بریکنگ نیوز

آزادانہ عالمی معیشت کا رجحان ناگزیرحقیقت بن چکا ہے

china-economy_wide-59a4aa2a91c279a193c37ca3fdd265ad9811d98f.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ امریکہ ہمیشہ سے دنیا میں عالمی معیشت کے حوالے سے سب سے فاہدہ اٹھانے والا ملک رہا ہے، عالمی معیشت کے پسِ منظر میں دیکھا جائے تو امریکہ ٹیکنالوجی اور صنعتی انقلاب کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے حوالے سے بھی عالمی سطع پر سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر رہا ہے اور صنعتی اور ٹیکنالوجی میں سب سے زیادہ جدت پسندی کے باعث امریکہ نے عالمی سطع پر سب سے زیادہ فوائد سمیٹے ہیں ۔ 1894کے بعد سے امریکہ عالمی سطع پر حیران کن ٹیکنالوجی اور سائنسی عوامل کے باعث تمام عوامل کے حوالے سے دنیا بھر میں سرِ فہرست رہا ہے۔ اور تیس سال قبل تک امریکہ کے پاس دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ سونے کے ذخائر موجود تھے۔ اور انہی عوامل کی مدد سے امریکہ دنیا بھر میں مالیاتی لحاظ سے سب سے زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والا ملک رہا ہے۔ دوسری جانب دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکی ڈالر نے جس طرح سے دنیا بھر کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک تسلسل کیساتھ برتری قائم کیئے رکھی ہے اسکے باعث میں امریکہ کا معاشی حوالے سے عالمی سطع پر دباؤ موجود رہا ہے اور اسی امر کو بطور ایک آلہ کار استعمال کرتے ہوئے امریکہ مختلف چیلنجز کو دنیا بھرمیں منتقل کرتا رہا ہے۔ کئی سال قبل گلوبلائزیشن کو مسترد کرنے کے عوامل کو ایک امریکی صحافی نے اس طرح سے تعبیر کیا تھا کہ گویا آپ سورج کے طلوع ہونے کے امر کو مسترد کرتے ہیں لیکن آج صورتحال یہ بن چکی ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں آزادانہ تجارت کا سب سے بڑا مخالف بن کر سامنے آیا ہے اور عالمی تجارتی تنظیم (WTO)کے اصول وضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عالمی تجارت کی راہوں کو محدود کرنے کے لیے دنیا بھر پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی سعی میں مصروف ہے۔ امریکی نائب صدرمائیک پینس نے ایک حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بیجنگ اپنی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرے اور اپنی معاشی کشادگی کے لیے اپنی زمہ داریوں کو ادا کرے، بالکل اسی طرح سے جیسے امریکہ طرزِ عمل اختیار کیئے ہوئے ہے۔ لیکن دوسری جانب امریکی نائب صدر مائیک پینس نے تجارتی تحفظات کے حوالے سے امریکی عزائم کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے حال ہی میں قائم کی گئی ایک کمیٹی بعنوان: کمیٹی برائے غیر ملکی سرمایہ کاری فار امریکہ کی مضبوطی کی استدا کی ہے تاکہ امریکہ میں چینی سرمایہ کاری کو سکروٹنی کی جا سکے۔ اس ضمن میں دیکھا جائے تو امریکی نائب صدر کی منطق کو کسی طور جائز نہیں کہا جا سکتا جو سراسر تضادات سے بھر ی پڑی ہے۔ امریکہ آزادانہ تجارت کے فوائد سے بلا شبہ آگاہ ہے اور اس امر سے بھی بخوبی واقف ہے کہ چین کی شراکت کے بغیر عالمی معیشت کا خواب کسی طور تکمیل حاصل نہیں کر سکتا ۔ 2007کے آغاز میں امریکہ میں جب انتہائی کم مارک اپ کی شرح کے حوالے قرضوں اور رہن سے متعلق بحران کا آغاز ہوا اور اس بحران سے عالمی سطع پر مالیاتی بحران کا بھی آغاز ہوا، اس طرح سے اس بحران کے پیشِ نظر امریکہ نے اپنے متکبرانہ مزاج میں یکسر تبدیلی لاتے ہوئے چین کیساتھ باہم مذاکراتی عمل کا آغاز کر دیا اور فوری طور پر ان عوامل کی روک تھام کے لیے G20ممالک کی سربراہی کانفرنس بلانے کا عندیہ دیا۔ حقائق اور اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں تیزی سے ابھرتی معیشیتوں اور ترقی پزیر ممالک نے عالمی معیشت کی بحالی اور مضبوطی کے لیے سب سے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح سے اس پلیٹ فارم پر انحصار کرتے ہوئے امریکہ نے بھی یہ عوامل کی مدد سے 2010 سے 2017کے مابین دو فیصد سے زائد اقتصادی نمو کو یقینی بنایا ہے۔ لیکن امریکہ نے اس فورم سے تمام ممکنہ فوائد حاصل کرنے کے بعد اس کو یکلخت ختم کرنے کا عندیہ دیدیا، ایک وقت جب امریکہ مورٹ گیج بحران سے نبر آزما تھا تو امریکہ نے تمام مشکلات کو سہولت میں تبدیل کرنے کے لیے تمام تر شراکت داروں سے تعاون کی اپیل کی اور آزادانہ تجارت کے حوالے سے عالمی معیشت کی رو سے تمام فوائد بھر پور انداز میں سمیٹے لیکن جب امریکہ معاشی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اس نے تمام اقتصادی شراکت داروں کساتھ سر د مہری کا مظاہرہ شروع کر دیا اور دیگر معاشی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے خلاف آزادانہ تجارت کے حوالے سے الزامات عائد کرنا شروع کر دئیے۔ ان تمام یکطرفہ کاروائیوں کے پیچھے امریکہ کا برتری اور خودغرضانہ زعم ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اور امریکہ نے اس برتری کے زعم کو سب سے پہلے امریکہ کی پالیسی کانام دیدیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے پہلے امریکہ ایک ایسی مثال کی صورت دنیا پر عیاں ہو چکا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے کسی بھی امر سے گریز نہیں کریگا۔ اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے امریکہ اپنے ممکنہ مسابقتی عوامل کو تجارت سمیت کسی بھی حوالے سے کنٹرول کرنے کی پالیسز سے گریز نہیں کریگا۔ اس طرح سے ماضی میں جو ممالک امریکہ کے احساسِ برتری کے زعم کا شکار ہو چکے ہیں ان ممالک کی فہرست میں روس بھی شامل ہے جو سرد جنگ کے دنوں میں امریکہ کی برتری کے زعم کا شکار ہوکر کئی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا اسی طرح سرد جنگ میں امریکہ کا اتحادی جاپان بھی اسی امریکی برتری کے زعم کا شکار بن چکا ہے اور اسی اور نوے کی دہائی میں اسکی مثال سب سے سامنے عیاں ہو چکی ہے۔ اسی طرح موجودہ یورپی یونین، کینڈا، میکسیکو اور ترکی کو امریکہ اپنے لیے کئی مواقعوں پر اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے استعمال کر چکا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو یہ امر پہلی بار نہیں ہے کہ امریک اپنے کسی شراکت دار ملک کی جانب اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کر نے جا رہا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد سے امریکی معیشت تیزی سے مستحکم ہونا شروع ہوئی بالخصوص1923سے 1929کے مابین امریکی معیشت سالانہ چار فیصد معاشی نمو کیساتھ بڑھی اور سرمایہ دارانہ ممالک میں امریکی صنعتی پیداوار 48.9فیصد کے تناسب سے آگے بڑھی۔ تاہم دوسری جانب امریکہ کی درامدی مصنوعات امریکہ کی برامدی فروخت کے مقابلے میں ایک طرح سے کمزور قربانی کی مانند ثابت ہوئی۔ 1930کی دہائی میں واشنگٹن نے بیس ہزار درامدی اشیاء پر اضافی ٹیرف کو بڑھانے کا اعلان کیا اور اسے سموٹ ہالے ٹیرف ایکٹ کا نام دیا گیا۔ اس طرح سے 1929میں اوسط ٹیرف کو چالیس فیصد تھا 1932میں اس کی شرح میں انسٹھ فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔ لیکن اس کے باوجود امریکی برامدات میں خاصا کمی ریکارڈ کی گئی جو 5.2بلین ڈالر سے کم ہوکر1.6بلین ڈالر تک رہ گئی۔ اس طرح سے اس وقت سے امریکہ کو دیگر ممالک کی جانب سے ردعمل کی پالیسز کا سامنا شروع ہوا اور دنیا بھر میں عالمی سطع پر سیاسی اور اقتصادی بحرانوں کا آغاز ہوا۔ اس طرح سے عالمی سطع پر ممکنہ پالیسز کو دیکھتے ہوئے اس وقت امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ نے دنیا میں آزادانہ تجارت سے متعلق پالسیز کا آغاز کا اعلان کیا۔ آج موجودہ صورتحال یہ ہے کہ امریکہ آزادانہ تجارت کا سب سے بڑا وکیل ہونے کے بعد آج آزادانہ تجارت کا سب سے بڑا مخالف بن کر سامنے آیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ اپنے برتری کے زعم کا برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اور آج دنیا کی اقتصادی سورتحال 1930کی طرز پر کھڑا ہے اور امریکہ ایک بار پھر سے علامی تجارت کو اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے یکسر تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ امریکی قیادت چینی معیشت پر لوٹ کھسوٹ کے الزام عائد کر رہی ہے اور آزادانہ تجارت کے خلاف یہ الزامات سراسر جھوٹ اور حقائق کے منافی ہیں گزشتہ سترہ سالوں میں چین کی درامدی مصنوعات کی شرح میں تیرہ فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔ جو اس حوالے سے عالمی اوسط سے دوگنا ہے۔ چین اشیاء کی درامد میں دنیا بھر میں سب سے سرِ فہرست ہے اور عالمی سطع پر سرمائے کی نقل وحمل میں دوسرے نمبر پر موجود ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں تیسری پوزیشن پر ہے۔ آج چین 120ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے دریں اثناء بیشتر ایشئین، لاطینی امریکہ اور افریقی ممالک کا ٹریڈ سر پلس چین کیساتھ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اگر چین لوٹ کھسوٹ سے متعلق پالیسز اختیار کیئے ہوتا تودنیا کے سب ممالک چین کیساتھ تجارت کو فوقیت نہ دیتے۔ دوسری جانب اگر امریکی قیادت الزام عائد کرتی ہے کہ امریکی سرمایہ کاری سے چینی معیشت مستحکم ہے تو اس میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے، امریکہ کیساتھ چینی تجارت 2001کے بعد سے شروع ہوئی جب چین WTO کا رکن بنا۔ آج چین کی مارکٰٹ جس قدر پوٹینشل رکھتی ہے سینکڑوں امریکی انٹر پرائسز چین کی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر جنرل موٹرز جودیوالیہ ہونے کے قریب تھی2008میں مالیاتی بحران کے بعد اپنے بیرونِ ملک پنتالیس فیصد حصص چین کیساتھ شروع کیئے۔ اور گزشتہ سال تک اس کے ریونیو میں 27بلین یوآن کا اضافہ ہوا۔ جب کے دوسری جانب دنیا بھر میں اسکے کاروبار میں کمی کا رجحان ہے۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی معیشت کے مطابق اگر امریکہ چین کیساتھ تجارتی جنگ کو جاری رکھتا ہے تو امریکہ ایک ملین تک ملازمتیں کھو سکتا ہے، عالمی معیشت کے لیے ٹیکنالوجی جدت اور بہتر پیداواری عو۲امل بنیادی محرکات ہیں اور یہ بنیادی محرکات ہمیشہ کسی ایک ملک یا قوم کے پاس نہیں رہتے۔ اس تناظر میں تجارتی تحفظ پسندانہ پالیسز نے عالمی معیشت کے رجحان کو مستقلا روکا جانا آج کی دنیا میں ممکن نہیں ہے کیونکہ جدت اور ٹیکنالوجی کسی کی میراث نہیں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ