بریکنگ نیوز

چین کی اوپن (کھلی) معیشت عالمی سطع پر انتہائی اہمیت کی حامل ہے

1528769505661.jpg

(خصوصی رپورٹ)؛۔ چین کی وزارتِ کامرس کے مطابق امریکہ کی سینکڑوں بین الاقوامی کمپنیز چین میں منعقدہ پہلی چین انٹر نیشنل امپورٹ ایکسپو میں شرکت کے حوالے سے بہت پر عزم ہیں ، رواں مہینے نومبر کے پہلے عشرے نومبر5-10کے مابین اس بینالاقوامی امپورٹ ایکسپو کا انعقاد شنگھاہی میں نیشنل ایگزیبیشن اینڈ کنونشن سنٹر میں کیا جا رہا ہے۔ چین کی وزارتِ کامرس کے ترجمان گائو فینگ نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی سرکردہ بین الالقوامی کمپہنیز چین میں منعقدہ پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو میں شرکت کے حوالے سے بہت پر عزم ہیں جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے چین کی جانب سر مہری کے باعث اس ایکسپو میں ملکی پویلین میں امریکی بوتھ قائم نہیں کیا جا رہا ہے۔ ایکسپو کی تیاریوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چینی وزارتِ کامرس کے ترجمان گائو فینگ نے کہا کہ پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو کے انعقاد کے حوالے سے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ، انہوں نے بتایا ہے کہ امریکہ کی 180بین الاقوامی کمپنیز کی جانب سے اس ایکسپو میں شرکت کے حوالے سے رجسٹریشن کروائی گئی ہے انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی کمپنیز کی جانب سے ایکسپو میں شرکت کے حوالے سے بہت عزم دکھائی دے رہا ہے۔ اس انٹر نیشنل درامدی نمائش کے حوالے سے منعقدہ بزنس فورم کے انعقاد کے حوالے سے بیشتر امریکی کمپنیز ہائی ٹیکنالوجی مینو فیکچرنگ سے متعلق مصنوعات، زرعی پروڈکٹس، کلچر اینڈ سپورٹس اور مصنوئی زہانت سے متعلق پراڈکٹس شامل ہیں۔ گائو نے مزید کہا کہ امریکہ کی سر کردہ پانچ سوکمپنیزمیں سے نمایاں کمپنیزاس ایکسپو میں خصوصی طور پر شرکت کر رہی ہیں۔ چین کی پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپوکے حوالے سے امریکی انٹر پرائسز بہتپر عزم ہیں اور اس ایکسپو میں شرکت اور چین کے ڈیویلپمنٹ سیکٹر کے ساتھ باہمی تعاون اور تجارتی تعلقات کے لیے بہت پر امید ہیں۔ اس ضمن میں امریکی انٹر پراسئز اس پلیٹ فارم سے بھر پور استعفادہ حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔ دوسری جانب دنیا بھر سے بیشتر ایسے ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک جو چین کیساتھ اقتصادی اور تجارتی روابط کو مربوط کرنے کے خواہشمند ہیں وہ اس ایکسپو کو ایک بہترین پلیٹ فارم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس ضمن میں بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو بہت سی روسی کمپنیز کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا جو بیرونی دنیا کیساتھ اپنی پراڈکٹس کی تجارت کے خواہشمند ہیں اور بیرونی دنیا کے ممالک کیساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو بڑھانے کے لیے سنجیدہ ہیں ۔ اس حوالے سے شنگھائی ایکیڈیمی آف ساائسز کے ادارہِ برائے عالمی میعشت کے ریسرچرژائو یو نے کہا کہ چین حالیہ چند سالوں میں دو طرفہ تجارت، جس میں علاقائی سطع اور ریجنل سطع پر باہمی اور دو طرفہ اقتصادی فوائد کے حوالے سے اہم پیش رفت حاصل کی ہے اور یہ تمام تر اہم ترین اہداف چین کی پالیسز برائے کشادگی اور کھلی معیشت سے ہی حاصل کی گئی ہیں۔ اور ان پالیسز کی بدولت بیرونی ممالک بھی بھر پور استعفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ چین ایک طویل عرصے سے برامدات پر مبنی پالیسز کے تسلسل کو یقینی بنائے ہوئے ہے لیکن حال ہی میں چین نے اقتصادی ڈھانچے کی بہتری کیساتھ اپنی مقامی کھپت میں تیزی سے اضافہ یقینی بنایا ہے اور ایکسپورٹس میں اضافے کیساتھ چینی معیشت تیزی سے اپ گریڈ ہو رہی ہے۔ اور ایسے مواقع سے غیر ملکی کمپنیز بھر پور استعفادہ حاصل کرتی ہیں اور اس حوالے سے پہلی بین الاقوامی ایکسپو کا انعقاد ایسے مواقعوں سے فاہدہ اٹھانا کا بہترین موقع ثابت ہوگا۔ اقوامِ متحدہ کے زیرِ سرکردگیGlobal Investment Trend Monitorکے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں عالمی سطع پر غیر ملکی ڈائریکٹ سرمایہ کاری کی شرح میں اکتالیس درجے کمی واقع ہوئی ہے، لیکن اس عرصے کے دوران براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک آئیدڈیل منزل ہونے کی حیثیت سے چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ضمن میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جس سے اس امر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار چین میں موجود سرمایہ کاری ماحول سے مانوس ہیں اور چین میں اعتماد کیساتھ سرمایہ کاری کو اہمیت دیتے ہیں۔ چین نے گزشتہ چار دہائیوں میں بہتر اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز کے باعث عالمی سطع پر معاشی استعکام اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک کلیدی اہمیت حاصل کی ہے۔ اس طرح سے چین نے بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مارکیٹ پوٹینشل میں نہ صرف اضافہ کیا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر ضروری رکاوٹوں کا خاتمہ یقینی بنایا ہے تاکہ سرمایہ کار قانونی موشگافیوں میں الجھ نہ سکیں ، دوسری جانب چین نے اوپننگ اپ اور مارکیٹ کشادگی سے بیرونی سرمایہ کاروں کو ایک پر اعتماد ماحول فراہم کیا ہے، اس طرح مستبقل میں امید کی جا سکتی ہے کہ چین مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولتیں فراہم کریگا اور عالمی معیشت کے استحکام کیساتھ ساتھ سرمایہ کاری ماحول اور اعتماد میں بھی اضافہ کریگا۔ یوں آئیندہ سالوں میں چین عالمی سطع پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین اور پر اعتماد منزل کا درجہ برقرار رکھے گا۔ اور کم لاگت کیساتھ غیر ملکی کمپنیز چین میں سرمایہ کاری سے بہترین نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گیں۔ یہ غیر ملکی کمپنیز کم لاگت کے باعث اپنی پراڈکٹس کو چین میں تیار کریں گی اور یہاں سے دنیا بھر میں ایکسپورٹ کر سکیں گی اور درمیانی تجارت کا ایک نیا راستہ حاصل ہوگا جس سے طرفین بھر پور فائدہ اور تجارتی فوائد حاصل کر سکیں گے۔ آج جبکہ چین اپنی درامدی کھپت میں تیزی سے اضافہ کرتے ہوئے اپنی مارکیٹ کو بیرونی دنیا کے لیئے کشادہ کر رہا ہے جس سے تجارت اور فنانس کے شعبے تیزی سے پروان حاصل کر رہے ہیں جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری تیزی سے چین کا رخ کر رہی ہے جس سے چین کی مارکیٹ تیزی سے مزید مستحکم ہو رہی ہے اور اس استحکام کے قدرتی طور پر عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات اثر انداز ہونگے۔۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ