بریکنگ نیوز

چینی لوگوں میں قوتِ خرید تیزی سے بڑھ رہی ہے:۔ شماریاتی رپورٹ

(خصوصی رپورٹ):۔ چینی شہریوں میں ممکنہ فوائد ک احساس دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت مضبوط اور توانا ہے اس حوالے سے نیشنل بییورو آف اسٹیٹکس کی چین کی 2018کے حوالے سے جاری شماریاتی رپورٹ برائے نیشنل اکنامکس اینڈ سوشل ڈیویلپمینٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ چین نے گزشتہ برسوں میں توقعات کے مقابلے میں روزگار کے بہتر اور مستحکم زرایع حاصل کیئے ہیں اور مجموعی طور پر ملک کی GDPاور مقامی سطع پر لوگوں کی آمدنی میں مناسب اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے اور مختلف شعبوں اور انڈسٹریز کے حوالے سے توقعات کے مقابلے میں کھپت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اور اس ضمن می ٹوورازم، فٹنس، اور اس کیساتھ ساتھ فلم اور ٹی وی کے شعبوں میں بھی ماضی کے سالوں کے برعکس نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر چین میں لوگوں کے روزگار کا بڑا زریعہ ملازمت ہے دنیا میں معاشی بحران کے باوجود چین نے مقامی اور بین الاقوامی سطع پر مستحکم پیداواری عوامل اور اقتصادی صورتحال کو بہتر انداز میں یقینی بنایا ہے۔ تاہم اس حوالے سے چینی شہریوں کو دنیا کے دیگر ممالک کے شہریوں کے برعکس ملازمتوں اور دیگر معاشی حوالے سے کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ 2018کے حوالے سے جاری شماریاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں ملازمت پیشہ افراد کی تعداد 775.86ملین ریکارڈ کی گئی ہے۔ جس کی بڑی تعداد 434ملین ملازمت پیشہ افراد کا تعلق چین کے شہری علاقوں سے ہے۔ اور اس حوالے سے چین نے گزشتہ سال ملازمت کے حوالے سے قائم اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا ہے۔ اس حوالے سے چین کی وزارتِ انسانی وسائل اینڈ سوشل اسکیوریٹی کے ترجمان لؤ ایہانگ نے ملک میں متوازن ایمپلائمینٹ وسائل کو چین کی اقتسادی ڈیویلپمینٹ سے منسوب کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ملک میں مستحکم اقتصادی عوامل کی بدولت ملازمتوں کے حوالے سے کسی قسم کا دباؤ کسی بھی سطع پر سامنے نہیں آیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران چین کے مجموعی اقتصادی حجم میں 90ٹریلین یوآن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اور گزشتہ سالوں کے مقابلے میں چین میں معیشت کی شرح 2018میں 6.67فیصد اضافے کیساتھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے چین کی معیشت مں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے چین میں ممکنہ نئی ملازمتوں کے مواقع بھی تیزی سے پیدا ہو رہے ہیں ۔ جس سے ملک میں ایمپلائمینٹ گروتھ مستحکم انداز میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح مجموعی معاشی ترقی کیساتھ ساتھ چین میں مقامی رہائشی آبادی کے زرایع آمدن بھی مستحکم ہوئے ہیں لوگ بہتر اور متروازن انداز میں ایک خوشحال زندگی کی جانب بڑھ رہے ہیں اس ھوالے سے چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹیکس کی جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی فی کس آمدنی سال 2018کے دوران 28,228 یوآن ریکارڈ کی گئی ہے۔ جس میں گزشتہ سالوں کی نسبت 8.7فیصد اضافہ ریکاڑڈ کیاگیا ہے، دوسری جانب قیمتوں میں کمی کے حوالے سے کنزیومر پرائس انڈیکس اور جی ڈی پی کی شرح میں ایک مستحکم توازن ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ملک میں سوشل اسکیوریٹی کے وسائل میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مختلف انٹر پراسئز اور حکومتی اداروں سے ریٹائرڈ لوگوں کی پنشن اور دیگر بینیفٹس میں پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح سے گزشتہ چودہ سالوں سے اس شعبے کے ریتائرڈ ملازمین کی پنشنز اور دیگر بینیفٹس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس طرح سے چینی عوام کے سوشل سیکوریٹی اور متوازن اور مستحکم زرایع آمدن سے لوگوں کی قوتِ خرید میں بھی مناسب اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔اسی حوالے سے گزشتہ ایک سال کے دوران چین میں تیزی سے بڑھتی کھپت مارکیٹ مٰں اضافے سے بھی چینی معیشت پر مثبت اثرا ت مرتب ہوئے ہیں اور چینی معیشت بین الاقوامی سطع کیساتھ ساتھ مقامی سطع پر بھی ٖڈیلویمپمنٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 2018کے حوالے سے جاری اعدادوشمار کے مطابق چین میں گزشتہ سال ریٹیل سیل کا مجموعی حجم 38ٹریلین یوآن سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس تناظر میں عالمی معیشت جہاں زبوں حالی کا شکار ہے وہیں چین میں تیزی سے بڑھتی کھپت معاشی ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے ایک اہم ترین محرک ہے۔ جس سے نہ صرف مقامی مارکیٹ کے ممکنہ پوٹینشل میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عالمی مارکیٹ اور عالمی معیشت کے بڑحاؤ کو بھی ایک نئی تحریک حاصل ہو رہی ہے۔ دوسری جانب چین حالیہ سالوں میں ٹووورازم کے حوالیسے ایک نئی تیزی سے ابھرتی مارکیٹ کے طور پر دنیا میں اپنی پیچان بنانے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ چینی لوگ دنیا بھر کے مقابلے میں بیرونِ ملک جانیوالے سیاحوں کی تعداد کے حوالے سے سب سے زائد ہیں سال 2018میں روس میں منعقدہ فٹبال ورلڈ کپ کے دوران ایک لاکھ سے زائد چینی سیاح فٹبال ورلڈ کپ دیکھنے کی غرض سے روس گئے اس طرح سے اس ایونٹ کے حوالیسے بیرونی دنیا سے روس جانیوالے تین بڑے ممالک کی فہرست میں چین بھی شامل رہا ہے۔اسی طرح گزشتہ شاپنگ الیون کارنیول کے دوران جو نومبر میں منعقد ہوا صرف ایک گھنٹے کے دوران 10ملین یوآن جاپان کے کاؤ کاسمیٹیکس اور یوکے کے ڈائسن ہیر اسٹائلز کے لیے خرچ کیئے گئے ، اس حوالے سے معاشی جریدے بلومبرگ نے اپنے حالیہ شایع جریدے میں کہا ہے کہ چین ایک عالمی فیکٹری کی حیثیت سے تبدیل ہوکر آج ایک عالمی سپر مارکیٹ کا درجہ حاصل کر چکا ہے دنیا بھر کی مصنوعات چین میں سب سے بہتر اور پائیدار بزنسز حاصل کر رہی ہیں چینی لوگو ں کا معیارِ زندگی بہتر سے بہترین ہو رہا ہے چینی لوگوں کی قوتِ خرید میں تیزی سے اضافہ رہا ہے اور چین میں لوگ ٹووراز، فٹنس، شاپنگ اور مختلف شوز کیلئے خصوصی طور پر خرچ کرنے کی استطاعت میں اضافے کیساتھ دنیا بھر میں نمایاں ہیں اس طرح سے چین کی تیزی سے بڑھتی معیشت چینی لوگوں کے لیے خوشی، خوشحالی اور زیادہ فوائد کے حوالے سے اہم ترین معیشت کی حیثیت اختیار کر چکی ہے

شیئر کریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top

blog lam dep | toc dep | giam can nhanh

|

toc ngan dep 2016 | duong da dep | 999+ kieu vay dep 2016

| toc dep 2016 | du lichdia diem an uong

xem hai

the best premium magento themes

dat ten cho con

áo sơ mi nữ

giảm cân nhanh

kiểu tóc đẹp

đặt tên hay cho con

xu hướng thời trangPhunuso.vn

shop giày nữ

giày lười nữgiày thể thao nữthời trang f5Responsive WordPress Themenha cap 4 nong thonmau biet thu deptoc dephouse beautifulgiay the thao nugiay luoi nutạp chí phụ nữhardware resourcesshop giày lườithời trang nam hàn quốcgiày hàn quốcgiày nam 2015shop giày onlineáo sơ mi hàn quốcshop thời trang nam nữdiễn đàn người tiêu dùngdiễn đàn thời tranggiày thể thao nữ hcmphụ kiện thời trang giá rẻ