے افریقہ سب کے ماضی سے بھی آگاہ ہے۔ اس ضمن میں ان عناصر او قوتوں کو نصیحت ہی کی جا سکتی ہے جو چین افریقہ کے حوالے سے متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ