بریکنگ نیوز

غیر ملکی سفراءکاچین کے شمال مغربی صوبے شنجیانگ کادورہ

5c3683ffa3106c65fff46221.jpeg

غیر ملکی سفراءکاچین کے شمال مغربی صوبے شنجیانگ کادورہ: صوبے سے متعلق مغربی میڈیا کاپراپیگنڈہ مسترد

رواں ماہ چین میں متعین 12 سے زائدغیر ملکی سفراءنے چین کے شمال مغربی صوبے شنجیانگ کادورہ کیااورشنجیناگ کے خودمختار علاقے یوغیور میںقائم پیشہ ورانہ تعلیمی سینٹرز کادورہ کیا،اس دورے کےحوالے سے غیر ملکی سفراءنے کہا کہ چین کے شمال مغربی صوبے شنجیانگ کے حوالےسے مغربی میڈیا جو بےبنیاد پرا پیگنڈہ کرتارہا ہے وہ قطعی غلط ہے، انہوں نے دورے کےحوالے سے کہا کہ شنجیانگ صوبے خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالےسے ایک متحرک کردار اداکررہاہے، شنجیانگ حکومت کی دعوت پر روس، قازقستان،کرغستان،ازبکستان،تاجکستان،انڈیا،پاکستان،انڈونیشیا،ملیشیا،افغانستان، تھائی لینڈ اور کویت کے سفراءنے خصوصی طور پر دسمبر28-30کے مابین چین کے شمال مشرقی صوبے شنجیانگ کا دورہ کیا، ان غیر ملکی سفراءنے شنجیانگ میں کاشی شہر میں قائم پیشہ ورانہ تعلیمی سینٹرز کادورہ کیا، جہاں پر بیشتر ٹرینی طلباءپوٹونگواقومی قوانین اور ضوابط سے متعلق علم اور پیشہ ورانہ تعلیم سے متعلق آگاہی حاصل کر رہے تھے۔غیرملکی سفراءنےزیرِ تعلیم ٹرینی طلباءکی تعلیمی زندگی کے متعلق معلومات حاصل کیں۔اور زیرِ تعلیم طلباءکے ساتھ ٹیبل ٹینس اور باسکٹ بال بھی کھیلا،اور بعد ازاںٹرینی طلباءکے مابین ڈانسنگ مقابلے بھی دیکھے۔ چین میں تعین انڈونیشیاکے سفیرجوہاری اوراموگن نے کہا کہ شنجیانگ میںقائم ٹریننگ سینٹرز کی استعداد سے وہ بہت متاثر ہیں۔اور اس سینٹر پر ٹرینی طلباءباآسانی یوگیورقوانین اور مقامی کلچر سے متعلق علم حاصلکررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ٹرینی طلباءبہت پر جوش ہیں اور پیشہ ورانہ تعلیم سے روشناس ہوکر یہ طلبائبہتر شہری بن سکتے ہیں۔ہوتان میں قائمٹریننگ سینٹر کے دورے پرقازقستان کے سفیر کونئے سال کا تحفہ بھی پیش کیا گیا،اور ایک زیرِ تعلیم ٹرینی طالبِ علم نے مہمان سفیر کو ایک آئل پینٹنگ تحفتا پیش کی۔ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے مہمان سفیر نے کہا کہ خطے میں چینی حکومت علاقائی انتظامیہ کیساتھ بہتر ماحول میں ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے، چین میںافغانستانکے سفیر سیعد نے کہا کہ وہ اس سے قبل کئی بار شنجیانگ کا دورہ کر چکے ہیں،جنوبی شنجیانگ کے شہری اپنی سستی کے حوالے سے اس سے بیشتر شہرت رکھتے تھے،لیکن آج یہ لوگ ایک بہتر ماحول میں کھیل اور پڑھائی کی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں، پیشہ ورانہ تعلیمی سرگرمیوں سے شنجیانگ کےعوام کو بہتر معیارِ زندگی کے مواقع میسر آئیں گے۔اور مغربی میڈیا کی رپورٹس کے برعکس ان لوگوں کے معیارِ زندگی میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ دنیا کے ہر ملک کو آج شدت پسندانہ عوامل اور چیلنجز کا سامناہے تاہم شنجیانگ آج ایک متحرک انداز میںان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے۔دریں اثناءاس دورے کے دوران مہمان سفراءنے نہ صرف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا بلکہ ارومچی کے بازار کو دیکھنے کابھی موقع ملا اور شنجیانگ میں اسلامی سینٹر کا بھی دورہ کیا گیا،ارومچی بازار میں چین میںتعین پاکستانی سفیر ممتاز زہرابلوچ کی ایک پاکستانی تاجر سے ملاقات ہوئی جو اس ارومچی گرینڈ بازار جیولری فروخت کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ پاکستانی تاجر نے کہاکہ حالیہ چند سالوں شنجیانگ میں حالتِ زندگی بہت بہتر ہوئی ہے۔جس سے کاروباری صورتحال بھی بہتر ہو رہی ہے اور سیاح تیزی سے اس علاقے کا ڑخ کر رہے ہیں۔پاکستانی تاجر اسمو نے کہا کہ وہ ارومچی میں ہی رہائش پزیرہیںاور انہوںنے ایک مقامی خاتون سے شادی بھی کی ہے،اور وہ اپنی بیوی بچوں کیساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔کاشی شہر میں عید گاہ مسجد کے دورے کے دوران مہمان سفراءکو معلوم ہوا کہ مسجد میں جدید آلات نصب ہیںتاکہ سردی کی شدت سے عبادت گزاروںکومحفوظ رکھا جا سکے، اور با آسانی وضو کے لیے انہیںگرم پانی میئسر رہیں۔چین میںملیشیاکے سفیر نے کہا کہ انہوںنے اپنے دورے کے دوران دیکھا کہ اس علاقے میںخصوصی طور پرلوگوںکو مذہبی آذادی کے تمام حقوق حاصل ہیں۔دنیا کے دیگر ممالک کیطرح چین بھی مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے کوشاں ہے، اور اس حالیہ دورے کے بعد انہیں معلوم ہواہے کہ چین میں مذہبی آذادی کے حوالے سے مغربی میڈیا کاپراپیگنڈہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ بیجنگ سے انسدادِ دہشت گردی کے ماہر لئیوی نے کہا کہ انہیں یہاں کے تعلیمی ادارے دیکھنے کا موقع ملا جو ایک خوش آئیندامر ہے، خطے کے بیشتر ممالک کو شدت پسندی اور دہشت گردی کے مسائل کا سامنا ہے، اور غیر ملکی سفراءکو چین کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے کوششوںکوقریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا،شنجیانگ صوبے نے جس طرح سے شدت پسندانہ عوامل کا خاتمہ کیاہے وہ ایک مثت امرہے۔اس حوالے سے دنیا کے جو ممالک ان عوامل سے نبرآذما ہیں انہیںشنجیانگ کے طریقہ کار کو دیکھنا چاہیے۔انسدادِ دہشتگردی کے حوالےسے دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دوسال میںکوئی دہشت گردی سے متعلق کاروائی نہیں ریکارڈ کی گئی۔اور اس حوالے سے شنجیانگ کی انسدادِ شدت پسندی کے حوالے سے کی گئی کوششوں کو بہت حد تک موثر اور کامیاب قراردیا گیا ہے جس کے باعث ان پسندانہ کوششوں اور دہشتگردی کی کوششوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کوششوںسے یہ تاثربھی تقویت حاصل کرتاہے کہ وہ پندرہ ممالک جنہوں نے کینیڈین سفیرکی سربراہی میںشن جیانگ کے اعلی حکام سے ملاقات کی تھی،وہ بھی اس حالیہدورے کےدوران خصوصی وفد میںشامل تھے۔جنہوں نے شنجیانگ کا دورہ کیا ہے۔ لئیون نے مزیدواضح کیا کہاگر عالمی سطع پرتؑصب پسندی کوترک کر کے شنجیانگ کے تجربات سے استعفادہ کیا جائے تو عالمی سطع پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کےعوامل کےخاتمے میںایک کلیدی کردار ادا ہوسکتا ہے۔لیکن اگر مغربی میڈیا چین کے خلاف مذہبی آزادی کے حوالے سے تعصبانہ پراپیگنڈہ جاری رکھتا ہے تو اس امرسے دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کوصرف نقصان ہی ہوگا۔ شنجیانگ میں کوئی بھی امر اس وقت تک حساس نہیںہوسکتا جب تک ہمارا مقصدِنظر عوام الناس کواسکیوریٹی اورعوامی مفادات کو ایک ترجیع کیصورت سامنے رکھاجاتا ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ