بریکنگ نیوز

نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی شہرت کا سبب؟؟

406955_79598629.jpg

تحریر: عمر فاروق

گزشتہ روز نوابزادہ نصراللہ خان کی برسی تھی۔ ایک دوست نے میری پوسٹ پر کمنٹ کیا کہ چونکہ نواب صاحب خاندانی جاگیردار تھے ۔ اس لیے اپنی دولت کے بل بوتے پر شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ، ورنہ بصورت دیگر وہ ایک کارکن کی سطح سے بلند نہ ہو سکتے۔
ماضی کا مقابلہ موجودہ حالات سے نہیں کیا جاسکتا۔ تب سیاست میں شرافت اور دیانت داری کا چلن تھا۔ جس کی وفاداری اور حمایت کا دم بھرا جاتا تو پھر اس کا ساتھ آخر تک دیا جاتا تھا۔ کانگرسی رہنما ڈاکٹر عالم نے جماعتیں بدلیں تو وہ ڈاکٹر عالم لوٹا کہلائے۔
یہ درست ہے کہ نوابزادہ نصراللہ کی جاگیریں ان کے آباؤ اجداد کو انگریز سرکار کی طرف سے عطا ہوئی تھیں، مگر نوابزادہ نصراللہ خان کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ وہ خاندانی و موروثی انگریز نوازی کے برعکس مجلس احرار اسلام جیسی انگریز دشمن جماعت سے 1933 (اوائل عمری ) میں وابستہ ہوئے اور قید و بند کے مراحل سے بھی دوچار ہوئے۔1946 میں وہ مجلس احرار اسلام ہند کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ یہ عہدہ ان کی قومی خدمات اور طویل
بے داغ سیاسی وابستگی کا نتیجہ تھا۔ جس سے انہیں شہرت کا بام عروج نصیب ہوا۔ اس پس منظر ہی کے سبب وہ قیام پاکستان کے بعد ملکی سیاست کے اہم ستون قرار دیے گئے۔ اگر محض خاندانی رئیس ہونا ہی شہرت کا باعث ہوتا تو آج کتنے ایسے وڈیرے موجود ہیں جو نواب صاحب سے زیادہ دولت اور زمینیں رکھتے ہیں مگر انہیں اپنے علاقہ سے باہر کوئی جانتا تک نہیں۔ مجلس احرار میں سید عطا اللہ شاہ بخاری، چودھری افضل حق،مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، شیخ حسام الدین، مظہر علی اظہر،ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور مولانا گل شیر شہید سمیت کوئی رہنما لاکھ پتی یا کروڑ پتی نہیں تھا۔ یہ سب حضرات اپنی قربانیوں کی وجہ سے نامور ہوئے۔ ہر کام روپے پیسے کی بدولت انجام نہیں پاتا۔ نوابزادہ مرحوم کے کردار کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ وہ زندگی بھر احرار سے وابستگی پر فخر کرتے رہے ۔ ورنہ ایسے بہت سے سیاستدان بھی تھے جو کانگرس اور یونینسٹ پارٹی میں سرگرم تھے اورپاکستان کو وجود میں آتا دیکھ کر تحریک پاکستان کے آخری دنوں میں محض اپنے مفادات کے لیے مسلم لیگ میں شامل ہو گئے تھے۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے استقامت اور وفاداری کی عمدہ مثال قائم کی اور انہوں نے ڈاکٹر عالم کی طرح لوٹا بننے کی بجائے جو موقف درست سمجھا ، اس پر ڈٹے رہے۔ انہی خصوصیات نے انہیں شہرت و ناموری کے علاوہ نیک نامی بھی عطا کی تھی
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ