بریکنگ نیوز

جنوبی بحرِ اوقیانوس میں چین کی بڑھتی شہرت کی بنیادی وجوہات

9636108-3x2-700x467.jpg

چینی صدر شی جنپگ نے گزشتہ ہفتے پیسیفک جزیروں کے 8 ممالک کے سربراہانِ مملکت سے پاپوانیوگنی کے دارلحکومت میں ملاقات کی اور اس سربراہی ملاقات میں تمام شرکاءنے باہمی روابط اور عملی تعاون کے فروغ کے حوالے سے متفقہ طور پر ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، اور آپس میں اور بالخصوص خطے میں جامع اور مربوط اسٹریٹیجک ڈائیلاگ اور باہمی تعاون کے فروغ کی اہمیت کا اجاگر کیا اور اس کے باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ ڈیویلپمینٹ کو یقینی بنانے کے لیے عوامل پراتفاقِ رائے کیا، چینی صدر شی جنپگ نے گزشتہ جمعے چین کی حمایت یافتہ آزاد بلیوورڈ کی واپسی کے حوالے سے ایک منعقدہ تقریب میں بھی حصہ لیا، اور اس کیساتھ ساتھ انہوں نے چینی تعاون سے شروع کردہ عوامی سہولت کے لیے قائم بوٹاکا ایکیڈیمی کا بھی افتتاح کیا، ان بنیادی عوامل کو چین اور پیسفک جزائر کے ممالک کے مابین بڑھتی تعاون اور عملی اقدامات کے حوالے سے بہت پزیرائی سے دیکھا جا رہا ہے، دوسری جانب چین اور پیسیفک جزائر کے مابین بڑھتے روابط اور عملی تعاون کو آسٹریلیا اور امریکی قیادت ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے، خطے کی جیو پولیٹیکس کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کی وجہ سے چین اور پیسیفک جزائر کے مابین بڑھتے تعلقات سے امریکہ اور آسٹریلیا کو یہ باہمی تعاون کسی حد تک ناگوار گزر رہا ہے، اس حوالے سے آسٹریلیا نے پیسیفک جزائر کے لیے اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کا اعلان کیا ہے، دوسری جانب امریکی قیادت کی جانب سے بھی اس خطے میں چین کے ممکنہ اثرورسوخ کو کنٹرول کرنے کے لیے امدادی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، پیسیفلک جزائر میں اس وقت دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ چین اس خطے میں صرف اپنی جدید ٹیکنالوجی لیکر آیا ہے، اور اپنے ساتھ اپنا دوستانہ برتاﺅ اورباہمی اور عملی تعاون کے عزائم ساتھ لایا ہے تاکہ اس خطے کو ڈیویلپمنٹ میں یقینی بنایا جا سکے۔ آج سے قبل پیسیفک جزائر کو بالعموم آسٹریلیا کے زیرِ اثر سمجھا جاتا تھا اور ان جزائر کو کینبرا کا چھوڑا حصہ سمجھا جاتا رہا، بیشتر مغربی ممالک اس سے قبل اس علاقے کی غربت و مسائل پر صرفِ نظر کرتے آئے ہیں ، اور آج جب چین اس علاقے میں انفراسٹرکچر اور ڈیویلپمینٹ کے حوالے سے سنجیدہ کوششوں کو لیکر آگے آیا ہے، اس سے نہ صرف پیسیفک ممالک کی معیشت اور عوامی میعیارِ زندگی بہتر ہوا ہے بلکہ چین کی آمد سے امریکہ اور آسٹریلیا کو بھی یہ خطہ اور یہ غریب ممالک یاد آگئے ہیں، مغربی ممالک کو یہ غریب لاچار جزیروں پر بسے لوگ دوبارہ یاد آگئے ہیں۔ پیسیفک جزائر کے ممالک کے پاس کئی وجوہات ہیں کہ وہ کیوں نہ چینی تعاون اور عملی اقدامات کا خیر مقدم کریں ، کیونکہ گزشتہ چند سالوں میں ہی چین کے تعاون سے اس خطے کی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، چین ان جزائر پر مشتمل ممالک کی امداد اور ڈیویلپیمنٹ کو بناءکسی سیاسی عزائم کو لیکر کرنا چاہتا ہے، اور عملی تعاون کو بناءکسی نقصان صرف اور صرف اس خطے میں بسے عوام کی فلاح و بہبود کو پیشِ نظر کر رہا ہے، خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسیان ممالک کی طرز میں امریکہ اور چین اس خطے میں اپنا توازن برقرار رکھنا چاہتے ہیں ، اور اس ضمن میں پیسیفک ممالک کے لوگ بھی خواہشمند ہیں کہ اس خطے میں ان پر آسٹریلوی دباﺅ کم ہو اور چین اس خطے میں انہیں بہتر ترقیاتی مواقع فراہم کرے، یہاں دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ چین کی قیادت نے ان جزائر ممالک میں اپنی انجینرینگ مشینیں اور روڈ انفراسٹرکچر سے متعلق آلات اور مشینری بھیجی ہے جب کہ دوسری جانب امریکہ نے جنوبی بیحیرہ چین میں اپنی جنگی قوت کو جمع کرنا شروع کر دیا ہے، پیسیفک جزائر کے ممالک خطے میں چین کے تعمیراتی آلات اور مشینری دیکھنے کے خواہشمند ہیں جبکہ آسیان اس خطے میں اپنے مقاصد کیلئے امریکہ کو دعوت دے رہا ہے، گزشتہ جمعہ کے روز ملیشیا ءکے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ وہ آسیان کے سمندر میں کسی قسم کی جنگی صورتحال کو دیکھنے کے خواہشمند نہیں ہیں تاہم چھوٹی پٹرولنگ کشتیوں سے علاقے کی صورتحال کو دیکھا جا سکتا ہے، جیو پولیٹیکس آج کے بینالاقوامی دور کا ایک لازمی جزو ہے لیکن ان عوامل کو ترجیعانہ انداز میں یا پھر برتری کے زعم کیساتھ نہیں آنا چاہیے۔ یہ ایک قابلِ سمجھ امر ہے کہ امریکہ اور آسٹریلیا کو پیسفک جزائر میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ پر تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں تمام فریقین کو خطے کی جغرافیائی سیاست کا احترام کرنا ہوگا، اور بین الاقوامی معیشت کے پھیلاﺅ اور اثر کو یقینی بنانے کے لیے ایک دوسرے کا احترام کرنا ہوگا، چین کے شروع کردہ بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور پیسیفک ممالک اس پروگرام میں شمولیت اور اس پروگرام کے منسلک منصوبوں میں شامل ہونے کے حوالے سے خواہشمند ہیں ، اگر ان تمام عوامل کے سیاسی امور کو اجاگر کیا جائے تو یہ ہی حاصل ہوتا ہے کہ چین کے شروع کردہ اس پروگرام سے باہمی تعاون ، باہمی احترام کو فروغ حاصل ہو رہا ہے، اور اس پروگرام سے اس خطے میں بسنے والی اقوام کے باہمی تعلقات کو ای کنیا فروغ حاصل ہوا ہے، دوسری جانب ماضی کے برعکس آج پیسیفک جزائر کے ممالک میں بیرونی سرمایہ کاری فنڈنگ کے حوالے سے ایک مسابقتی ماحول تشکیل پا چکا ہے، اور آج ان ممالک کے عوام کو ترقی خوشحالی اور ڈیویلپیمنٹ کے وہ مواقع میئسر ہیں جو آج سے پہلے انہیں کسی بھی طرف سے آفر نہیں کیئے گئے اس ضمن میں پیسیفک ممالک کے عوام اس مسابقت کو لیکر بہت خوش اور محظوظ ہیں ، اسی طرح سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے باعث عالمی سطع پر جو مسابقتی ماحول پیدا ہو رہا ہے وہ بھی بہت مثبت اور خوشآئیند ہے، بیحرہ اوقیانوس سے بحرِ ہند تک جو مسابقتی ماحول بن رہا ہے وہ اس سے قبل نہیں ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ کچھ ممالک کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کے حوالے سے تنقیدی عوامل اور کلمات بھی سامنے آئے ہیں تاہم وہ ممالک بھی بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے منسلک ممالک میں ٹیکنالوجی اور مسابقتی ماحول کو تیز ی سے لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک طرف چین بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کیساتھ باہمی تعاون اور اشتراک کو لیکر یکطرفہ فواید اور یکساں مفادات یقیینی بنانا چاہتا ہے، دوسری جانب مغربی تاریخ کے مطابق چین کا یکساں مفادات اور یکساں فوائد کے حوالے سے پالیسی بہت وقت طلب ہے، چین ایک پر اعتماد انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، اور ضرورت اس امر کی ہے کہ مغربی ممالک اپنی سوچ کو 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا سیکھ لیںاور جیت اور ہار کی جدوجہد سے خود کو باہر نکالیں، پیسیفک جزائر میں چھ ایسے ممالک ہیں جن کہ تائیوان کیساتھ سفارتی تعلقات ہیں اور بیجنگ اور جزائر کے ممالک کے مابین مضبوط اقتصادی روابط اور سفارتی تعلقات مستقبل میں تائیوان کے اتحادیوں کے زہن تبدیل کرنے میں اہم عنصر ہوگا۔ یوں ممکنہ سیاسی منظر نامے میں تبدیلی سے تائیوان کسی پر الزام تراشی نہیں کر سکتا، کیونکہ ایک کہاوت ہے کہ انسان اوپر کی جانب جدوجہدکرتا ہے جبکہ پانی نیچے کی جانب بڑھتا ہے، جنوبی پیسیفک علاقے میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ چین کے سب سے بڑے شراکت دار ہیں اور چین اور ان دو بڑے ممالک کے مابین باہمی محازآرائی کی کوئی بنیادی وجہ نہیں ہے، اور یوں جنوبی پیسیفک وہ علاقہ ہے جہاں بین الاقوامی تعلقات نئی جہت اورعوامل کیساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ