بریکنگ نیوز

اینٹی گلوبلائزیشن مروجہ عالمی رجحانات کے منافی

933980-globaldiseaseburdenx-1505379131-819-640x480.jpg

(خصوصی رپورٹ):۔ مغربی دنیا میں 2008 کے مالی بحران کے بعد سے یکطرفہ انداز میں آزادانہ تجارت کے مخالفت میں تجارتی تحفظات اوراینٹی گلوبلائزیشن کے حامل رجحانات سامنے آنا شروع ہوئے جس کے باعث گزشتہ ایک عشرے میں عالمی معیشت بہت سے چیلنجز سے دوچار رہی ہے۔ بالخصوص گزشتہ ایک سال سے امریکی قیادت کی جانب سے عالمی سطع پر آزادانہ تجارت کے خلاف تجارتی تحفظات پر مبنی لائحہ عمل سامنے آر ہا ہے جس کی مدد سے عالمی سطع پر گلو بلائزیشن کی مخالفت میں بیانیے کو تقویت دینے کی ناکام سعی کی جا رہی ہے۔ اگر اگر18ویں صدی کے بعد سے عالمی معیشت کی ڈیویلپمنٹ کے عوامل کو دیکھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی معیشت کی بہتری سے ہی عالمی سطع پر خوشحالی کو یقینی بنایا گیا ہے جب کے عالمی معیشت اور گلوبلائزیشن کے تدارک کے لیے جب بھی کوشیشیں کی گئی ہیں یہ امر عالمی تنہائی کا سبب ہی بنا ہے۔ اس حوالے سے دنیا میں جو ملک بھی گلوبلائزیشن کے تدارک کے حوالے سے پالیسی میکنزیم کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور تجارتی تحفظات پر مبنی عوامل کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے ان عوامل کو اپنانے سے کبھی بھی کوئی مستقل فاہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کیونکہ اس سورتحال میں کوئی بھی ملک اس طرح کی پالیسز اپنانے سے کبھی بھی مستقل فاہدوں کو یقینی نہیں بنا سکتا۔ 1930کی دہائی میں امریکہ میں ہوور ایڈمنسٹریشن نے اسموٹ ہاؤلے پالیسز کو ترویج دینے کا اعلامیہ جاری کیا اور اس پالیسی کے تحت بیس ہزار سے زائد غیر ملکی درامد کردہ اشیاء پر اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی گئیں تاکہ امریکہ میں درامدی مصنوعات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور امریکی مصنوعات کو بزنس حاصل ہو سکیں ۔ لیکن اس وقت بھی امریکی انتظامیہ کی تمام تر سعی کے باوجود کسی قسم کے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکیں ۔ امریکہ کے تمام تجارتی شراکے داروں نے امریکی پالیسز کے تدارک کے طور پر ممکنہ ردعمل پر مبنی پالیسز اختیار کرنا شروع کر دیں جس سے امریکی برامدات میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح سے اس تحفظ پسندانہ پالیسی سے عالمی سطع پر اقتصادی بحران سامنے آنا شروع ہوگئے۔ آج موجودہ صورتحا ل یہ ہی ہے کہ امریکی قیادت دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود تجارتی محاز آرائی کی پالیسز کو فروغ دینے میں مگن ہے جس سے عالمی معیشت کی بحالی اور استحکام کے حوالے سے تمام تر سعی غیر یقینی صورتحال کو سامنے کرنے پر مجبور ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ(IMF)کی حالیہ جاری رپورٹ کے مطابق امریکہ کی جاری تجارتی کشیدگی کے باعث گزشتہ تین سالوں میں عالمی معیشت کی گروتھ کی شرح میں اعشاریہ پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اور عالمی سطع پر اس حوالے سے 430بلین ڈالر کا نقسان ہو چکا ہے۔ امریکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی معیشت کا سب سے بڑا لیڈر رہا ہے اور عالمی سطع پر آزادانہ تجارت کے حوالے سے سب سے زیادہ مالی فوائد بھی امریکہ اٹھاتا رہا ہے۔ لیکن آج امریکہ آزادانہ تجارت اور عالمی معیشت کے قواعدو ضوابط کا اپنے مقامی تضادات کیوجہ سے سب سے بڑا ناقد بن چکا ہے اور آج امریکی انتطامیہ کو کسی صورت گوارا نہیں ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک اسٹریٹیجک فوائد حاصل کر سکیں ۔ مغربی دنیا میں امریکہ نے سے آخر میں سوشل سیکوریٹی نظام کی بنیاد رکھی، اس طرح سے امریکہ نے سرمائے کو اہمیت دیتے ہوئے اور انہی عوامل کی وجہ سے امریکہ نے بہت سی سماجی بیماریوں بشمول سماجی ناانصافیوں اور زرایع آمدن کی ن مساوی تقسیم کے حوالے سے سنگین عوامل سامنے آئے۔ گزشتہ ایک عشرے میں امریکہ میں سماجی ناانصافی کے سنگین عوامل کو ریکارڈ اور دیکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے حالیہ چند سالوں میں یہ امر بھی دیکھا گیا ہے کہ بیشتر مغربی ممالک میں انتہائی امیر خاندانوں نے ملکی قومی دولت کا بیس فیصد سے زائد تک پر قابض رہے جس کی شرح1978میں صرف 9 فیصد تک محدود تھی۔ دریں اثناء امریکہ کےء صرف دس فیصد خاندان امریکہ کی ایک چوتھائی دولت پر قابض ہیں جبکہ دوسری جانب ہزاروں غریب خاندان ملکی دولت کی صرف ایک فیصد تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔2017میں افریقی امریکن اور لاطینی امریکنز کے مجموعی اثاثوں کی شرح10.09فیصد اور 12.11فٰصد ریکاڑڈ کی گئی اس طرح سے دولت کا تفاوت اور سماجی ناانصافی ہمیشہ سے اقتصادی خوشحالی کے بنیادی عوامل رہے ہیں لیکن کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں ان عوامل کی اصلیت سب پر عیاں ہوجاتی ہیں ، جس کی واضح مثال 2008کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد Occupy Wall Streetمہم کا آغاز کیا گیا جس کا بنیادی مقصد اقتصادی نا انصافی کے خلاف تھا۔ ان تمام عوامل کے باوجود امریکہ میں انکم تفاوت میں پھر بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جس کے باعث سماجی نا ہمواریوں میں بھی تیزی سے تفاوت بڑھا جس سے کم آمدنی اور مڈل کلاس آمدنی والوں لوگوں میں تیزی سے بد اعتمادی نے جنم لیا۔ دوسری جانب امریکہ میں مقامی تضادات کیوجہ سے بھی امریکہ تیزی سے عالمی سطع پر خود کو اجاگر کرنے کے لیے بدمعاشی کے نت نئے طریقے اختیار کرنے لگا اور مختلف ممالک پر مختلف الزامات عائد کر کے دنیا بھر میں تجارتی تنازعات کو بڑھاوا دیا۔ اس طرح کے عوامل سے امریکہ اپنے اجارادرانہ سرمائے کا تحفظ کرنا چاہتا ہے اور اپنی عوام کی توجہ دیگر امور کی جانب گامزن رکھنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب حالیہ چند سالوں میں جس طرح سے ترقی پزیر ممالک نے جس تیزی سے اقتسادی نمو کو بڑھایا ہے اس کے برعکس عالمی معیشت میں امریکی کردار پستی کی جانب گامزن ہے۔ 1960کی دہائی میں عالمی معیشت میں امریکہ کا تناسب چالیس فیصد تک تھا۔ جو2016میں کم ہو کر چوبیس فیصد سے بھی کم ہو رہا ہے جبکہ اس وقت میں ابھرتی مارکیٹس کی شرح عالمی GDPکے 38فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ بیشتر ابھرتی مارکیٹس اور ترقی پزیر ممالک مینو فیکچرنگ کے شعبوں میں چھوٹے اور میڈیم سائز کے حوالے سے اہم عوامل حاصل کر رہے ہیں اور یوں عالمی معیشت میں کم لاگت کی حامل مصنوعات متعاورف کروا رہے ہیں ۔ جس سے علامی معیشت تیزی سے خوشحالی کی جانب گامزن ہو رہی ہے۔ اور ایک کثیر آبادی کے معیارِ زندگی میں بہتری آ رہی ہے۔ دوسری جانب امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک نے عالمی معیشت کے پھیلاؤ سے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور معاشی گلوبلائزیشن کے حوالے سے ان ممالک نے سب سے زیادہ فائدہ سمیٹا ہے اور آج بھی فی کس GDP کے حوالے سے یہ ممالک عالمی سطع پر سرِ فہرست ہیں ، امریکہ میں ایسی بھی زہنیت موجود ہے جو سمجھتی ہے کہ دوسروں کی ترقی سے وہ پیچھے رہ جائیں گے اور درامدی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہی عوامل ہیں ۔ اس ضمن میں امریکہ نے ہمیشہ ایسے ممالک پر کڑی پابندیاں لگائی ہیں جو ترقی کی رفتار میں اس سے آگے نکلتے ہیں اس حوالے سے امریکہ نے ماضی میں روس اور جاپان کو نشانہ بنایا ہے اور آج چین کو نشانہ بنایا ہے۔اس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کے لیے عالمی قونین کی پامالی کی اور عالمی اقتصادی قوانین اور اصول ضوابط کی خلاف ورزی کی۔ لیکن رواں صدی میں اگر امریکہ ماضی کی پالیسز کو ایک بار پھر سے دہرائے گا اس سے امریکہ کو نقصانات کا سامنا کرنا ہوگا، اس ضمن میں امریکی قیادت کو قدیمی نو آبادیاتی زہنیت، سرد جنگ جیسے عوامل سے باہر نکل کر حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ