بریکنگ نیوز

امریکا اور ترکی کا جمال خاشقجی کے قتل کے اصل حقائق سامنے لانے پر اتفاق

191879_216728_updates.jpg

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک ہم منصب طیب اردگان کا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے جس میں جمال خاشقجی کے قتل کے اصل حقائق سامنے لانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ترک صدر طیب اردگان انقرہ کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی تحقیقات سے متعلق اپنی جماعت کے رفقاء کو آج اعتماد میں لیں گے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے تفتیش کاروں نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ تفتیش کاروں نے اپنی تحقیقات سے متعلق مفصل رپورٹ ترک صدر کو بھیج دی تھی۔ رپورٹ موصول ہونے پر صدر طیب اردگان اپنی کابینہ اور جماعت کے اراکین کو تحقیقات سے آگاہ کریں گے۔

جمال خاشقجی کا قتل سنگین غلطی تھی: سعودی عرب

ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے اب تک کی تحقیقات سے اپنی جماعت کے رفقاء کو اعتماد لیں گے بعد ازاں میڈیا کے ذریعے یہ معلومات پوری دنیا کو فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ صحافی کے قتل کی تحقیقات کے لیے کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا اور ملکی قوانین کے تحت شفاف تحقیقات کو مکمل کرلیا ہے جس میں ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں۔

صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ سعودی حکام کا اولین دعویٰ تھا کہ صحافی کچھ دیر بعد واپس چلے گئے تھے لیکن ترکی کے حکام نے سعودی مؤقف کو رد کردیا تھا۔

ترک حکام کا دعویٰ تھا کہ صحافی کو قونصل خانے میں ہی قتل کرکے لاش قریبی جنگل یا کھیت میں چھپادی گئی ہے۔ لاش کی برآمدگی کیلئے تلاش کا کام بھی شروع کیا گیا تھا تاہم میڈیا کو اپ ڈیٹس نہیں دی گئی تھیں۔ ترکی کے تفتیش کاروں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ 2 اکتوبر کو ہی 10 سے زائد سعودی حکام چارٹرڈ طیارے سے استنبول پہنچے تھے اور ان تمام افراد کے سعودی قونصل میں داخلے اور کام مکمل کرنے کے بعد واپس جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں۔

ترک تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ یہی افراد جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہیں ان میں سے ایک شخص فرانزک لیب کا ماہر ہے جب کہ باقی افراد یا تو انٹیلی جنس کے اہلکار ہیں یا پھر سعودی ولی عہد کے محافظ تھے۔

ترکی کے تفتیش کاروں نے صحافی کی گمشدگی کے بعد سعودی قونصل خانے کے پہلی بار معائنے کے بعد قتل کے حوالے سے آڈیو اور ویڈیو شواہد بھی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور انہی شواہد کی بناء پر تفتیش کو آگے بڑھایا گیا تھا۔

واضح رہے سعودی عرب کا بھی عالمی دبائوکے بعد جمال خاشقجی کی استنبول کے سعودی قونصل خانے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صحافی ہاتھا پائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم لاش کے حوالے سے سعودی حکام نے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔

آسٹریلیا، کینیڈا، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے خاشقجی کے قتل کے معاملے پر سعودی عرب سے مزید وضاحت مانگی ہے، جبکہ جرمن چانسلر اینجلا مرکل کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جرمنی سعودی عرب کو ہتھیار برآمد نہیں کرسکتا ہے، جرمنی نے گذشتہ ماہ ہی سعودی عرب سے 480 ملین ڈالر کے اسلحے کی فروخت کا معاہدہ کیا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ