بریکنگ نیوز

چین میں منعقدہ امپورٹ ایکسپو سے عالمی معیشت کو ایک مستحکم پلیٹ فارم

5bc6f476a310eff369015468.jpeg

(خصوصی رپورٹ):۔ پہلی چین انٹر نیشنل درامدی نمائش کا انعقاد نومبر5-10کے مابین چین کے شہر شنگھاہی میں کیا جا رہا ہے اس عالمی نمائش کا بنیادی مقصد عالمی معیشت کے استحکام اور مضبوطی کے حوالے سے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جبکہ عالمی سطع پر بالخصوص مغربی سامراج کی جانب سے آذادانہ تجارت کی مخالفت میں اور تجارتی تحفظات اور اینٹی گلوبلائزیشن کے حوالے سے مہمات کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ چین کی پہلی با ضابطہ عالمی امپورٹ ایکسپو اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک چین کی کھلی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر نا چاہتے ہیں اور عالمی تجارت کے استحکام اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے چینی اصلاحات اور پالیسز سے مستفید ہونے کے حوالے سے دنیا بھر کی کمپنیز اور معاشی قوتیں اس ایکسپو میں شرکت کے حوالے سے بہت پر عزم ہیں ۔ رواں ہفتے سے جاری پہلی چین بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو میں دنیا بھر کے 130ممالک سے تعلق رکھنے والے150,000خریدار کمپنیز اور2800بڑی انٹر پرائسز دنیا بھر سے خصوصی طور پر اس ایکسپو میں شرکت کے لیے چین پہنچ چکی ہیں دوسری جانب عالمی تنظیمیوں بشمول عالمی تجارتی تنظیم(WTO)اورUNIDOیونائیٹیڈ نیشینز ٰنڈسٹریل ڈیویلپمنٹ آر گنائزیشن کے تعاون سے پر ملک کے قومی پویلینز، کمپنیز کے اسٹالز اور عالمی تجارتی فورمز اس ایکسپو میں خصوصی طور پر منعقد کیئے جا ائیں گے جن میں خصوصی طور پر دنیا بھر کی تنظیموں اور ممالک کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں اس طرح سے چائینہ انٹر نیشنل امپورٹ ایکسپو (CIIE)نہ صرف اپنے مقاصد کے حوالے سے ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم ہے برائے تجارت بلکہ ہر ملک کے لیے اپنے قومی تشخص کو دنیا بھر کے سامنے پیش کرنے کے حوالے سے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں پر دنیا کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے عالمی سطع پر ڈائیلاگ ہونگے۔ اس طرح سے یہ ایکسپو عالمی سطع پر باہمی اور دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے ایک جامع عوامی پلیٹ فارم کی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری جانب چین کی جانب سے منعقدہ پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو جہاں عالمی تجارت کے فروغ ، ڈیویلپمنٹ اور استحکام کے حوالے سے ایک کلیدی اہمیت اختیار کو چکا ہے وہیں چین کی جانب سے ایک اہم ترین سنگِ میل بھی ہے جہاں چین اپنی مارکیٹ کودنیا بھر کے سامنے باہمی اور دو طرفہ تجارت کے لیے پیش کر رہا ہیس اور دنیا میں آزادانہ تجارت اور اقتصادی گلو بلائزیشن کے لیے ایک نئے عزم کا اظہار کر رہا ہے۔ آج چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی قوت ہے اور عالمی سطع پر تجارت، معیشت اور امن کے حوالے سے چین بہتر اور زمہ درانہ انداز میں عالمی کمپیونٹی کے لیے سنجیدگی سے کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ چار عشروں کے دوران جب سے چین نے عالمی معیشت میں شمولیت اختیار کی ہے چین اور قومی اور عالمی سطع پر اہم ترین اہداف حاصل کیئے ہیں اور اس ضمن میں چین نے بیرونی قوتوں کے مقاصد کے برعکس ہمیشہ دو طرفہ مفادات کو یقینی بنایا ہے اور آج چین دنیا بھر کے ممالک کو اپنی ڈیویلپمنٹ کے سفر میں شریک کرنے کے حوالے سے سنجیدہ کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ بیرونی دنیا بھی چین کے تجربات اور وسائل سے فاہدہ اٹھا سکیں اور چین عالمی معیشت اور عالمی ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے اپنا زمہ درانہ کردار ادا کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ اس ضمن میں چین کی پہلی بین الاقوامی امپورٹ ایکسپو دنیا کے ترقی پزیر ممالک کے لیے ایک پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جہاں سے وہ عالمی تجارتی سپلائی نیٹ ورک کا ایک فعال حصہ بن سکیں اور چین کے درامدی پھیلائو سے اس نیٹ ورک میں ایک فعال انداز میں شمولیت اختیار کر سکیں ، اس طرح سے قوی امید ہے کہ اس ایکسپو کے انعقاد سے چین کی کھلی تجارت عالمی سطع پر ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر لے گی اور عالمی معیشت میں چین کا کردار مزید اہمیت حاصل کر نے میں کامیاب ہوگا۔ ایک کھلی اور روشن پالیسی مزید وسعت کا باعث ہوتی ہے جبکہ تحفظات پر مبنی پالیسز دنیا میں علیحدگی کا باعث بنتی ہے۔ اور جس طرح سے چینی صدر شی جنپگ نے گزشتہ سال2017میں عالمی اقتصادی فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس طرح سے مختلف ندی نالوں نہروں اور دریائوں سے گزرتے ہوئے پانی جب ایک بار سمندر کا حصہ بن جاتا ہے اور پھر واپس اس پانی کو ان دور افتادہ جھیلوں اور ندیوں میں واپس نہیں دھکیلا جا سکتا اسی طرح عالمی تجارت کے موجودہ رجحانات آزادانہ عالمی تجارت کو مقید نہیں کر سکتے۔ اور یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث چین نے خود کو اصلاحات اور اوپن پالیسز کی مدد سے عالمی سطع پرخود کو ایک زمہ درانہ کردار کے لیے تیار کر لیا ہے۔ اور آج چین دنیا میں آزادانہ تجارت اور اقتصادی گلوبلائیزیشن کا سب سے بڑا حمائیتی بن کر آگے آ یا ہے۔ چین نے جس طرح سے عالمی سطع پر آزادانہ تجارت کی ترویج کے لیے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کا آغاز کیا اور موجودہایکسپو کا انعقاد کیا ہے ان عوامل کی وجہ سے آج دنیا بھر میں چین کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے اور آج دنیا بھر کے ممالک کی خواہش ہے کہ وہ چین کے ترقیاتی اور ڈیویلپمنٹ ماڈل کا حصہ بنیں ۔ عالمی سطع پر موجود چیلنجز کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی آج دنیا میں اس نہج تک پہنچ چکی ہے جہاں سائنسی ترقی اور صنعتی انقلاب جہاں ایک نئے انقلاب کا شاخسانہ ہے وہیں یہ عوامل دنیا کو علاقائی تنازعات، ماحولیاتی تبدیلیوں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے باعث دنیا کو نئے خطرات سے دوچار بھی کر سکتی ہیں ۔اور انہی عوامل کے دیکھتے ہئوے کچھ ممالک یکطرفہ انداز میں تحفظ پسندانہ عوامل اور پالیسز کی جانب بڑھ رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک باہمی مفادات اور دو طرفہ تعلقات کی بناء پر ایک مشترکہ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں ۔ ان چیلنجز اور خطرات کے مدنظر چین دنیا کی عوامی فلاح کیلئے پر عزم ہے اور دنیا کی مشترکہ ڈیویلپمنٹ کے لیے پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے اور بیرونی دنیا کی توقعات کو دیکھتے ہوئے پر اعتماد اور روشن خیالی کی ایک حقیقی تصویر کشی کیلئے پر عزم ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ