بریکنگ نیوز

چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب کے نام کھلا خط

188246_5060153_updates.jpg

محترم چیف جسٹس صاحب 5 اپریل 2018 کو لاہور ہائی کورٹ فل بنچ نے پرائیویٹ سکولوں کے بارے میں جو فیصلہ دیا اس فیصلے کے چند امور نہ صرف قابل غور ہیں بلکہ اس قابل ہیں کہ ریاست طے کرے کہ ہم تعلیم کو کس اندھی کھائی میں آہستہ آہستہ لے جا رہے ہیں۔
پہلا افسوسناک امر
پرائیویٹ سکولز کے حوالے سے آپکے نوٹس میں جو پہلا اہم امر لانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ فل بینچ لاہور ہائی کورٹ کے 5 اپریل 2018 کے فیصلے میں جو سب سے افسوسناک بات ہوئی وہ تھی کہ پنجاب کے بچوں کے مفت تعلیم کے حق پر قانونی ڈاکہ ڈالا گیا۔
اس وقت ریاست پاکستان، پنجاب میں تو تعلیم کو منافع بخش کاروبار تسلیم کر چکی ہے جبکہ KPK اور سندھ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلوں نے تعلیم کو منافع بخش کاروبار تسلیم نہیں کیا۔
پنجاب نے فیس پر سے سالانہ اضافے کی کیپ ہٹا کر 8 فیصد کی حد مقرر کی مگر سندھ ہائی کورٹ نے 5 % کا کیپ مقرر کیا اور KPK ہائی کورٹ نے 3% کا کیپ مقرر کیا۔
اس طرح پنجاب وہ صوبہ ہے جہاں تعلیم منافع بخش کاروبار ہے ۔
جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں تعلیم منافع بخش کاروبار نہیں ہے۔ عزت مآب چیف جسٹس صاحب یہ اس قوم کے ساتھ کیسا قانونی کھلواڑ ہے ؟
دوسرا اہم امر
جون 2018 میں سٹی سکول نے مختلف برانچوں میں سے 1200 بچے نکالے جن میں میرا بیٹا عبدالعلی بن سلمان بھی شامل ہے ۔ ستمبر 2017 کے بعد ہم سب نے غیر قانونی فیسیں جنکو 20 سے 25 فیصد تک بڑھایا گیا تھا، دینے سے انکار کیا تھا اور اس احتجاجی اقدام کے لیے قانون کا ہر ممکن سہارا لیا۔
اسکے بعد 5 اپریل 2018 کو لاہور ہائی کورٹ فل بینچ کا فیصلہ آیا جس میں سکولوں کو صرف 8 % تک کی فیس بڑھانے کی اجازت ملی وہ بھی Competent Authority کی اجازت سے۔
مگر سکول نے
1۔ نہ صرف ہٹ دھرمی کے ساتھ جون2018 میں بچوں کو نکالا
2۔ بلکہ اصافی فیسیں بھی واپس نہیں کیں ۔ مرتے کیا نہ کرتے مجبور والدین نے اگست میں ہار مان کر فیسیں دیں اور بچے سکول بھیجے۔
3۔ اور ستمبر 2018 میں ایک بار پھر بغیر کسی Competent Authority کی اجازت فیسیں بڑھا دیں۔
مگر ہم چند والدین نے ہار نہیں مانی اور غیر قانونی فیسیں ابھی بھی نہیں دیں ۔ ہم کچھ والدین نے رٹ پٹیشن کا سہارا لے کر بچوں کو سکول بھیجا۔
محترم چیف جسٹس صاحب اس قوم کے بارہ سو بچے ناحق سکولوں سے نکالے گئے مگر
نہ میڈیا میں ایشو بنا ۔
نہ ایوانوں میں شور اٹھا۔
نہ ہی محکمہ تعلیم نے کوئی توہین عدالت دائر کی ۔
نہ کوئی سوو موٹو آیا۔
کیا کوئی تہذیب یافتہ قوم اپنی آنے والی نسل کے ایک بھی بچے کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک کر سکتی ہے؟
یہ ان والدین کے بچے ہیں جو ریاست کا ہاتھ بٹاتے ہوئے بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت تعلیم دلوا رہے ہیں۔
بلکہ یہ اس نسبتا بااثر طبقے کے بچے دن دیہاڑے نکالے گئے جو معیاری تعلیم کی خاطر سالانہ لاکھوں روپے ان سکولوں کو دیتے ہیں۔تو سوچئےکہ عام بچوں کا کیا حال ہوتا ہو گا۔
کیا اس ملک کے والدین پرائیویٹ سکولوں میں بچے بھیج کر ریاست کا ہاتھ نہیں بٹا رہے ؟
تو پھر ریاست ہمیں ہڈی کی طرح تعلیمی مافیا کے آگے ڈال کر کیسے بھول گئی ؟
3۔ تیسرا اہم امر
No Govt Action Against Illegal Actions of Schools Whatsoever
انہی والدین کے معصوم بچوں کے ساتھ سکولوں کے اندر جو تعصبانہ غیر انسانی اور مجرمانہ رویہ رکھا گیا وہ ایک الگ داستان ہے اور ہر واقعہ محکمہ تعلیم کے علم میں باری باری دیا جاتا رہا ہے مگر یہ سکول اتنے بااثر ہیں کہ کسی کی جرات نہیں ہوئی انکے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسے مجرمانہ اقدامات پر کیس بن سکتے تھے مگر ہم والدین ریاست کی جانب بے بسی سے دیکھ رہے ہیں اور ریاست ہے کہ وہ بھی سکول مافیا کے آگے مظلومیت کی تصویر نظر آ رہی ہے ۔ چیف جسٹس صاحب ہم صرف اور صرف قانون کی عمل داری چاہتے ہیں ۔ کیا یہ اتنا ہی ناممکن ہے؟
چوتھا اہم امر
Zero Implementation of LHC orders
اپریل 2018 کو لاہور ہائی کورٹ فل بینچ کے فیصلے کے مطابق Regulatory Regime نوے دن کے اندر بننا تھی۔ اس بات کو تقریبا 6 ماہ ہو چکے ہیں۔ نئی حکومت بھی حیلے بہانوں سے کام لے رہی ہے۔
اپریل ہی کے فیصلے میں سکولوں کو پچھلے چند سالوں کی اضافی فیسیں واپس کرنے کا جو حکم ملا اس پر بھی محکمہ تعلیم نے مکمل چپ سادھ رکھی ہے۔
پانچواں اہم امر
اساتذہ کے حقوق دبا کر کوئی قوم معیاری تعلیم نہیں دے سکتی ۔
والدین سے لاکھوں روپے لوٹ کر بھی ہمارے بچوں کو اچھے اساتذہ نہیں مل رہے۔ اساتذہ کو قانون کے مطابق نہ تنخواہیں نہ ملیں اور کام کا بوجھ بھی دگنا ہو تو اچھے ا اساتذہ تعلیم کا میدان اختیار کیوں کریں گے؟ دنیا میں نئے اساتذہ کی تنخواہ کہیں چار اور کہیں پانچ بچوں کی فیس کے برابر ہے۔ Over Burdened اور Low Paid اساتذہ کبھی اچھے اساتذہ نہیں ہو سکتے۔ والدین کا حق ہے کہ انہیں ہر استاد/استانی کی تنخواہ اور تعلیمی قابلیت کا پورا علم ہو۔
محترم عزت مآب چیف جسٹس صاحب کیا آپ بھی اس مافیا کے آگے بے بس ہو جائیں گے؟ اگر آپ نے بھی اس مافیا کے آگے ہتھیار ڈالے تو اس ملک میں تعلیم کبھی ترقی نہیں کرے گی۔ اگر سٹی سکول کو کو ناحق بچے نکالنے کی سزا نہ ملی تو کبھی اس ملک کے والدین “قانونی جنگ” بھی نہ لڑ پائیں گے ۔ اگر اساتذہ کو قانون کے مطابق تنخواہیں نہ دلوائی گئیں تو اس قوم کو ملک میں اچھے اساتذہ اور معیاری تعلیم کا خواب دیکھنا چھوڑ دینا چاہئے۔
Faiqa Salman
~03336755516
Also from.
Dr. Salman Saeed
~ 03009473044
Mohammad Ayub President PAC
~03334243636
Parents Action Committee Lahore
13th October 2018

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ