بریکنگ نیوز

چین امریکہ تعلقات دو طرفہ فوائد اور بہتر انڈرسٹینڈنگ پر منحصر ہیں

xUS-China-Flag-1.jpg.pagespeed.ic_.vKIjlbfILl.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ چین اور امریکہ کے مابین اضافی تجارتی ٹیرف کے حوالے سے جو کشیدگی پیدا ہو رہی ہے ، انہیں دیکھتے ہوئے یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ چین اور امریکہ کے مابین موجود ہ کچھاؤ اور ٹینشن کی بنیادی وجہ تجارتی عوامل پر ہی منحصر ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین ٹینشن کی بنیادی وجہ جدید ٹیکنالوجی کے حصول پر مبنی ہے۔ اگرچہ چین اور امریکہ کے مابین تجارتی توازن ہر گزرتے دن کیساتھ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔اور یہ تجارتی توازن بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین پر غیر شفاف تجارتی مشقوں کے حوالے سے عائد الزامات کی ایک کڑی ہے جو در حقیقیت امریکہ کے میکرو اکنامک مسائل میں خرابی کی وجہ سے ہے۔ آج امریکی معیشت مقامی سطع پر سیونگ میکنزیم نہ یونے کیوجہ سے بہت سے ناگزیر مسائل سے دوچار ہے، رواں سال2018کی پہلی ششماہی میں امریکہ کی نیٹ قومی بچت کی شرح صرف تین فیصد ریکارڈ کی گئی جو 2009-17کے بحران کیبعد سے صرف1.9فیصد کے تناسب سے ہی آگے بڑھ سکی ہے۔ جو بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں کی شرح 6.3فیصد کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے، اس طرح سیونگ میکنزیم کی غیر موجودگی اورسرمایہ کاری کیلئے اور بڑھو نمو کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کو بیرونی دنیا سے سرپلس سیونگ کو درامد کرنا ناگزیر بن چکا ہے اور بیرونی دنیا سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو امریکہ میں راغب کرنے کے لیے تجارتی خسارے اورکرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق مسائل کو کو وسیع پیمانے پر موثر انداز میں دیکھنا ہوگا۔ گزشتہ سال 2017میں امریکہ کا 102اقوامِ عالم کیساتھ تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا اس طرح اس کثیر الجہتی مسلۂ کو بجٹ کٹس ٹیکسز کی مدد سے حل کرنے کی سعی کی گئی اور آئیندہ چند سالوں میں امریکہ کا مقامی سیونگ کی شرح میں مزید کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس سے قومی سطع پر تجارتی خسارے اور کرنٹس اکاؤنٹس کی شرح میں مزید کمی واقع ہوگی۔ اور ان عوامل کو اگر چین کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے مزید سنگین نتائج برامد ہونگے۔ اس طرح چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے سے تمام تر بوجھ امریکی صارفین پر پڑے گا یوں اس کثیر الجہتی مسلۂ کو امریکہ یکطرفہ پالیسی میکنزیم سے قطعی حل نہیں کر سکتا۔ چین اور امریکہ کے مابین جاری کشمکش کی ایک بنیادی وجہ امریکی تجارتی خسارہ بھی ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں امریکی وائیٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک پالیسی پیپر میں کہا گیا ہے کہ چین نے بہتر ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے امریکی انڈسٹریز کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے اور اگر چین اس ابھرتی ٹیکنالوجی تک استطاعت حاصل کر لیتا ہے تو امریکہ کا اقتصادی مستقبل مخدوش ہو سکتا ہے۔ اور چین در حقیقت ٹیکنالوجی کے اس تاج تک رسائی حاصل کرنے کی سعی کر رہا ہے۔یہ الزامات امریکی تجارتی ترجمان رابرٹ لیئٹزیئر نے حال ہی میں سیکشن301 کیحوالے سے تحقیات کے لیے جاری ایک رپورٹ میں واضح کیے ہیں ، جو موجودہ حالات میں چین کے خلاف امریکہ کا ایک قومی بیانیہ کی صورت سامنے آیا ہے، اس حوالے سے امریکی تجارتی ترجمان نے الزامات عائد کیئے ہیں کہ چین امریکی کمپنیز کیساتھ ملکر مشترکہ امور کی آڑ میں جدید امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اس طرح سے دیگر کمپنیز کیساتھ ملکر چین امریکی کمپنیز کی وساعت سے امریکی جدید ٹیکنالوجی کو چوری کرنا چاہتا ہے، اس حوالے سے امریکین ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق رواں دہائی میں چین اور امریکی کمپنیز کے مابین 228مختلف شراکتی امور میں سولہ مختلف معاہدات جدید ٹیکنالوجی سے متعلق تھے۔ جبکہ اسی مدت کے دوارن رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اکیاون مختلف معاہدات کیئے گئے تھے۔ امریکی تجارتی ترجمان کیمطابق چین صنعتی پالیسز کو ہدف بنائے ہوئے ہے، اس ضمن میں چین 2015اورAI-2030پالیسز کو آگے بڑھانا چاہتا ہے تاکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی تک تیزی سے چین استطاعت حاصل کر سکیں لیکن امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی جدید صنعتی پالیسز جو جاپان، جرمنی اور پینٹاگون سے متعلق ہیں موجودہ سرکردہ کمپنیز سے متعلق نہیں ہیں ، اس طرح امریکی تجارتی ترجمان کے موقف سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ چینی ایسے مواقعوں کی کھوج میں رہتے ہیں جہاں انکا کوئی کام نہیں ہے۔ اور چین ان جگہوں پر نہیں جا سکتے جہاں سے اقوامِ عالم کی خوشھالی اور ترقی کا سفر ممکنہ انداز میں شروع ہوتا ہے۔ لیکن تجارتی ترجمان اس امر سے نا واقف ہیں کہ چین زمانہ قدیم سے ہی دنیا کی موجود ٹیکنالوجیز تک بہتر انداز میں استطاعت رکھتا تھا۔ چین زرعی پیداوار کی ٹیکنالوجی سے لیکر ٹیکسٹائل کے شعبے میں اور پیپر کی تیاری سے لیکر میزائل ٹیکنالوجی اور گن پاؤڑد کی تیاری تک دنیا سے بہت آگے رہا ہے۔ اسی طرح میکینیکل اور سولِ انجینئرینگ کے شعبوں میں بھی چینی مہارت کسی صورت بھی بیرونی سے کم نہیں رہی ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدی کے حوالے سے یورپ میں جو زرعی اور صنعتی انقلاب رونما ہوا، چین اس زمانے میں یورپ سے مختلف شعبوں میں بہت آگے نکل چکا تھا۔ اسی طرح لوہے کے استعمال کے حوالے سے چین کی فی کس کھپت یورپ سے کئی گنا زیادہ تھی۔ 13ویں صدی میں چین میں ٹیکسٹائل کے حوالے سے جو جدید امور استعمال ہو رہے تھے یورپ ان سے پانچ سو سال پیچھے تھا۔ اس طرح جدید سوچ اور جدت پسندی کے حوالے سے جو مقابلہ آج امریکہ چین کیساتھ دیکھتا ہے اس کے حوالے سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا چین اس بدلتے دور کے حوالے سے درامدی عوامل کو مقامی کفالت کیساتھ بدلنے کی استطاعت رکھتا ہے تاکہ چین مڈل مین انکم کے شکنجے سے نکل سکے کیونکہ اسی شکنجے سے ماضی میں بہت سی اقوام اپنے فوائد کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں ہیں۔ اس حوالے سے جن پانچ بنیادی عوامل کی چین کی جانب سے تو ضیع کی گئی ہے وہ درج زیل ہیں۔سیلیکان ویلی کی طرز پر قائم عوامل: مختلف یونیورسٹیز کے اشتراک سے ایسے ثقافتی عوامل کو ایک جگہ اکھٹا کیا جائے جہاں سے انٹر پرئنیرز اور بڑے سرمایہ کاری سے متعلق تمام امور بہتر انداز میں فعال ہو سکیں ، اس طرز پر چائینہ نے سترہ ٹیکنالوجی کے مراکز قائم کیئے ہیں ، جن میں سب سے بڑا گریٹر بے ایریا، جو پرل ڈیلٹا ایریا، شانزن، ہانگ کانگ، مکاؤ اور گوانگ دونگ کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے، اسی بیجنگ میں زی ۔پارک، جو سافٹ وئیر پارک اور گوانگژو مراکز سے متصل ہیں، اسی طرح شنگھائی پڈونگ میں ایسی ہی کوششوں کو یقینی بنایا گیا ہے جیسے ژین جیانگ ہائی ٹیک پارک، اور حال ہی میں ٹشنگوا یونیورسٹی میں قائم انسٹی ٹیوٹ برائے آرٹیفشل انٹیلی جنس مراکز شامل ہیں ، اسی طرح نئی اور ابھرتی کمپنیز کی سہولت کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور انٹر پرئنیرز کے لیے تمام سہولیات یقینی بنانے پر ترجیعانہ بنیادوں پر کام جاری ہے۔ آج چین کے پاس 160یونیکان کمپنیز ہیں ، ان نجی کمپنیز کی مالیت فی کس کمپنی ایک بلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ کئے پاس صرف130یونیکان کمپنیز ہیں ، چینی کمپنیز ای کامرس، فنٹیک انٹر نیٹ فنانس، کے زریعے سے ایک بڑے ای کامرس پلیٹ فارم کیاستطاعت کی حامل ہیں ۔اسی طرح بیشتر چینی کمپنیز ایسی بھی ہیں جو عالمی رینکنگ میں سرِ فہرست ہیں ج میں سوشل میڈیا پر سرِ فہرست Alibaba, tencent, JD.com, Baiduشامل ہیں اسی طرح سے جدید ٹیکنالوجی عوامل بشمول DNAمنظوری، بائیو جینیٹکس، ہائی اسپیڈ ریلوے، خوکار گاڑیاں، اور مصنوعی زہانت کے حوالیسے موجودہ دنیا میں امریکہ کا شراکتدار اور مسابقتی شراکت دار چین ہی ہے۔ دوسری جانب اسٹریٹیجی اور گورننس کے شعبوں میں چین زمانہ قدیم سے ہی کسی سے پیچھے نہیں۔ چین کی دو اہم ترین صنعتی پالیسز بشمول MIC2025 اورAI2030ہیں جس کی بنیاد جدید چین ایک قدیم چین کے مقابلے میں دنیا کے سامنے ایک نئے عوامل کیساتھ آگے بڑھے گا۔ جدید تعلیم کے شعبے میں چینی یونیورسٹیز سالانہ 1.7ملین سائنسدان اور انجینئرز پیدا کر رہی ہیں ، یوں نینو سائنس اور نینو ٹیکنالوجی سے لیکر کونٹیم نیٹ ورکنگ، اور نئی تخلیق کردہ ادویہ سازی تک چین ہر شعبہ زندگی میں نت نئی ٹیکنالوجیز سے استعفادہ حاصل کر رہا ہے۔ اس طرح جدید ٹیکنالوجی کے حامل چین کو کسی طور امریکی تاج سے کوئی غرض نہیں ہے۔دوسری جانب ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ کے شعبے میں چین سالانہ نیشنل سائینس فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام سالانہ پندرہ بلین ڈالر کے اخراجات کر رہا ہے اس طرح سے سائینس ریسرچ اور ڈیویلپمنٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ایک طرف امریکی تجارتی ترجمان ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور ٹیکنالوجی چوری کی بات کرتے ہیں لیکن چینی ٹیکنالوجئی اس حوالے سے اپم ترین اہداف کی جانب گامزن ہے جسے ممکنہ ہیکنگ اور ٹرانسفر یا چوری سے ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا، جو محفوظ انداز میں تخلیق کی جا رہی ہے۔ اور یہ عوامل امریکہ کی چھوٹی زہنیت کی عکاسی کرتی ہیں ۔ چین اور امریکہ کے مابین ٹیکنالوجی کی دوڑ دھوپ کے حوالے سے جو کشمکش جاری ہے اسے دیکھتے ہوئے ایک متبادل تشریح یہ بھی پیش کی گئی ہے کہ ہر معیشت کو ٹیکنالوجی کے پیداواری امور سے جو پے بیک سے عوامل حاصل ہوتے ہیں انہیں مڈل مین انکم عوامل سے کیسے محفوظ کیا جا سکتا ہے اسے اقتصادی جمود کی اصطلاح سے باہر نکل کر ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت امریکہ کا مقابلہ دیگر اقوامِ عالم کی طرح دشمنوں سے زیادہ خود سے ہے امریکہ اگر اپنی ناکامیوں کے لیے چین کو مورودِ الزام ٹہراتا رہے گا یہ کسی صورت موجودہ مسائل سے باہر نہیں نکل سکتا۔ اور موجودہ اقتسادی مسائل اور چیلنجز سے امریکہ تبھی باہر نکل سکے گا جب امریکہ نئی اقتصادی اسٹریٹیجز پر عمل درامد یقینی بنائے گا۔ ۔ آنیوالے سالوں میں چین اور امریکہ کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور دونوں ممالک اسی صورت ان ممکنہ مسائل سے باہر نکل سکتے ہیں اگر وہ اپنے درپیش مسائل سے نمٹنے کی صلاحٰت ھاصل کر لیتے ہیں ۔ اور ناکامی دونوں کا مقدر بن سکتی ہے اگر وہ تجارتی جنگ یا دیگر عوامل کیساتھ ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کرتے رہیں گے۔ اگر دونوں ممالک طویل عرصے تک اس کشیدگی کو جاری رکھتے ہیں تو طرفین کو طویل مدتی ان کشیدگی کے اثرات سے نمٹنے میں لگے گا۔ اس لیے طرفین جس قدر ان جدت پسندی سے متعلق امور کو باہم حل کر لیں گے اس قدر ان کے لیے بہتر اور اقتسادی استحکام بہتر بنایا جا سکے گا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ