بریکنگ نیوز

شہباز شریف کی گرفتاری اور کرپشن

download-2-6.jpg

تحریر مظہر چودہری
شہباز شریف کی گرفتاری پر تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کی توجہ چند روز قبل شاہ محمود قریشی کے جنرل اسمبلی میں کرپشن کے حوالے سے دیے گئے بیان پر اپنے تجزیے کی جانب مبذول کرانا چاہوں گا وزیر خارجہ کی جانب سے کرپشن کے خلاف کارروائیوں کے عزم کو خاصا معنی خیز اور اہم قرار دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ ویسے تو پاکستان میں ریاستی سطح پر کرپشن کے خلاف کارروائیاں معمول کی بات رہی ہیں لیکن اقوام متحدہ جیسے فورم میں اس کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے.

ان باتوں کو سامنے رکھیں تو شہباز شریف کی گرفتاری کوئی حیران کن نہیں لیکن ان کی گرفتاری کی ٹائمنگ ضرور حیران کن ہے. انہیں ایک ایسے وقت میں گرفتار کیا گیا ہے جب ایک طرف ضمنی انتخابات سر پر آ گئے ہیں تو دوسری طرف پبلک اکاونٹ کمیٹی کی سربراہی کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچنے کا وقت آ گیا تھا. خواجہ سعد رفیق سمیت کئی ایک ہاری ہوئی نشستوں پر ن لیگ کے امیدواروں کی فتح حکومت کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے. دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کسی بھی قیمت پر پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف (اپوزیشن لیڈر ) کو دینے کے حق میں نہیں.

شہباز شریف کو جس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، اس پر کافی عرصے سے بڑی اہم پیش رفت ہو چکی ہیں. یاد رہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا ہیں۔ اس کیس میں شہباز شریف کو نیب نے پہلی بار جنوری 2016 میں طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا جس سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ کا نقصان ہوا۔ شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ اقبال کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا جس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ اس حوالے سے ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر کنسٹنسی کا ٹھیکہ ایم ایس انجیئنر کنسٹنسی سروس کو 19 کروڑ 20 لاکھ میں دیا جبکہ نیسپاک نے اس کا تخمینہ 3 کروڑ لگایا تھا۔

کرپشن کے حوالے سے شہباز شریف سمیت کسی کی بھی صفائی دینا مشکل ہے. اس ملک میں جرنیلوں سے لیکر عام آدمی تک سب کے سب کسی نہ کسی حوالے سے کرپشن میں ملوث ہیں لیکن سزا کے معاملے میں امتیازی پالیسی اختیار کی جاتی ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے بیشتر سیاسی رہنما کسی نہ کسی حوالے سے کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں لیکن اس سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مخصوص مفادات کے تحفظ کے لئے زیر عتاب اور ناپسندیدہ سیاسی رہنماؤں کو کرپشن کی آڑ میں پابند سلاسل کیا جاتا رہا ہے. نواز شریف، زرداری اور شہباز شریف نے کرپشن کی ہو گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز میں اتار چڑھاؤ لانے کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں

مظہر چودھری

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ