بریکنگ نیوز

چین کی پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو: دنیا کو اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز سے استعفادہ کرنا چاہیے

54040.jpg

چین کی پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو: دنیا کو اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز سے استعفادہ کرنا چاہیے۔

(خصوصی رپورٹ):۔ چین کی مرکزی حکومت ملک میں اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز کے تسلسل کے حوالے سے 40سال مکمل ہونے پر چین ملکی تاریخ میں پہلی بین الاقوامی امپورٹ نمائش کا انعقاد رواں ہفتے کرنے جا رہا ہے، چین کی جانبسے پہلی بین الاقوامی درامدی نمائش منعقد کر نے کا بنیادی مقصد دنیا کو مارکیٹ کشادگی سے متعلق عوامل اور فوائد سے آگاہ کرنا اور عالمی تجارت اور عالمی تعاون کے حوالے سے معاہدات کو اجاگر کرنے سے متعلق ہے۔ اس عالمی نمائش کے انعقاد سے جہاں بین الاقوامی سطع پر ڈیویلپمنٹ کے نئے مواقع پیدا ہونگے وہیں عالمی معیشت کے استحکام کے حوالے سے نئے محرکات اور عوامل بھی پیدا ہونگے۔ پہلی چین بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو چین کے شہر بیجنگ میں نومبر 5-10کے مابین منعقد ہو رہی ہے جس میں چینی صدر شی جنپگ تمام تر سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیں گے۔ یہ کانفرنس اس حوالے سے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا میں اس پیمانے پر پہلی بار درامدی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس سے اس امر کی غماضی ہوتی ہے کہ چین عالمی سطع پر تجارت، تعاون کے حوالے سے کس قدر سنجیدہ ہے اور چینی مارکیٹ کی کشادگی پر کس قدر اہمیت دیتا ہے، اس طرح سے چین پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے اور دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے اس ایکسپو کے حوالے سے چین کو بھر پور پزیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے 150ممالک کے سربراہان، بزنس لیڈرز، سیاسی اور کاروباری مندوبین اس نمائش میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر چین پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق دنیا کے 82ممالک اور71بین الاقوامی تجارتی تنظیموں کی جانب سے اس کانفرنس میں شرکت اور ملکی پویلین میں اپنے اپنے ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے بوتھ قائم کرنا شروع کر دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح 130ممالک کی 3000سے زائد بینالاقوامی کمپنیز نے بزنس ایکسپو میں شرکت کے حوالے سے بھرپور رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔مزید براںدنیا بھر کے130ممالک کے اعلی سطعی مندوبین اور وفود خصوصی طور پر اس عالمی امپورٹ نمائش کے حوالے سے منعقدہ ہونگ کیائو بینالاقوامی ٹریڈ فورم میں شرکت کے لیے چین پہنچ رہے ہیں ، ان عوامل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو کے حوالے سے عالمی سطع پر چین کی مارکیٹ کی کس قدر اہمیت کی حامل ہے اور چینی مارکیٹ سے استعفادہ حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی تنظیمیں چین کی مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مواقعوں سے فاہدہ اٹھانے کے لیے کس قدر پر عزم ہیں ۔ چین کی مارکیٹ اپنی جسامت اور کھپت کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کا درجہ رکھتی جو فی الوقت ایک ارب اور تیس کروڑ نفوس پر مبنی آبادی رکھتی ہے اور اس طرح سے اگر چین اس مارکیٹ کو بیرونی دنیا پر کھولتا ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیرونی دنیا کی بین الاقوامی تنظیمیں اس مارکیٹ سے استعفادہ حاصل کرنے کے لیے کس قدر کوشاں ہونگی۔ تجارتی تحفظات اور گلوبلائزیشن کے خلاف عالمی سطع پر جو پراپیگنڈہ مغربی دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے ان عوامل کے برعکس چین عالمی تجارت کے استحکام اور فروغ کے حوالے سے اپنی مارکیٹ کو بیرونی دنیا پر کشادہ کرر ہا ہے اور بیرونی دنیا کیساتھ باہمی مفادات اور باہمی اور دو طرفہ تعلقات کے فروغ کو یقینی بنانے کے لیے چین پر عزم طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔اس تناظر میں دنیا چین کی پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو کو چین کی مرکزی حکومت کی جانب سے کشادگی پر مبنی پالیسز کے تسلسل کے لیے ایک پر عزم اور جدید شروعات سے تعبیر کر رہی ہیں۔ چین ایک کثیر آبادی اور صنعتی ترقی کے باعث آج دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ کا درجہ رکھتی ہے۔ چین کا درامدات سے متعلق مجموعی حجم عالمی حجم کا دس فیصد ہے اور گزشتہ 9سالوں سے چین مسلسل دنیا کا دوسرا برا درامد کنندہ بڑا ملک ہے، اس حوالے سے ایک محتاط اندازے کے مطابق آئیندہ پندرہ سالوں میں چین دنیا بھر سے24ٹریلین ڈالر مالیت کی مصنوعات درامد کریگا، اس ضمن میں چین کی جانب سے منعقدہ پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو اس حوالے سے اہم ترین ڈیویلپمنٹ ہے تاکہ بیرونی دنیا اور بین الاقوامی تنظیمیں چینی مارکیٹ سے بھر پور انداز میں استعفادہ حاصل کر سکیں اور چین انٹر پرائسز اور عوام بیرونی دنیا کے ساتھ باہمی تعاون اور تجارتی تعلقات اور معاہدات کو آگے بڑھا سکیں ۔آج مغربی دنیا کے پھیلائے گئے پراپیگنڈہ کے سبب عالمی معیشت اور عالمی تجارت غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے جس کی بنیادی وجہ تجارتی تحفظات اور اینٹی گلوبلائزیشن مہمات ہیں۔ اس تناظر میں تمام غیر ترقی یافتہ ممالک عالمی سطع پر تجارتی تحفظات پر مبنی پالیسز کی وجہ سے جن بنیادی چیلنجز سے دوچار ہیں ان میں بین الاقوامی سطع غیر مساوی لیبر کی تقسیم، برامدی محرکات پر مبنی ٹریڈ پالیسز، اور صنعتی اور اربنائزیشن سے متعلق تیزی سے پھیلتے محرکات شامل ہیں۔ چائینہ فرسٹ انٹر نیشنل ایکسپورٹ نمائش کے حوالے سے جن انٹر پرائسز نے پہلی مرتبہ شرکت کے حوالے سے رجسٹریشن کروائی ہے، ان انٹر پرائسز میں سے34غیر ترقی یافتہ ممالک سے ہیں ، جبکہ 34کمپنیز بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے منسلک ممالک سے ہیں جبکہ 10کمپنیز انتہائی غیر ترقی پزیر ممالک میں سے ہیں، اس طرح سے اس ایکسپو میں شریک کمپنیز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ایکسپو دنیا میں کس قدر اہمیت کی حامل ہے، تجارتی تحفظات پر مبنی پالیسز کے برعکس چین نے ایک کشادگی پر مبنی اوپن مارکیٹ کی اہمیت کو دنیا پر اجاگر کیا ہے کیونکہ چین کی نظر میں یہ ہی وہ سمت ہے جس پر کاربند رہتے ہوئے عالمی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہو سکتی ہے، اس ضمن میں ایک امریکی اقتصادی اسکالر کا کہنا ہے کہ چین بیرونی دنیا کے ممالک کے باہمی تجارت کے فروغ کی جانب لیکر بڑھ رہا ہے، تاکہ تمام ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فاہدہ اٹھا سکیں اور ایک دوسرے پر مارکیٹ کھول کر تمام ممالک معاشی گلوبلائزئشن کو یقینی بنائیں اور ایک اوپن معیشت کو یقینی بنا تے ہوئے سب باہمی اور دو طرفہ مفادات کا تحفظ کریں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ