بریکنگ نیوز

صدیوں کا درد

Aamir-Shahzad-aakas-akas-akaas.jpg

تحریر:عامر شہزاد
وزیر اعظم عمران خان نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے کو ایک خط میں پاک بھارت پر امن تعلقات کاا ظہار کیااور تمام باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی دعوت دی ۔ بھارت کی طرف سے خط کاجواب اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات پر آمادگی کی صورت میں مثبت انداز میں دیا گیا، مگر دوسرے ہی دن اس ملاقات کو بے بنیاد الزامات کے بہانے انتہائی بھونڈے اندازمیں نہ صرف منسوخ کر دیا بلکہ اس کے فوراً بعد بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات نے پاکستان کو جارحیت کی کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ ’’ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے اور اسے بھی وہی درد محسوس کرایا جائے جو ہم جھیل رہے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹ کے ذریعہ مذاکرات کی دعوت ٹھکرانے پر بھارتی قیادت کو بصیرت سے عاری قرار دیتے ہوئے اس کے منفی اور متکبرانہ رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے عہدے پر بیٹھے چھوٹے شخص کی سوچ چھوٹی ہی رہتی ہے ۔ عمران خان کی ٹوئٹ کے الفاظ ان کے عہدے کے شایان شان نہیں تھے کیونکہ ایٹمی طاقت والے ممالک کوجنگ جیسے انتہائی نازک اور حساس ایشو پر بولنے سے پہلے ہزار بار سوچناچاہیے۔ہر جگہ دلیری سے نہیں بلکہ بعض حساس مقامات پر مدبرانہ انداز گفتگو سے حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اسی لئے عمران خان کے غیر سنجیدہ بیان کے بعد افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بڑے مدبرانہ انداز میں کہا کہ امن جنگ سے نہیں مذاکرات سے آئے گا لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔
پاکستانی قوم کا اپنا انتخاب امن کا راستہ ہے ۔بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی دعوت کے جواب میں بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت کا خطے میں کشیدگی بڑھانے اور جنگ کی سی فضا پیدا کرنے کی کوششوں پر مبنی یہ نفرت انگیز رویہ ان لوگوں کے لیے قطعی حیرت انگیز نہیں جو سات دہائیوں پر مشتمل پاک بھارت تعلقات کی تاریخ پر نگاہ رکھتے ہیں۔بھارت پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے کشمیر سمیت تمام اختلافات کے منصفانہ تصفیے کی پیش کش کے جواب میں بے بنیاد الزام تراشی کی مہم چلاکر فرار کی راہ اختیار کرتا چلا آرہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عموماً اس رویے کا عادہ کیا جاتا ہے تاکہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا ذمہ دار بھارت نہیں پاکستان ہے اور اس کی شرپسندی کی وجہ سے باہمی تنازعات کا بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جانا ممکن نہیں۔
پاکستان کی طرف سے امن مزاکرات کے مثبت کے جواب کے ایک دن بعد ایسا کیا ہوا کہ مودی حکومت نے پاکستان کو سول اور فوجی قیادت کی طرف سے سخت ترین جواب دیا۔ اس کے پس منظر میں بھارت کے اندرونی حالات اور آیندہ الیکشن کے موقع پر سیاسی دباؤ صاف نظر آتا ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو 2019ء کے عام انتخابات میں بہت سی مشکلات نظر آرہی ہیں۔ بی جے پی کا اندرونی بحران ا تنا شدید ہے کہ اس سال پارٹی کے اندر انتخابات ملتوی کردئیے گئے ۔ مہنگائی ،بے روزگاری اور لاقانونیت نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے ۔کانگرس کے صدر راہول گاندھی نے فرانس سے طیارے خریدنے پر مودی کو کرپٹ اور چور ہونے کی بھرپور تحریک چلا رکھی ہے۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ راہول گاندھی کی یہ تحریک مودی کے اقتدار کی کشتی کو لے ڈوبے گی کیونکہ یہ صرف سیاسی شوشا نہیں اس کے پیچھے چھپی سچائی چیخ چیخ کہ کہہ رہی ہے کہ مودی کرپٹ ہے۔ 2016ء میں فرانس کے صدر فرانکوئس ہولاندے تھے،انہوں نے کچھ دن پہلے انکشاف کیا کہ جب مودی نے پیرس میں ایک فرنچ کمپنی ڈزالٹ ایوی ایشن سے8.7ارب ڈالر مالیت کے 36رافائل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیاتو اس سودے سے قبل مودی حکومت نے ہمیں پیغام بھجوایا کہ آپ ہمیں یہ طیارے رلائنس ڈیفنس نامی کمپنی کے ذریعہ فروخت کریں ۔ رلائنس ڈیفنس نامی کمپنی کا مالک دراصل مودی کا دوست انیل امبانی ہے۔ بھارتی اپوزیشن پارٹیوں کے مطابق مودی نے نہ صرف اپنے دوست انیل امبانی کو مالی فائدہ پہنچایا بلکہ خود اس کے عوض کمیشن کی بھاری رقم وصول کی۔
اقوام متحدہ کا اجلاس اور بھارت میں انتخابات ، ان دونوں اہم مواقعوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے بھارت نے امن مزاکرات کی بجائے محاذآرائی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں تین بی ایس ایف جوانوں کی کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں چند ماہ پہلے کی ہلاکت کو بہانہ بنایا ۔اس کے علاوہ برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ اجرا کے معاملے پر کہا کہ پاکستان نے برہان وانی کے ڈاک ٹکٹ سے دہشت گردوں کو جسٹیفائی کیا ہے۔دونوں ممالک کے موجودہ کشیدہ حالات کی اصل کہانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کونیویارک میں29 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس میں دنیا کو سنانی ہو گی۔پاکستان کے وزیر خارجہ کو اپنے خطاب میں نا صرف بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیوں کا جواب دینا ہے بلکہ کلبھوشن یادیو کی دہشتگردی کے ثبوت بھی پیش کرنے ہوں گے ۔ جنرل اسمبلی کیونکہ محدود پلیٹ فارم نہیں ہے لہذا، انڈیا کی بدمعاشیوں کے علاوہ انہیں اپنے خطاب میں نبی کریم حضرت محمد ﷺ سمیت تمام مقدس ہستیوں کی توہین اور گستاخانہ خاکوں کا راستہ روکنے کے لئے قانون سازی پر بھی زور دینا ہو گا۔پاکستانی قوم اس بار اقوام متحدہ کے اجلاس کے وزیر خارجہ کے خطاب میں بھی ’’تبدیلی‘‘ دیکھنا چاہتی ہے ۔ بھارت کی طرف سے سرجیکل سٹرائیک کو محض ایک گیڈر بھبھکی سمجھ کر نظر انداز کردینا مناسب نہیں۔کیونکہ اگرنریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بننے میں جو بھی مشکلات آئیں گی وہ اپنی سیاسی نااہلی سے عوامی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کی سرحدوں پر جنگی ماحول بنا سکتا ہے ،جو دوایٹمی طاقت والے ممالک کے لئے خطرے سے کم نہیں۔ایٹمی حملے کودائیاں گزرنے کے بعدجاپان میں آج بھی معزور بچے پیدا ہو رہے ہیں ۔ پاکستان اور انڈیا میں سے جو بھی ایٹمی حملہ کرے گاصدیوں کا درد دونوں ممالک کی عوام کا مقدر بن جائے گا ۔ بھارتی آرمی چیف کو سمجھناچاہیے کہ ایٹمی حملے سے ملنے والے عبرتناک درد کے جواب میں درد دینے والا کوئی نہیں بچے گا۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ