بریکنگ نیوز

پی ٹی ایم اور منظور پشتین زیادتیاں کررہے ہیں

814123-TanveerQaiserShahidNEW-1494353826-333-160x120.jpg

تحریر : تنویر قیصر شاہد

11فروری2019ء کو ممتاز امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز“ نے منظور پشتین صاحب کا جو طویل آرٹیکل شائع کیا ہے، پڑھ کر رنج اور افسوس ہُوا ہے۔منظور پشتین پی ٹی ایم یعنی ”پشتون تحفظ موومنٹ“ کے بانی بھی ہیں اور سربراہ بھی۔ آرٹیکل مذکور میں اُنہوں نے بے بنیاد اور حقائق سے دُور باتیں لکھ ماری ہیں۔ اُن کا غصہ اور طیش بجا ہو سکتا ہے لیکن احساس یہ ہے کہ اُن کا اسلوبِ تحریر اور تحریر کے جملہ مندرجات پاکستان مخالف، منفی پروپیگنڈہ کی صف میں شامل ہیں۔ وہ اس آرٹیکل میں براہِ راست پاکستان کے حساس اداروں اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر حملہ آور ہُوئے ہیں۔ اس اسلوب اور طرزِ تحریر کی کسی بھی صورت میں ستائش اور تحسین نہیں کی جا سکتی۔ اُن کی مذکورہ تحریر سے دشمنانِ پاکستان تو خوب فائدہ اُٹھا سکتے ہیں لیکن یہ مضمون کسی بھی اعتبار سے پاکستان اور پشتون عوام کی خدمت نہیں ہے۔بھارت کو مگر اس آرٹیکل کی اشاعت سے مسرت ملی ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی ایم کو کہاں کہاں سے اعانت مل رہی ہے؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ منظور پشتین کے آرٹیکل پر تبصرہ کرتے ہُوئے معروف بھارتی اخبار ”دی ہندو“ نے اپنے صفحہ اول(12فروری2019ء کو) پر لکھا ہے کہ یہ آرٹیکل ”حقائق سے اتنا دُور تو نہیں ہے۔“
منظور پشتین نے ”نیویارک ٹائمز“ کے اپنے آرٹیکل میں پی ٹی ایم کی تشکیل اور تخلیق کے جو سبب اور وجوہات لکھی ہیں، دُور از حقیقت ہیں۔ یہ درست ہے کہ سابق ”فاٹا“ کے کئی علاقوں میں ملٹری آپریشنوں سے مقامی عوام، قبائل اور معیشت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ ان آپریشنوں کی وجہ سے مقامی آبادی کو مجبوراً نقل مکانی بھی کرنا پڑی، لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ انہی کامیاب ملٹری پریشنوں کی وجہ سے مجموعی طور پر ”فاٹا“ کے عوام کو کس احسن انداز میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی گرفت سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ کچھ پانے کیلئے کچھ کھونا تو پڑتا ہی ہے۔ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔ فاٹا کے مختلف علاقوں میں پناہ گیر شدت پسند، مسلح گروہ مقامی آبادی کیلئے مستقل عذاب بن گئے تھے۔ وہ ملک وقوم کے دشمن ہی نہیں تھے بلکہ غیر ملکی قوتوں کے آلہ کار بھی بن چکے تھے۔ اُن کا وجود فاٹا کے عوام اور خطے کیلئے انتہائی ضرر رساں بن گیا تھا۔ ان گروہوں اور جتھوں کی موجودگی میں فاٹا کے عوام کی جان، مال اور حرمت محفوظ نہیں تھی؛ چنانچہ اس خطے کو طاقت کے زور پر صاف اور خالی کرانا از بس ضروری ہو گیا تھا۔
پاکستان کی جری سیکورٹی فورسز اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ان کے خلاف بروئے کار آئیں اور اپنا خون دے کر انہیں وہاں سے بھگا دیا۔ یہ ایک بے مثال کامیابی اور شاندار فتح قرار دی گئی ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہماری افواج کی زیر نگرانی فاٹا کے متاثرہ علاقوں کی شاندار انداز میں تعمیرِ نَو کی گئی ہے۔ مقامی آبادی، جس کی بحالی مکمل ہو چکی ہے، نے اس تعمیر نو کی تحسین کی ہے۔ ساری دُنیا تو اس کی تحسین کر رہی ہے لیکن افسوس منظور پشتین، اُن کے حالی موالی اور پی ٹی ایم کے وابستگان ان کامیابیوں کی تحسین کرنے کی بجائے ان کے نقائص ڈھونڈنے میں اپنی توانائیاں صَرف کررہے ہیں۔ یہ وقت کا بھی ضیاع ہے اور قوم کو گمراہ کرنے کا ایک مہلک ہتھکنڈہ بھی۔ اِسے فوری رکنا چاہئے اور اس کی راہ میں بند باندھنا بھی ضروری ہے۔پی ٹی ایم کی سرگرمیوں اور بیانات سے بھارتی را، امریکی سی آئی اے اور افغانی این ڈی ایس کی خدمت تو ہو سکتی ہے، پاکستان اور پاکستانی عوام کی کوئی خدمت اور بھلا نہیں ہے۔ پشتونوں کے تحفظ کے نام پر جعلسازی کا راستہ روکا جانا چاہئے۔
منظور پشتین کا مذکورہ آرٹیکل شبہے اور دل آزاری سے خالی نہیں ہے۔ لگتا یوں ہے جیسے اِسے امریکیوں کی سرپرستی میں شائع کیا گیا ہے۔ منظور پشتین کی اپنی قابلیت، صلاحیت اور تعلیم ایسی نہیں ہے جو ایسا آرٹیکل خود لکھ سکیں کہ لکھنے لکھانے کا اُنہیں کبھی شوق رہا ہے نہ یہ اُن کا مشغلہ ہی ہے۔ یہ تحریر کسی اور کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس پردے کے پیچھے کوئی اور ہی بول رہا ہے۔ منظور پشتین نے ”نیویارک ٹائمز“ کے”اپنے“ آرٹیکل میں اپنی اور اپنی ”قوم“ کی ”مظلومیت اور بیچارگی“ کی جو کتھا اور کہانی لکھی ہے، کوئی بھی واقفِ احوال اس داستان پر یقین کرے گا نہ اسے سچ پر مبنی قرار دے سکتا ہے۔
صاف عیاں ہورہا ہے کہ ”پی ٹی ایم“ کی ڈوریاں سرحد پار سے ہلائی جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ”پی ٹی ایم“ کے مبینہ کارکن ارمان لونی کی پُراسرار موت پر افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا بیان۔ اِس سے پہلے کہ ارمان لونی کی موت کے حوالے سے کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آتی، افغان صدر نے جھٹ یہ بیان دے کر دراصل پاکستان کے اندرونی معاملات میں صریح دخل اندازی کی ہے۔ اس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی جانی چاہئے۔ اشرف غنی صاحب کو اگر انسانی حقوق کی پاسداری کا اتنا ہی خیال ہے تو وہ افغانستان کے ضلع ”سنگین“ میں افغان و امریکی فضائیہ کی معصوم افغانوں پر تازہ اندھا دھند بمباری پر خاموش کیوں رہے ہیں؟ اس بمباری میں 19پشتون(جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے) بے گناہ قتل کر ڈالے گئے ہیں لیکن اس کے خلاف نہ تو اشرف غنی کی زبان کھلی ہے اور نہ ہی منظور پشتین کی۔ پشتونوں کے حقوق کے علمدار یہ دونوں صاحبان ”سنگین“ کے خونی سانحہ پر منہ میں گھنگنیاں ڈالے رہے۔
پی ٹی ایم کی سرگرمیاں مشکوک بھی بن رہی ہیں اور مشتبہ بھی۔یہ سرگرمیاں فتنہ اور انتشار کا عنوان بن سکتی ہیں۔ ان میں فتنے کا پوٹینشل تو موجود ہے۔ وہ غیر ملکی میڈیا جو ہمہ وقت بوجوہ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کے خلاف کمر باندھے رہتا ہے، منظور پشتین اور پی ٹی ایم کا پشتی بان محسوس ہو رہا ہے۔ ممکن ہے ہمارا خیال بے بنیاد ہی ہو لیکن عنوانات تو اِسی امر کی چغلی کھا رہے ہیں۔ پی ٹی ایم کو وائس آف امریکہ، بی بی سی، مشعل، ریڈیو فری یورپ اور ڈیوا ٹی وی کی طرف سے جو بے محابہ کوریج مل رہی ہے، اس نے سارے پاکستانیوں کی نظر میں منظور پشتین اور پی ٹی ایم کو مشتبہ اور مشکوک بنا کر رکھ دیا ہے۔ ”ساتھ“ ایسے فورم اور ”ٹیگ ٹی وی“ کی طرف سے بھی پی ٹی ایم اور منظور پشتن کے باطل نقطہ نظر کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔”ٹیگ ٹی وی“ کا مبینہ مالک (طاہر اسلم گورا) کینیڈا میں بیٹھ کر پی ٹی ایم اور منظور پشتین کی حمائت کررہا ہے۔
طاہر اسلم گورا ماضی قریب میں لاہور کے لوئر مال روڈ پر کتابوں کی دکان چلایا کرتا تھا۔ پھر یہ وسط ایشیائی ریاستوں کی ایک ریاست میں منتقل ہو گیا اور وہاں ایک معمولی سا ریستوران چلاتا رہا ہے۔ وہیں سے یہ کینیڈا چلا گیا تھا۔ یہ اپنے چھوٹے سے نجی ٹی وی پر طارق فتح کے پاکستان مخالف انٹرویوز بھی نشر کرتا ہے۔ طارق فتح بھارتی نجی ٹی ویوں پر بھی پاکستان، اسلامی تاریخ ، قائد اعظم اور نظریہ پاکستان کے خلاف غیر مناسب اور دل آزار زبان استعمال کرتا رہتا ہے۔ بھارتی ادارے دانستہ اُسے پر موٹ کرتے ہیں تاکہ پاکستان کی توہین کی جا سکے۔بھارت پہنچ کر طارق فتح اور حسین حقانی بھی پاکستان اور پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف دریدہ دہنی کرتے سنائی دیتے رہتے ہیں۔ اِس ٹولے میں اب منظور پشتین بھی شامل ہو گیا ہے۔
منظور پشتین پشتونوں کے حقوق کے چیمپئن بننے کے متمنی ہیں تو اُنہیں شریفانہ طور پر اور آئینِ پاکستان کی حدود و قیود کی پاسداری کرنا ہو گی۔ کوئی بھی گروہ، تنظیم اور جماعت آئینِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کی حدود کو مسمار اور پامال کرکے نہ تو کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ پاکستانی عوام کے دلوں میں گھر کر سکتا ہے۔ یہ بات منظور پشتین اور پی ٹی آئی کو یاد رکھنی چاہئے۔ یاد رکھا جائے کہ کسی غیرکی خدمت کرکے اپنوں کی خدمت نہیں کی جا سکتی۔ کسی کی کٹھ پتلی بن کر اپنے چاہنے والوں کے دل میں جگہ نہیں بنائی جا سکتی۔ ایک دن تو یہ بھانڈا پھوٹنا ہی ہوتا ہے۔ تو کیوں نہ ابھی سے احتیاط کر لی جائے؟ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے شجر سے پیوستہ اور وابستہ رہ کر ہی اپنے حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ یہی پُر امن اور پائیدار راستہ ہے۔ منظور پشتین صاحب، آپ زیادتی نہ کریں۔ پلیز!!

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ