بریکنگ نیوز

چین : اقتصادی ممکنہ خطرات کے کنٹرول کے لیے اعلی صلاحیتوں کا حامل

china-economic-growth.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ چین اور امریکہ کے مابین بڑھتی تجارتی محاز آرائی کے باعث چین کی اقتصادی گروتھ کے حوالے سے بہت سے شکوک اور خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ چین اور امریکہ کی بڑھتی تجارتی کشیدگی سے چین کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے ممکنہ ساختی تضادات سامنے آ سکتے ہیں۔ اس امر کی وضاحت اس حوالے سے کی جا سکتی ہے کہ کسی شخص کے بظاہر انفرادی جسمانی خدوخال اور علامات کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا کہ یہ مکمل صحتمند ہے، اسی طرح معیشت کے استحکام کو گروتھ ریٹ کے اضافے کیساتھ نہیں پرکھا جا سکتا اور حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ معیشت درست سمت میں گامزن اور مستحکم ہے۔ رواں مالی سال2018کی پہلی ششماہی میں چینی معیشت6.8فیصد کے تناسب سے بڑھ رہی ہے اس طرح سے گزشتہ بارہ سہ ماہیؤں میں چینی معیشت بالترتیب 6.8فیصد اور 6.9فیصد کے مابین رہی ہے۔ بنیادی طور پر چین کی یہ اقتصادی ترقی مجموعی طور پر80ٹریلین یوآن پر مبنی ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چینی معیشت کس قدر مستحکم انداز میں پروان چڑھ رہی ہے۔ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں چینی معیشت نے رواں سال کے لیے شہری سطع پر روزگار کے نئے مواقعوں کے حوالے سے قائم نوے فیصد اہداف حاصل کر لیئے ہیں ، دوسری جانب اسی مدت کے لیے صارفین کے لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ نوٹ کیا گیا۔ جبکہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شرح تین ٹریلین ڈالر سے زائد رہی ہے۔ دوسری جانب مجموعی طور پر بڑے اقتصادی اعشاریئے معقول رینج میں رہے ہیں جس سے ایک مثبت اقتصادی اعتماد کا تصور حاصل ہوتا ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہونے کے ناطے آج ایک نئی ڈیویلپمنٹ تاریخ کو رقم کر رہا ہے۔ چینی معیشت کا معیار، سٹرکچر اور اہلیت کے حوالے سے اگر موجود پھیلاؤ اور جسامت کے حوالے سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ چینی معیشت کس قدر موثر انداز میں گہرائی کیساتھ تمام مثبت عوامل کو یقینی بنا رہی ہے۔ رواں مالی سال کے آغاز سے چین انفرا سٹرکچر تعمیرات کے شعبے میں سست سرمایہ کاری کو نوٹ کیا اس طرح سے پہلے درجے کے شہروں میں گھروں کی قیمتوں میں سالانہ اعتبار سے ایک کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ لیکن دوسری جانب مینو فیکچرنگ اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہائی ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اعلی درجے کی جدید استطاعت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس شعبے میں موثر سپلائی میکنزیم سے اس کی استطاعت ایک تسلسل سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس طرح سے مارکیٹ میں طلب اور رسد دونوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔اور صارفین کے لیے ریٹیل سیل میں مسلسل اضافے کیساتھ سروسز کے شعبے میں بھی ایک بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، ان شعبوں میں بتدریج تعلیم، کھیل اور ثقافت کے شعبے شامل ہیں جو اس سے قبل اعدودشمار کے لیے منتخب نہیں کیئے جاتے تھے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں چینی اقتصادی گروتھ حتمی کھپت کے حوالے سے78.5فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ مجموعی گروتھ کے لیے مقامی اور گھریلو ڈیمانڈ کے استطاعت کے اضافے نے بھی ملکی گروتھ کے لیے ایک اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب ملک میں مڈل انکم کلاس میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس سے بھی قومی سطع پر مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اور مڈل انکم گروپس میں اضافے سے اقتصادی گروتھ ایک تسلسل سے آگے بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب ملکی معیشت میں جدت پسندی ایک تحریک کی صورت گروتھ کو آگے بڑھانے میں مدد گار ثابت ہو رہی ہے۔ ھالیہ اعدادوشمار کے مطابق چینی مارکیٹ سے متعلق اداروں کی تعداد 100ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور سائنسی جدت پسندی پر مبنی عوامل چینی معیشت کے لیے ایک نئی متحرک قوت کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس جدت پسندی کے باعث ملکی سرمایہ کاری کی شرح 2ٹریلن یوآن سے تجاوز کر چکی ہے۔ جس کی مدد سے آج چین دنیا میں جدید مصنوعات کی خریداری کے حوالے سے سب سے بڑی مارکیٹ کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔ یوں انٹرپرئنیرشپ اور جدت پسندی کے باہم عوامل سے چینی معیشت ایک جامع انداز میں گروتھ حاصل کر رہی ہے۔ اور اس تروتھ کو ایک تسلسل سے یقینی بنانے کے لیے یہ جدید ٹیکنالوجی ایک بونس پوئنیٹ کا کردار ادا کر رہی ہے۔ چین بہت سے اقتصادی عوامل اور تجربات کا حامل ملک ہے۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران چین نے بہتر اقتصادی اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالسیز کی بدولت ایشیا میں مالیاتی بحران سے متعلق چیلنجز کا نہ صرف بہتر انداز میں مقابلہ کیا بلکہ عالمی مالیاتی بحران کے حوالے سے بھی خود ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھا۔ اس کیساتھ ساتھ چین نے دیگر عالمی مالیاتی چیلنجز اور بحرانوں کا مستحکم انداز میں سامنا کیا۔ اور چین نے موثر انداز میں ان تمام خطرات کا مقابلہ کیا ہے اور بہتر تدبیری عوامل اور میکنزیم کے باعث چین نے نہ صرف ممکنہ خطرات سے خود کو محفوظ رکھا بلکہ اپنے اقتصادی گروتھ ریٹ کی شرح کو مسلسل اضافے کیساتھ برقرار رکھا ہے۔ اور کامیابی سے ان خطرات اور چیلنجز سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس ضمن میں پیپلز بینک آف چائینہ کے ایک حالیہ سروے کیمطابق انٹر پرائنیر اں دیکس اعتماد تیسری سہ ماہی کے دوران 71.1فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں 2.4فیصد کے اضافے کیساتھ مزید آگے بڑھا ہے۔ پیپلز بینک آف چائینہ کیمطابق چین کے شہری علاقوں میں صارفین کی قوتِ خرید میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے حوالے سے1.3فیصد کے تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے چینی مارکیٹ مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے جس سے چینی انٹر پرئنیرز خوش اور بہتر کاروباری ماحول کے حوالے سے بااعتماد ہیں جس سے ملکی معیشت پر بھی خاطر خواہ مثبت انداز مرتب ہونگے اور قومی شرحِ گروتھ ایک استحکام کیساتھ آگے بڑھ رہی ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ