بریکنگ نیوز

بُری خبروں کے ہجوم میں ایک اچھی خبر

:امتیاز عالم

بُری اور فضول خبروں کے ہجوم میں کبھی کبھار کوئی اچھی خبر ملتی بھی ہے تو وہ گم کردہ لوگوں کی طرح خبربندی کے دبیز پردوں میں کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی ایک عرصے کے بعد فیض آباد دھرنے کے کیس میں سپریم کورٹ کے نہایت بلیغ فیصلے کے ساتھ ہوا جسے عزت مآب جسٹس قاضی فیض عیسیٰ اور عزت مآب جسٹس مشیر عالم نے صادر فرمایا۔ حالانکہ معزز بنچ سپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت حاصل اختیار کے ’’عوامی مفاد‘‘ اور ’’انسانی حقوق کے دفاع‘‘ میں محدود تر استعمال کا قائل نظر آیا، پھر بھی انسانی حقوق، مفادِ عامہ، آئین کی حکمرانی، ریاستی اداروں کی آئینی حلف سے وفاداری اور جمہوری نظام کی توقیر کے حوالے سے عدلیہ کا یہ فیصلہ سبھی کے لیے ایک کڑوی گولی ہی نہیں بلکہ مشعلِ راہ ہے۔ باوجودیکہ سنسرشپ میں دبے میڈیا کی آزادی کے لیے اس فیصلہ میں تحریر و تقریر کی آزادی پہ بندش لگانے والی قوتوں کے غیرآئینی و غیرقانونی طرزِ عمل کی سخت سرزنش کی گئی، پھر بھی میڈیا میں یہ سکت نہ تھی کہ ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کے ایک اہم ترین فیصلے کو پوری سچائی کے ساتھ مناسب جگہ دیتا۔ لگتا ہے فیصلہ کی زبان میں ’’خود ساختہ نجات دہندوں‘‘ کو یہ فیصلہ بھی متحارب چومکھی جنگ کی چوتھی پیڑھی کی کوئی کڑی دکھائی پڑا۔ بہرکیف، عدالت عظمیٰ نے تحریکِ لبیک پاکستان کے فیض آباد میں دھرنے کو شہریوں کے بنیادی حقوق، آئینی نظام، ریاستی نظم و ضبط پہ ایک ناقابلِ معافی جرم قرار دے کر نفرت انگیزی پھیلانے والوں، فساد برپا کرنے والوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نااہلی اور معاونت کو بھی قابلِ تعزیر قرار دیا ہے۔ معزز بنچ کی رائے میں اگر اصغر خان کیس، 12مئی کو کراچی میں کیے گئے قتلِ عام اور ریاستی غنڈہ گردی اور ڈی چوک پہ عمران خان کے طویل دھرنے پہ قانون صحیح طور پر حرکت میں آتا تو فیض آباد دھرنے کے فسادیوں کو ریاست کو یرغمال بنانے کی ہمت نہ پڑتی۔ جہاں عدالت نے شہریوں کے حقِ اظہارِ جلسہ جلوس اور پُرامن احتجاج کا مفادِ عامہ کی قانونی حدود میں رہتے ہوئے دفاع کیا ہے، وہیں ایسے جلسہ جلوس کی ممانعت کی ہے جو دوسرے شہریوں کے حقوق میں مانع ہو اور فساد فی الارض کا موجب۔ تحریکِ لبیک پاکستان کو الیکشن کمیشن میں بطور جماعت رجسٹر کرنے پر بھی عدالت نے الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری باور کراتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت اور مالی ذرائع کے حوالے سے جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔ میڈیا کے جن اداروں نے اُس دھرنے کے دوران لوگوں کو مشتعل کرنے میں جس غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا، اُس حوالے سے عدلیہ نے پیمرا کی خوب خبر لی ہے۔ جن کیبل آپریٹرز نے مختلف ٹیلی ویژنز کی نشریات بند کیں، جیسا کہ جیو اور ڈان ٹی وی کی نشریات، پیمرا کو اُن کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی یا اگر یہ بندش کسی اور کے ایما پر کی جا رہی تھی تو اُس کے بارے میں پیمرا کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ اس حوالے سے عدالت نے ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی کے علاقے میں ڈان، نیوز اور جنگ کی ترسیل پر لگی بندش کا بھی سخت نوٹس لیا ہے۔ اسی ضمن میں عدالت نے کہا ہے کہ ’’تمام خفیہ ایجنسیوں (بشمول آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی) اور انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) کو اپنے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ وہ آزادی تقریر اور حق کے اظہار کو محدود نہیں کر سکتیں اور اُنہیں کوئی اختیار نہیں کہ وہ نشریات اور مطبوعات کے انتظام اور تقسیم میں مداخلت کریں۔‘‘ مزید یہ کہ ’’شفافیت اور قانون کی حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جو واضح طور پر متعلقہ ایجنسیوں کے دائرئہ کار (Mandate)کو متعین کریں۔‘‘ عدالت نے زور دے کر باور کرایا ہے کہ ’’آئین افواجِ پاکستان کی ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی ممانعت کرتا ہے، جس میں ایک سیاسی جماعت، گروہ یا فرد شامل ہے۔ حکومتِ پاکستان کو وزارتِ دفاع اور آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے سربراہوں کے ذریعے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی کمانڈ کے اُن اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کریں جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔‘‘ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی نقول ریاست کے تقریباً تمام اداروں کو ارسال کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ فیصلے میں دی گئی ہدایات اور احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
سوال یہ ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے اس ہمہ گیر فیصلہ پر عملدرآمد کون کرے گا۔ اس حکومت سے تو اس کی اُمید نہیں۔ وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے تو اپنے تلخ ردّعمل میں یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’دھرنے نے معجزہ دکھایا، اسے منفی کہنے والے سیاسی بلوغت سے محروم ہیں۔‘‘ تو اگر عمران خان کا دھرنا ایک معجزہ تھا تو مولانا رضوی کے دھرنے کو وہ کس طرح کا معجزہ قرار دیں گے کیونکہ تحریکِ انصاف اور شیخ رشید کی جماعت اور کچھ بڑے ہی طاقتور لوگ فیض آباد دھرنے کی کھلی اور درپردہ حمایت کرتے پائے گئے تھے۔ عدالتِ عالیہ نے تو ہر ادارے کو بہت واضع ہدایات اور احکامات دیئے ہیں، جبکہ قانون کی حکمرانی و تابعداری اور آئین سے وفاداری سب ہی کا فرض ہے۔ لیکن مملکتِ خداداد میں ایسا ہوتا تو اس فیصلے کی نوبت نہ آتی۔ کیا اس فیصلے کے بعد تحریکِ لبیک پاکستان پر مقدمات چلیں گے؟ کیا الیکشن کمیشن تحریکِ لبیک پاکستان کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخ کر پائے گا؟ کیا حکومت اور پارلیمنٹ خفیہ ایجنسیوں کے دائرئہ عمل کو واضح کرتے ہوئے اُن سے متعلق قانون سازی کر پائے گی جیسا کہ مختلف ملکوں کی ایجنسیوں سے متعلق قوانین کا حوالہ بھی فیصلہ میں دیا گیا ہے۔ کیا مسلح افواج کے سربراہان اُن افسران کے خلاف کارروائی کریں گے جو کراچی میں 12 مئی کے قتلِ عام اور دھرنوں میں ملوث پائے گئے یا کسی جماعت یا گروہ یا لیڈر کی حمایت میں ملوث پائے گئے۔ کیا عدالتی حکم کی پیروی میں خفیہ ایجنسیوں، آئی ایس پی آر اور پیمرا کو میڈیا کی نشر و اشاعت اور انتظام و انصرام میں مداخلت کرنے، سنسرشپ لگانے، اخبارات کی تقسیم اور ٹی وی کی نشریات بند کرنے سے روکا جا سکے گا؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کا واضح جواب عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ متقاضی ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے کسی بحث کا آغاز کر سکتی ہے۔ ایک ایسی کل جماعتی کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے جو ان تمام امور پہ قانون سازی مرتب کرکے پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کر سکے۔ کیا انسانی و شہری حقوق کی تنظیمیں، بار ایسوسی ایشنز اور میڈیا کی تنظیمیں اس فیصلے کی تکریم اور عملدرآمد کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں گی؟ بدقسمتی سے یہ لگتا ہے کہ کہیں عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ بھی صدا بہ صحرا ہو کے نہ رہ جائے۔ کاش عدلیہ اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے بھی کوئی بنچ بنا دیتی تاکہ تمام اداروں سے اس فیصلے پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کی جا سکتی اور اس کے احکامات اور ہدایات پر عمل درآمد ہو سکتا۔ ابھی تک ماورائے عدالت قتل کے مقدمات اور جبری غائب کردہ لوگوں کے مقدمات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی، حالانکہ عدلیہ اس بارے میں بار بار احکامات جاری کر چکی ہے۔ نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ لورالائی میں ایک پروفیسر ارمان لونی کے قتل پر تحقیقات تو کیا ہونی تھیں، وہ شہری جو اس سانحہ پہ احتجاج کرنے نکلے پورے ملک میں ان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ ساہیوال کے سانحہ پر انتظامیہ کھلے عام جرم پر پردہ ڈالنے پہ لگی ہوئی ہے اور ساہیوال کے مظلوم مقتولین کو انصاف دلانے کے لیے لاہور کے نوجوانوں نے اتوار کو (آج) مال روڈ پر بوقت ایک بجے شہری تحفظ مارچ کا اعلان کیا جانا تھا کہ پولیس نے اس کے رہنمائوں بشمول پروفیسر عمار جان کو گرفتار کر لیا۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہونے والے شہریوں کے ساتھ یہی سلوک کریں گے تو پھر کونسے حقوق و آزادیاں، کونسا قانون اور آئین کی کیسی حکمرانی؟
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ