بریکنگ نیوز

میڈیا کا اصل بحران کیا ہے ؟

553CFF9C-8B12-4160-8027-121C062EA83D.jpeg

تحریر : عظمت ملک

میڈیا کے مسائل اور میڈیا کے فوائد کا جب بھی ذکر آتا ہے ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میڈیا کے دو بڑے سٹیک ہولڈر ہیں ایک میڈیا مالکان اور دوسرے صحافی ۔۔۔ اور جب بھی میڈیا کے مسائل کا ذکر ہو گا تو صحافیوں کا ذکر ہو گا اور جب بھی میڈیا کے فوائد کا ذکر ہو گا تو میڈیا مالکان کا ذکر ہو گا ۔ بنیادی طور پر میڈیا مالکان اور صحافی دو انتہائی الگ قسم کے فریق ہیں مالکان ہمیشہ حاوی ہوتے ہیں ٹیکس بڑھ جائے اخبار کے پیپر کی قیمت بڑھ جائے اشتہار بند ہو جائیں اشتہار کم ملیں جو بھی مسئلہ ہو وہ مالکان کا مسئلہ ہرگز نہیں وہ صحافیوں کا مسئلہ بن جاتا ہے لیکن اگر کسی صحافی کو کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو وہ خالص اس کا اپنا مسئلہ ہے وہ بتائے یا نہ بتائے مالکان کو اس سے کوئی غرض نہیں ۔۔۔ اس وقت مسئلہ کیا ہے ؟ مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا مالکان کے مطابق ان کے زرائع آمدن یعنی کے اشتہارات ختم ہو گئے یا کم ہو گئے ۔۔ سب سے پہلے تو یہ سرا سر جھوٹ ہے میڈیا مالکان کا ظاہر ی طور پر تو زرائع آمدن یہی اشتہار ہے لیکن اصل زرائع آمدن یہ نہیں بلکہ اس پاور طاقت اور اثر رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے وہ کو اربوں روپے کماتا ہے وہ اصل زرائع آمدن ہے ۔ جنگ گروپ کے پاس کتنی کمپنیاں ہیں کتنی آف شور کمپنیاں ہیں کتنے اثاثے ہیں وہ کیسے بنے ؟ جنگ گروپ کی وجہ سے بنے ۔ جنگ اور دی نیوز اخبار کی وجہ سے بنے ، بے شک اشتہاروں سے نہ بنے لیکن وہ بنے اسی وجہ سے ، جیو نیوز تو بہت بعد میں آیا اور جیو کی وجہ سے پھر بے شمار اثاثے بنے ۔ لیکن اب چونکہ مالک کا ایک زریعہ اشتہارات والا کم ہوا تو اسے لگ رہا ہے کہ وہ نقصان میں ہے حالانکہ وہ نقصان میں ہو ہی نہیں سکتا ۔ یہ وہی گروپ ہے جس نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تصویر کو چلا کر حامد میر پر حملہ آور بتاتا رہا ۔ کیا اتنے دلیر جیو کو اب کسی نے کیسے قید کر لیا اور اس کو مالی بحران کا شکار کر دیا اس جنگ گروپ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں کتنے فوائد حاصل کیے اس وقت لوگ کہتے تھے حکومت نواز شریف نہیں میر شکیل چلا رہا ہے اور اب اس کو مالی بحران کا سامنا ہے اس سے بڑا جھوٹ اور گمراہ کن کوئی دعوی ہو ہی نہیں سکتا ،
پھر بات آتی ہے ایکسپریس کی ۔ سلطان لاکھانی کو پیسہ کی کمی ہے ہی نہیں لیکن منافع کم ہوتا ہے صحافیوں کو بیس پچیس ہزار پچاس ہزار دیتے ہوئے ۔ یہ اصل مسئلہ ہے اور یہ تکلیف ہمیشہ کم پیسے والے طبقے کو دیتے ہوئے ہوتی ہے ۔ جاوید چوہدری جو کئی ملین تنخواہ لیتا ہے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ادارے کو لیکن سب ایڈیٹر اور رپورٹر کی تیس چالیس ہزار تنخواہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور مالی بحران کی جڑ ہے ۔ وقت نیوز بند ہوا ہے تو اس کا پتہ لگایا جائے کہ مالکان نے اربوں روپے کی دبئی میں جائیدادیں تو نہیں بنائیں ۔
پاکستان میں اخبارات پھر بھی پیسہ کما رہے تھے سب سے زیادہ تنخواہ اخبار میں گروپ ایڈیٹر کی ہوتی تھی پھر ایڈیٹر کی اور ان کے مقابلے میں مارکیٹنگ والوں کو تھوڑی زیادہ ۔ لیکن جن سے چینل آئے ہیں انہوں پر تو پیسہ پانی کی طرح بہایا جانے لگا ، شہرت ، گلیمر نے مالکان کو متوجہ کر لیا اور اینکرز کی بولیاں لگنا شروع ہو گئیں ساتھ ہی ڈی ایس این جی کی تعداد سے چینل کی ریٹنگ ماپنے لگی اور اخبارات جنگ ایکسپریس ڈان کی کئی دہائیوں کی کمائی مہینوں میں ختم ہوتی رہی پھر کمرشل اشتہارات کی بھی بہتات ہو گئی اور چینل بھی اپنے پائوں پر کھڑے ہونے لگے لیکن کسی میڈیا مالکان کے مشیر ان نے یہ مشورہ نہیں دیا کہ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے اور اخراجات کو کم کیا جائے ساتھ ہی میڈیا میں آنے والی جدت کا بھی فائدہ اٹھایا جائے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ، عالمی بحران ہو یا ملکی مالی بحران چند سالوں سے کمرشل اشتہارات اور کاروبار کم ہونا شروع ہوا لیکن میڈیا مالکان نے اسے سمجھا نہیں اور ان کے دماغ میں ایک ہی بات تھی کہ جہاں پانی سر پر پہنچا وہاں صحافی نکال دیں گے اور ملک میں ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا ہمیں اشتہارات ملنا شروع ہو جائیں گے ٹیکس معاف ہو جائیں گے پیپر کوٹہ بڑھ جائے گا اور معاملہ قابو میں آ جائے گا ۔۔۔
دنیا بھر میں ڈی ایس این جی کا رواج ختم ہو چکا ہے ہر بڑے میڈیا ادارے نے اپنی لائیو ایپس بنائی ہوئی ہیں چالیس ہزار کے فون سے وہ ڈی ایس این جی سے بہتر لائیو کوریج کرتے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں وہاں بھی انتہائی سمارٹ سیٹیلائیٹ لائیو سسٹم لگاتے ہیں کو ایک لیپ ٹاپ اور چند اور آلات پر مشتمل ہے ۔ پھر جو کیمرہ میں ہے وہی رپورٹر ہے جو رپورٹر ہے وہی کیمرہ مین بھی ہے ۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا دیا گیا اور سوشل میڈیا اور دیگر زرائع سے اشتہارات اور آمدن شروع ہو گئی لیکن پاکستان میں اس بارے کسی کو ابھی تک خیال نہیں آیا ۔ یہاں سب سے آسان ہے ڈاؤن سائزنگ ۔
میڈیا کے مالکان کا مسئلہ مختلف ہے ان کے منافع میں کمی ہوئی ہے لیکن ان کو کوئی مالی بحران نہیں ہے ۔ صحافی بیچارے میڈیا مالکان کی بجائے حکومت کو اس کا الزام دیتے ہیں اور صحافتی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہیں ۔ صحافت پر حملہ تو یہ ہے کہ کسی صحافی کو پریس کانفرنس میں نہ جانے دیا جائے کسی اخبار یا ٹی وی کو کسی خبر کی وجہ سے بند کر دیا جائے کسی خبر پر حکومت کسی کے اشتہار روک کے پھر بھی چلو مان لیا غلط ہے لیکن صحافی صبح شام حکومت عمران خان وزرائ ججز افواج ایجنسیوں کے خلاف بول رہے ہیں لکھ رہے ہیں کوئی پابندی نہیں کوئی چینل اس وجہ سے بند نہیں ہوا کوئی اخبار اس وجہ سے بند نہیں ہوا
سمجھ نہیں آتی یہ کیسا بحران ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ