بریکنگ نیوز

علم و حکمت کا صحیع استعمال

IMG_20181111_231504.jpg

حکمت۔ از : راجہ افضال سلیم
حکمت
میرے استاد متحرم نے مجھے جملہ تحریر کروایا جو کسی اہم شخصیت کا قول تھا
” معلوم کا ہونا علم ہے اور اس علم کو کہاں پر، کیسے اور کس طرح بیان کرنا ہے یہ حکمت ہے اور علم بغیر حکمت کے بے کار ہے۔
انھوں نے مجھے بتایا کہ زندگی کے کسی بھی موقع پر حکمت کو ہاتھ سے جانے نہ دینا، کوشش کرنا ہر معاملے میں حکمت اختیار کرنا کہ وہ موقع اس علم کو بیان کرنے کا ہے یا نہیں اور جن کے سامنے بات بیان کی جاری ہے وہ اس اہل ہیں کہ اس بات کو سمجھ سکتے بھی یا ان میں سمجھنے کی اہلیت ہی نہیں ، وہ سن کر اس کو نیا رخ دے سکتے ہیں جو بولنے والے کا مقصد ہی نہیں اور سب سے اہم بات کہ اس بات کو کس طرح بیان کر رہے ہو ۔ مثال کے طور پر آپ ایک شخص کو یہ کہتے ہیں تمھارے باپ نے یہ کہا اور دوسری دفعہ اس کو کہتے ہیں آپ کے والدبزگوار نے یہ فرمایا۔ پہلے دفعہ آپکا جملہ سن کے وہ ناراض ہوگا ہوسکتا لڑنے کے لیے تیار ہوجائے اور دوسرا جملہ سن کر اس کو خوشی ہوگی اور آپکے اخلاق اور الفاظ سے متاثر ہوگا۔دونوں دفعہ بات ایک ہی ہے اس کے معنی اور مفہوم بھی ایک ہی ہے مگر فرق صرف بیان کرنے کا ہےاور یہی حکمت ہے۔
اپنے استاد کو سیکھایا ہوا یہ جملہ میرے لیے بہت کارآمد ثابت
ہوا اور بہت سے مشکل مقامات پر میرے کام بھی آیا۔بعد میں جب بھی میں نے نقصان اٹھایا تو اپنے جذباتی پن کی وجہ سے، جذبات میں آکر جب بھی کوئی فیصلہ کیا یا قدم اٹھایا نقصان ہوا مگر جب بھی حکمت کے اس اصول کو مدنظر رکھ کوئی بات یا فیصلہ کیا تو مجھے بعد میں اس بات پر افسوس نہیں ہوا۔
ملک کی موجودہ صورتحال دیکھ کر مجھے اپنے استاد کی وہ بات یاد آگئی کاش ہمارے جج صاحبان یہ فیصلہ دیتے وقت حکمت کے اس اصول کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتے تو شاید موجودہ ملکی حالات اس سے یکسر مختلف ہوتے۔ شاید کچھ لوگوں کی زہن میں یہ سطریں پڑھ کر یہ سوال ابھرا ہوگاکہ انصاف اور حکمت کا کیا تعلق ہے۔ انصاف میں فیصلے واضح ہوتے ہیں ان میں کچھ ابہام نہیں رکھا جاتا جس طرح دو اور دو چار ہوتے ہیں پانچ نہیں ہوسکتے اسی طرح اس فیصلے میں اس بات کا تعین کرنا تھا کہ آسیہ بی بی نے گستاخی کی ہے یا نہیں کی اور معزز جج صاحبان نے اس کا فیصلہ کردیا کہ یہ بات ثابت نہیں ہوتی اس لیے اس کو بری کیا جاتا ہے۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ انسان کو اپنے مذہب سے بہت لگاؤ ہوتا اس معاملے میں وہ بہت جذباتی ہوتا چاہے اس کا تعلوق کسی بھی مزہب سے کیوں نہ ہواپنے مذہب اور عقیدے سے وہ جان سے زیادہ پیار کرتا ہے اور اس کے لیے جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتا
اسی طرح پاکستان کے مسلمان بھی اپنے مذہب اور عقیدے کے معاملے میں بہت جذباتی ہیں اور حضوراکرم کے لیے اپنی جان دینا بھی فخر سمجھتے ہیں تو کوئی ان کے ملک میں رہ کر آپ کے شان میں گستاخی کرے یہ وہ کس طرح برداشت کرسکتے ہیں اور یہی صورتحال اس مقدمہ میں بھی تھی۔ اس سے قبل تین جانیں اس وجہ سے جاچکی تھیں اور ملک کا اربوں کا نقصان ہنگاموں اور احتجاج کے باعث ہوا اور نظام زندگی کئی دن تک معطل رہا۔ 80 سے 90 فیصد عام شہری جو مسلمان بھی ہے اس مقدمہ کے اصل حقائق کا علم ہی نہ ہے اس کو صرف اتنا پتا ہے کہ علماء کرام جن کو وہ دین کے شعبے میں ماہر سمجھتا ہے اور ایک اتھارٹی کی حیثیت دیتا ہے انھوں نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی نے گستاخی کی ہے اور وہ مجرمہ ہے اس سے زیادہ تو عام پاکستانی شہری کو علم ہی نہیں ۔
اب ایک ایسے ملک میں جو اسلامی ریاست ہے آئین کے اندر مذہب کو اتنی اہمیت دی گئی ہے وہاں کے مسلمان شہری اپنے عقیدے اور مذہب کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوں وہاں اس مقدمہ میں توہین رسالت کی ملزمہ جس کو پہلے دو عدالتوں سے سزا ہوچکی اس کو بالکل بری کردینا حکمت کے خلاف ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اگر حقائق و واقعات اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اس نے توہین رسالت نہیں کی تو اس کو سزائے موت دے دیں ۔ ملک میں فسادات کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس کو کوئی تھوڑی سزا دے دیتے یا وقتی طور پر فیصلہ ہی نہ دیا جاتا۔کیا فسادات کو ہوا دینا ضروری تھا۔ اسلام تو ایسے جھوٹ کی اجازت بھی دیتا ہے جس سے فتنہ فساد رک سکے اس سچ کے مقابلے میں جس سچ سے فتنہ و فساد پھیلے۔اسی طرح ممتاز قادری کے مقدمہ میں جب کہ اس بے سابق گورنر سلمان تاثیر کو سرعام قتل کیا تھا حکمت کے تحت سزائے موت کے بجائے عمر قید یا کوئی اور سزا دے دیتے تو کون سا پہاڑ الٹ جانا تھا ۔ کیا روزانہ درجنوں قاتل قتل کر کے سرعام گھومتے نہیں ہوتے اور بے شمار بے گناہ ہمارے اس نظام انصاف کے کی وجہ سے جیلوں میں سڑ نہیں رہے مگر مسئلہ وہیں آجاتا ہے کہ جب تک ہمارا مکمل نظام ہی ٹھیک نہیں ہوگا تو کسی کو کیا ضرورت ہے فیصلوں اور معاملات میں حکمت کو تلاش کرتا پھرے۔
اس تمام صورتحال کا ایک ہی حل ہے وہ ہے نظام کی تبدیلی ۔ سیاسی نظام مکمل طور پر تبدیل کیا جائے اور وہ سیاسی نظام عدل کا ایک ایسا نظام قائم کرے کہ اس نظام کے ہوتے ہوئے
کسی کو کسی کی مذہبی شخصیت کی گستاخی کی جرآت نہ ہو۔نہ کوئی گنہگار سزا سے بچ سکے نہ کسی بےگناہ کو ناکردہ گناہوں کی سزا ملے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ