بریکنگ نیوز

اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر معیشت میں بہتری ممکن نہیں ۔

IMG-20181204-WA0021.jpg

تحریر ڈاکٹر عدیل ملک

گزشتہ سال سے ہی ادائیگیوں کے توازن کا بحران خاموشی سے پاکستان میں پل رہا تھا۔ زرمبادلہ کے سکڑتے ہوئے ذخائر اور بڑھتی ہوئی درآمدات کی وجہ سے ملک اپنی بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا۔
اس وقت ملک کو دہرے خسارے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اسے مالی اور بیرونی کھاتوں کا توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں ہے، اس کی میکرو اکنامکس کی سطح پر موجود کمزوریاں ہر چند سال بعد سطح پر ابھر آتی ہیں جس کی وجہ سے اسے بیرونی بیل آؤٹ کی تلاش پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔2008 میں پرویز مشرف کی فوجی حکمرانی کے بعد آنے والی سیاسی حکومت کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایمرجنسی امداد مانگنا پڑی تھی۔
چھ برس بعد جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں گر رہی تھیں، نواز شریف کی قیادت میں اگلی حکومت نے بھی ایک آئی ایم ایف پروگرام پر دستخط کیے۔ اقتدار میں آنے کے صرف تین ماہ بعد پاکستان کی نو منتخب حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور ممکنہ معاشی تباہی سے بچنے کے لیےسر توڑ کوشش کر رہی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں بار بار در آنے والے معاشی بحران کی کئی وجوہات ہیں جن میں برآمدات کا غیرمتنوع ڈھانچہ اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا تقریباًمنجمد ہو جانا شامل ہیں، تاہم ملک کا حقیقی معاشی مسئلہ اس کی مالی بدانتظامی ہے۔
مالی خسارہ رواں برس جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اخراجات پر محدود پابندیاں، سیاسی مصلحتوں کے تحت کیے گئے ترقیاتی اخراجات اور نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کو دی گئی امداد اور حقیقی ٹیکس اصلاحات میں ناکامی اس مالی خسارے کی حقیقی وجوہات ہیں۔
یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے امیروں پر براہ راست ٹیکس عائد کرنے کے بجائے اندرونی اور بیرونی قرضوں کے ذریعے آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ملک کی اشرافیہ موثر انداز میں مالی دھوکہ دہی کے ذریعے معاشی استحکام کا ایک سراب پیش کرتی رہی ہے حالانکہ درحقیقت معیشت کا وجود قرض لینے پر قائم رہا اور اسے مستقل طور پر اچانک معاشی تباہی کا خطرہ لاحق رہا ہے۔
اشرافیہ خود پر ٹیکس عائد نہیں کرنا چاہتی
اس مالی نظام کو برقرار رکھنے کی قیمت غریبوں، آنے والی نسلوں اور معیشت کے پیداواری سیکٹرز کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ 220 ملین لوگوں میں سے صرف ایک فیصد افراد براہ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جس کے باعث ٹیکسوں کا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے غریبوں کو منتقل کر دیا جاتا ہے۔
خسارہ پورا کرنے کے لیے بلادریغ قرض لینا معاشی بوجھ اگلی نسلوں کو منتقل کرنے کے مترادف ہے۔موجودہ انتظام منظم انداز میں حقیقی معیشت میں پیداواری سرگرمی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔
مسلسل اندرونی قرضے لینے کا مطلب یہ ہے کہ بینک پرائیویٹ شعبے کے لیے ضروری رقم حکومت کو فراہم کرنے پر قانع ہو جاتے ہیں۔آمدنی بڑھانے کی شدید ضرورت ٹیرف پالیسی کا حلیہ بگاڑ دیتی ہے اور پرائیویٹ شعبے کی مقابلے کی صلاحیت کمزور کرتی ہے۔
مالی انتظام صرف اس حد تک سنبھل سکتا ہے کہ ملک کی رعایتی بین الاقوامی امداد تک رسائی ہو سکے۔غیرملکی امداد مختصر مدت کے لیے وسائل پر بوجھ کم کر سکتی ہے لیکن اس کی وجہ سے اصلاحات کرنے کا حکومتی جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔
اس پس منظر میں سعودی عرب سے حال ہی میں 6 ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان ایک اخلاقی خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک بار پھر حکمران اشرافیہ کوئی بھی ایسی حقیقی اصلاحات لانےسے پرہیز کریں گے جو ایک نئی تقسیم کے ذریعے اپنی معاشی طاقت سے محروم کر دے۔
اگر ماضی کے آئینے میں دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کا پروگرام بھی اشرافیہ کو اصلاحات…
اگر ماضی کے آئینے میں دیکھا جائے تو آئی ایم ایف کا پروگرام بھی اشرافیہ کی اصلاحات لانے کے محرک پر منفی اثر ڈالے گا۔پاکستان کے تزویراتی سطح پر فیصلہ کرنے والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر پاکستان پس پردہ امریکہ کو جیو پولیٹیکل رعایتیں دیتا ہے تو اسے آئی ایم ایف کا پیکج فوری طور پر مل سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہونے کے بعد آئی ایم ایف کی ٹیم سامنے آئے گی اور ضروری اکاؤنٹنگ کی مشق کرے گی اور پھر، جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے، جب فیصلہ کن مرحلہ آئے گا تو آئی ایم ایف سیاسی طور پر حساس اصلاحات کے معاملے پر ایک بار پھر استثنیات اوررعایتین دینا شروع کر دے گا۔اس پس منظر میں سعودی عرب کی حمایت اور ایک ممکنہ آئی ایم ایف معاہدہ اشرافیہ کی جان چھڑا دے گا۔پاکستان میں جی ڈی پی سے ٹیکس کی شرح مستقبل طور پر کم ہے (اس وقت جی ڈی پی کا 10 فیصد ہے) جو کہ بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ہمسائیہ ممالک اور دیگر ایک جیسی آمدنی رکھنے والے ممالک سے کم ہے۔ٹیکس کا نظام پیچیدہ، غیرموثر، رجعت پسندانہ، بالواسطہ ٹیکسوں پر غیرضروری انحصار کرنے والا اور کئی قسم کی استثنیات پر مشتمل ہے۔
مثال کے طور پر فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) ڈیوٹیز اور ٹیرف پر مستقل استثنیات کا اعلان کرتا رہتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق 2011 میں آدھی سے زیادہ ٹیرف لائنز کو اس طریقے سے ٹیکس سے استثنی دیا گیا۔
اگرچہ زرعی شعبے کا ملکی جی ڈی پی میں 20 فیصد کے قریب حصہ ہے اور یہ ایک اہم آجر ہے لیکن عملاً یہ شعبہ براہ راست انکم ٹیکس سے بچا ہوا ہے۔ سیاسی طور پر بااثر زمیندار طبقہ ایسی استثنیات سے براہ راست فائدہ اٹھاتا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ابھرتا ہوا شہری اور رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بھی ٹیکس اکٹھا کرنے والوں کی رسائی سے باہر ہے۔ اگرچہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ پاکستان سے پیسے کے فرار سے جڑا ہوا ہے (انکے نفع سے عموماً دبئی، لندن اور ٹورانٹو کی جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے)، اس کے باوجود شہری جائیداد پر معمولی سا ٹیکس لگایا جاتا ہے اور رئیل اسٹیٹ کے سودوں کے ذریعہ حاصل کردہ رقم پر انتہائی کم ٹیکس عائد ہوتا ہے۔
اسی طرح خدمات کے شعبے میں ہونے والی وسعت کی وجہ سے ڈاکٹروں اور وکلا جیسے پروفیشنلز کی آمدنی بڑھ گئی ہے لیکن ان میں سے ٹیکس دینے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرچون فروش تاجران نے ایک طویل عرصے سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے خلاف مزاحمت کی ہے جو بالواسطہ ٹیکس سے زیادہ بہتر طریقہ سمجھا جاتا ہے اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں ایک اہم قدم ہے۔
یہ بات ایک طویل عرصے سے پالیسی سازی کی اعلی سطح پر سمجھ لی گئی تھی کہ ملک کو اپنی ٹیکس بیس وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس پاک فوج کے سربراہ نے، جوملک کے طاقتور ترین شخص سمجھے جاتے ہیں، نے بھی ٹیکس اکٹھا کرنے کی افسوسناک حد تک غیرمناسب کوششوں کی جانب اشارہ کیا تھا۔ اقتدار سنبھالتے ہی وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں وسیع پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے باوجود وردی والے ہوں یا سویلین، دونوں نے حقیقی ٹیکس اصلاحات کو اداراتی شکل دینے میں بری کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے: ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے سے ملکی اشرافیہ کو خود پر اور سیاسی طور پر حساس حلقوں پر بھی ٹیکس عائد کرنا پڑے گا۔
عمران خان کی جماعت سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے یہ ایک خطرناک بات ہے۔ ایک باریک انتخابی اکثریت کے دھاگے سے جڑی نومنتخب حکومت کو اپنے ہی حلقوں سے شدید مزاحمت کا سامنا ہو گا، ان میں سے کئی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں ٹیکسوں میں استثنا ملا ہوا ہے۔حتی کہ شہروں سے تعلق رکھنے والی حکومت کے بنیادی حامی، نئی نئی طاقت حاصل کرنے والا متوسط طبقہ بھی بڑے پیمانے پر ٹیکس اصلاحات کے بجائے کرپشن کے خلاف مہم کے حوالے سے زیادہ پرجوش ہے۔
اسی وجہ سے نئی حکومت نے بھی گزشتہ حکومت کی طرح پالیسی سطح پر ریگولیٹری ڈیوٹیز ، ٹیرف پر نظر ثانی، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں کمی جیسے طور طریقے اختیار کیے ہیں ۔ طویل المدت ٹیکس اصلاحات اب بھی ایک دورازکار امکان نظر آتا ہے۔ پالیسی کا یہ مخمصہ صرف عمران خان کی حکومت کا نہیں ہے ، جہاں تک معاشی اصلاحات کا تعلق ہے تو تمام سیاسی حکومتیں ایک ہی طرح سے عزم کی کمی کا شکار ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران معاشی اصلاحات کا وعدہ تو سیاسی طور پر سودمند ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہی اصلاحات کو بروئے کار لانے سے پہلو تہی کی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس مخالف سیاسی توازن کو کیسے توڑا جائے؟
مسائل کا حل کیا ہے؟
میری رائے میں عزم میں کمی کے مسئلے کا حل پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ عمران خان۔۔۔ یا کوئی دوسرے رہنما۔۔ نے ٹیکس نادہندگان پر ہاتھ ڈالنا ہے تو اسے فوج سے یہ عہد لینا ہو گا کہ وہ انہیں اپنی مدد فراہم کرے گی۔
اگرچہ پاکستان ایک کمزور بیوروکریٹک صلاحیت کا شکار ہے لیکن جہاں بھی ریاست کی کوئی صلاحیت موجود ہے تو اس کا مرکز فوج ہی ہے۔جب فوج کسی اصلاحاتی تجویز کے حق میں اپنا وزن ڈالتی ہے تو اس کا وقوع پذیر ہونا ممکن ہو جاتا ہے (وفاق کے زیرانتظام قبائیلی علاقے، جنہیں فاٹا کہا جاتا ہے، کا قومی دھارے کا حصہ بننا اس کی ایک مثال ہے)۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تمام سیاسی اور اداراتی کرداروں میں سے فوج ہی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس ٹیکس بیس وسیع کرنے کا محرک موجود ہے۔ ٹیکس وصول کرنے کی مضبوط صلاحیت سے انہیں براہ راست فائدہ ہو گا کیونکہ اپنے اخراجات برقرار رکھنے کی صلاحیت کا کم ہونا اس کی مالی ضروریات کے لیے طویل المدت خطرے کا باعث ہے۔
سیاسی اقتصادیات کا یہ بنیادی مخمصہ ہے۔۔ اسی نے یورپی ریاستوں کو مالی پالیسی تشکیل دینے کے لیے تحریک فراہم کی۔ بیرونی جنگوں نے یورپی ریاستوں کے لیے ٹیکس کا نظام قائم کرنا لازم کر دیا تاکہ وہ اپنی فوجوں کے اخراجات پورے کر سکیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج نے اس وقت، جبکہ وہ برسوں تک براہ راست حکمرانی کر رہی تھی، ٹیکس اصلاحات کو قومی سلامتی کا اہم ستون کیوں قرار نہیں دیا؟
اس معاملے کی وضاحت تین تاریخی اور معاصر عوامل کی مدد سے ممکن ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ابتدائی دور سے ہی پاکستان کی فوجی اور سیاسی اشرافیہ نے اندرونی وسائل متحرک کرنے کے بجائے بیرونی امداد پر انحصار کیا ہے۔منتخب حکومتوں کی نسبت فوجی حکومتوں کے دوران ملک کو واضح طور پر بیرونی امداد زیادہ ملی ہے۔
یہ امداد جغرافیائی حکمت عملی (جیو سٹریٹجک) پر مبنی سودے بازی تھی۔۔ یہ ایک انعام تھا جو پاکستان کو 1950 اور 1960 کی دہائی میں کمیونزم مخالف اتحاد کی حمایت کرنے اور 1980 اور 2000 کی دہائی کے دوران افغان جنگ کی حمایت پر ملا تھا۔ حتی کہ جب وقت کے ساتھ ساتھ امداد کے سوتے خشک ہو گئے اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران بار بار عود کر آنے والا مظہر بن گیا تب بھی یہ اشرافیہ کے وجود کے لیے خطرے کا باعث نہ بنا کیونکہ انہیں علم تھا کہ جب بھی صورتحال سنگین ہو گی انہیں جیو پولیٹیکل رعایتوں کے بدلے بیرونی امداد مل جائےگی۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ 1980 کی دہائی کے اواخر میں فوج کی اعلی قیادت فوج سے منسلک ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ذریعے رئیل اسٹیٹ کے کام میں پوری طرح شامل ہو چکی تھی۔ ڈی ایچ اے کے سائے تلے پروان چڑھنے والی رہائشی اور کاروباری جائیدادیں فوجی افسروں کے اداراتی کرایوں کا اہم ذریعہ اور ملازمت پیشہ طبقے کے لیے اوپر جانے کا ایک اہم رستہ بن گئیں۔اس طریقے سے کمائے گئے پیسے کو ٹیکس کا دائرے میں لانے کی ہر کوشش کے خلاف فوج کے اندر سے سخت مزاحمت ہو سکتی تھی۔
تیسری بات یہ ہے کہ حقیقی ٹیکس اصلاحات ان بااثر سیاسی گروہوں کو تکلیف دیتیں جن پر فوج سیاسی اتحاد بنانے کے لیے عموماً انحصار کرتی ہے۔یہ لوگ جنہیں عام طور پر “الیکٹ ایبلز” کہا جاتا ہے، ایسے امیدوار ہیں فوج کو اپنی سیاسی خدمات فوری طور پر پیش کرتے ہیں اور کسی بھی انتخابی دوڑ میں جیت کا یقین دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے معاشی مفادات کو زک پہنچانے سے سیاسی کھیل خراب ہو سکتا ہے اور فوج کی انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔
ان تینوں عوام کو اکٹھا کر دیا جائے تو فوجی قیادت کے لیے ان پر سمجھوتا کرنا مشکل کام ہے ، خصوصاً اس صورت میں جبکہ فوجی کمانڈروں کی معاملات کو دیکھنے کی صلاحیت محدود ہے اور جہاں فرد کے لیے تحریک یہی ہے کہ مشکل اصلاحات کے بجائے معاملات کو جوں کا توں آگے بڑھا دیا جائے۔
ترقی کے شروع ہونے اور ختم ہونے والے اس مسلسل عمل اور بار بار لوٹ آنے والے ڈیفالٹ کے خطرے پر روک لگانے کے لیے ملک کی تزویراتی قیادت کو معمول سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اب اس بات کو تسلیم کرنے کا وقت ہے کہ پاکستان کی مسلسل “نیم کرائے کی ریاست” کا مسلسل درجہ قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ قومی سلامتی کے لیے اور ایک آزاد ریاست کے طور پر باقی رہنے کے حوالے سے شاید ہندوستا ن سے بھی زیادہ بڑا خطرہ ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے امدادی پیکج اور دور افق پر موجود آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے اصلاحات کے امکانات اگلے پانچ برسوں کے لیے ملتوی ہو جائیں گے یہاں تک کہ ملک کو ایک بار انہی حالات کا سامنا ہو گا اور وہ ایک مرتبہ پھر اپی جیو پولیٹیکل رعایتیں دینے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہو گا۔
یہ کھیل ہماری اشرافیہ اور ان کے بیرونی ہمدردوں کے مفادات کے عین مطابق ہے۔ ان میں سے کوئی بھی حقیقی مالی صلاحیت تشکیل دینے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ملک کی حکمران اشرافیہ کے لیے بیرونی امداد ان اصلاحات کو ملتوی کرنے کا جواز پیدا کرتی ہے جن سے ان کے مفادات پر زک پہنچتی ہے۔ امریکہ (یاسعودی عرب جیسے اس کے امیر حاشیہ نشینوں کے لیے)ایک قیمتی تزویراتی ذریعہ ہے جسے ہر پانچ برس بعد استعمال کیا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ