بریکنگ نیوز

آپ کا کیا خیال ہے

Aamir-Shahzad-aakas-akas-akaas.jpg

تحریر:عامر شہزاد
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام عالم کے سامنے نہایت موثر انداز سے پاکستان کے اندرونی اور بیرونی معاملات کو پیش کیا۔اردو میں کئے گئے خطاب میں انہوں نے اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کی اْس رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔انھوں نے امید ظاہر کی کہ انڈیا بھی اس کمیشن کے قیام کو تسلیم کرے گا۔ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ہے لیکن اگر انڈیا نے اسے عبور کرنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔انھوں نے انڈیا پر الزام لگایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ہونے والے بڑے دہشت گردی کے واقعات کے تانے بنانے انڈیا سے ملتے ہیں۔ پاکستان کی حراست میں انڈین نیوی کا اہلکار کلبھوشن جادھو بھی ہے جس نے ایسے شواہد فراہم کیے ہیں جس سے واضح ہے کہ انڈیا کا پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے ہاتھ ہے۔
وزیرخارجہ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کا مسئلہ بھی اٹھایا اور ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلے پر کہا کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں شدت پسندی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان اور پاکستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں اسلام آباد امن عمل کے لیے کابل میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔دوسری طرف انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سواراج نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف بھارتی حکومتوں نے امن کے لیے قدم اٹھائے لیکن ہر بار پاکستان کے رویے کی وجہ سے یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا۔ وزرائے خارجہ کی ملاقات کی منسوخی کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ ہمارا مغربی پڑوسی ملک نہ صرف دہشت گردی پھیلانے میں ماہر ہے بلکہ ساتھ میں خود کو بے قصور بھی ٹھیراتا ہے۔ سشما سواراج نے ایک دفعہ بھی کشمیر کا ذکر نہیں کیا ۔
1947سے دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری کے بھی مواقعے بھارت نے اپنی اندرونی سیاسی نالائقیوں سے گنوائے ۔امریکا کی بھارت کو تھپکی سے خطے میں بڑا بننے کے خواب کو پورا کرنے کے لئے اس نے پورے خطے کا امن غارت کررکھا ہے۔جس کی وجہ سے اقتصادی بحران کا سامنادونوں ممالک کو ہے ۔ گلوبل پیس انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق اقتصادی بحران نے دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ دْنیا کا سب سے پْرامن ملک ہے ۔نیوزی لینڈ کے بعد دوسرے نمبر پر آئس لینڈ جبکہ تیسری پوزیشن پر جاپان کو رکھا گیا ہے۔گلوبل پیس انڈیکس نے قیام امن سے متعلق دنیا کے 163ممالک کی درجہ بندی کی ہے۔ اس فہرست میں پہلے نمبر پر شام دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار پایا ہے۔دوسرا نمبر افغانستان ،تیسرا سوڈان کا ہے۔عالمی امن سے متعلق رپورٹ میں عراق بدترین ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے پانچویں نمبر پر یمن او ر چھٹے نمبر پر کانگو ہے ، روس کو دسویں نمبر پر رکھا گیا ہے جبکہ پاکستان تیرہویں نمبر پر ہے۔ شمالی کوریا چودہویں ،ترکی 15ویں ،اسرائیل 18، مصر 22،فلسطین 23اؤور بھارت 28ویں پوزیشن پر ہے۔
زمینی حقائق کے مطابق اگر دیکھا جائے تو دنیا کا پر امن ترین ملک نیوزی لینڈ دنیا کے آخری کونے میں واقع ہے ۔نیوزی لینڈ کا ہمسایہ ملک آسٹریلیا ہے ۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دو ایسے ملک ہیں جو تمام دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اپنے ہی حال میں مست ہیں، جبکہ پاکستان کو بھارت جیسے شاطرہمسائے کا سامنا ہے، جو پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف آدھے گھنٹے کا فرق ہے جبکہ نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا کے درمیان میلوں پھیلا سمندر ہے۔دنیا کے پر امن ترین ملک نیوزی لینڈ میں ساڑھے سات ہزار پاکستانی ہیں انہیں حلال گوشت بآسانی مل جاتا ہے، کیونکہ نیوزی لینڈ ہر سال ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کا حلال گوشت عرب ممالک کو سپلائی کرتا ہے ،جبکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں پاکستان سے زیادہ مسلمان آباد ہیں، بھارتی حکومت نے جن پر گائے ’’حلال‘‘ کرنے کی پانبدی لگا رکھی ہے۔گائے ذبح کرنے والا مسلمان اپنی گردن حکومتی غنڈوں کی چھری سے بچاتے چھپتے ہیں۔ باہمی مسائل ،تنازعات ،جنگ اور ایٹمی حملے بیانات کے باوجود تعلقات کی بہتری کی امیدیں لئے دونوں پڑوسی ممالک نے اپنااپنا دکھڑا اقوام عالم کے سامنے رکھا اور اس کے جلد حل کا مطالبہ بھی کیا حالانکہ ستر سال سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بحالی امن کا مسئلہ سلامتی کونسل کی فائلوں میں گل سڑ رہا ہے ۔
شاہ محمودقریشی نے اپنی تقریر میں سفارتی مہارت کا کتنا مظاہرہ کیا وہ اپناموقف دنیا تک پہنچانے میں کامیاب ہو ئے یا ناکام یہ جاننے کے لئے میڈیا پر بحث کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ مگر! اقوام متحدہ کے اجلاس ہی میں دوسری طرف پر امن ملک نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن تھیں جو اتنی پر سکون ،پر امن اور ہر پریشانی سے اتنی بے نیاز تھیں کہ وہ ساتھ اپنی تین ماہ کی بیٹی بھی ساتھ اجلاس میں لے آئیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جہاں تمام ممالک کی اعلیٰ شخصیات اہم موضوع پر تقاریر کر رہے تھے وہیں پہلی مرتبہ اسمبلی ہال ایک 3 ماہ کے بچے کی کلکاریوں سے بھی گونجتا رہا۔ یہ مسحور کن آوازیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی 3 ماہ کی بیٹی کی تھیں۔ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی بیٹی نیوی تے آروہ اجلاس کی کارروائی کے دوران اپنی معصوم حرکتوں سے شرکاء کو متوجہ کرتی رہی ۔جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس تاریخ ساز حیثیت اختیار کر گیا ہے کیوں کہ اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کسی 3 ماہ کے بچے نے جنرل اسمبلی ہال میں بیٹھ کر اجلاس کی کارروائی میں شرکت کی ہو۔ بچی کو کارڈ بھی جاری کیا تھا جس میں پیدائش کے بعد لی گئی پہلی تصویر چسپاں کی گئی تھی ۔ گلے میں ’یو این کارڈ‘ ڈالے بچی کو کبھی ماں سنبھالتی تو ماں کی تقریر کے دوران بچی باپ کی گود میں کھیلتی رہی۔اچھا پڑوسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔ ایک لمحے کے لئے مان لیں کہ نیوزی لینڈ کا پڑوسی آسٹریلیا کی جگہ بھارت ہے اور ان کی سرحدیں بھی ساتھ ساتھ ہیں تو اس صورت میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کی گود میں تین ماہ کی بیٹی ہوتی یا پریشانیوں ، اختلافات اور تحفظات کا پلندہ ہوتا۔آپ کا کیا خیال ہے؟۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ